رمضان کے بعد شیطان سے ملاقات - صدام حسین

کل رات گئے شہر کی ایک ویران شاہراہ پر آوارہ گردی کرتے ایک پرانی حویلی کے پاس سے گزر ہوا تو ایک نہایت پر اسرار آواز سن کر میں ٹھٹھک گیا اور کان آواز پر لگا دیے۔ لگتا تھا جیسے کوئی کتا سخت خشک ہڈی چبانے کی تگ و دو کر رہا ہے یا پھر کوئی مردہ خلاف توقع ہڈیاں چٹخا چٹخا کر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ نامعلوم میں کب سے وہاں گھوم رہا تھا، چاند کب کا بادلوں کی اوٹ میں پردہ نشین ہو چکا تھا، چار سو خوفناک تاریکی کی چادر تنی تھی۔ ایسے میں اچانک اس پر اسرار آواز نے میرے رونگٹے کھڑے کردیے۔ کبھی کبھار کوئی گاڑی سڑک پر فراٹے بھرتی گزرتی تو چند لمحوں کے لیے پر اسرار خاموشی کا طلسم ٹوٹ جاتا۔ دور کہیں کسی قصائی کے بھٹے کے نیچے سے بلند ہوتی بھوکے کتے کی درد بھری ہوک اور پھر ایک روز قبل ہونے والی بارش کے بعد نکلنے والے مینڈکوں کے ٹرانے کی آواز نے مل کر رات کی پر اسرار یت کو اور گہرا کر دیا تھا۔ ماحول پر عجب پراسراریت طاری تھی جیسے کچھ ہونے والا ہو، یا جیسے کسی نے شہر پر کالا جادو کردیا ہو۔

ذہن عجیب و غریب خیالات کے شکنجے میں پھنس چکا تھا کہ اچانک ایک کریہہ المنظر مخلوق میرے مدِمقابل آ کھڑی ہوئی۔ خوف ناک اور پر ہیبت چہرہ، بڑے بڑے کان، سر سے فارغ البال مگر کسی بُل فائٹنگ کے خوفناک سانڈ جیسے سینگ۔ اس سے پہلے کہ میں الٹے پاؤں بھاگتا، اس کریہہ المنظر مخلوق کے بڑے اور بھدے ہونٹوں میں جنبش پیدا ہوئی اور اس کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی: “ڈرو نہیں، میں شیطان ہوں، شاید پہلے تم نے اصل شکل میں مجھے دیکھا نہیں اس لیے ڈر رہے ہو، لو میں انسان کی شکل میں بدل جاتا ہوں۔” یہ کہہ کر وہ مخلوق ایک دراز قد آدمی کی شکل میں میرے سامنے ایسادہ ہو گئی۔ “سناؤ کیسا گزرا آپکا مقدس مہینہ؟“ اس نے پہلا سوال داغا۔ اسے انسانی شکل میں دیکھ کر اور کچھ آیت الکرسی کے مسلسل ورد سے میں خود میں تھوڑی بہت ہمت مجتمع کر چکا تھا۔ لہذا اس کے سوال پر میری رمضان میں پڑھی گئی ساری نمازیں، قرآن کی تلاوتیں، زہد و تقویٰ، عبادات و پارسائی انگ انگ سے کشید ہو کر یکدم میری نوکِ زبان پر آ گئی۔ میں رمضان میں شیطان کی قید کے بعد مسلمانوں کے چاروں ہاتھوں سے نیکیاں سمیٹنے پر تقریر جھاڑنے ہی والا تھا کہ وہ بولا: “میں سمجھ گیا ہوں آپ کیا کہنا چاہتے ہو، میں قید تھا تو تم لوگوں نے کونسا تیر مار لیا، میں قید ہو کر بھی تم لوگوں کے درمیان ہی تھا، بلکہ اس مہینے میں تو مجھے پہلے سی جانفشانی سے کام بھی نہیں کرنا پڑتا، تم انسانوں میں موجود میرے شاگرد ہی کافی ہوتے تھے۔"

مجھے اس کی بات تو کسی قدر معقول لگی۔ میں نے کچھ بولنا چاہا تو شیطان میرا منہ کھولنے سے قبل ہی گویا ہوا کہ آؤ تمہیں حقیقت سے آشنا کراتا ہوں۔ وہ میرا ہاتھ پکڑکر فضا میں بلند ہو گیا، خوف و دہشت سے میرا کلیجہ حلق میں آگیا اور مجھے اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا۔

بھئی تم انسان میری سمجھ سے بالا ہو، ہر وہ کام کیے دیتے ہو جو میں نے تم سے کروانے کا ازل میں تہیہ کیا تھا۔ جس کی پاداش میں مجھے خدا کے دربار سے دیس نکالا ملا۔ جس کے لیے میں لعین ٹھہرا۔

سب سے پہلے وہ مجھے ایک تاجر کی دکان پر لے گیا اور دکان کے پچھلے حصے کا منظر دِکھایا جہاں کچھ لوگ بیٹھے مرچوں میں اینٹوں کا برادہ، بیسن میں مکئی کا آٹا، اور دیگر چیزوں میں ملاوٹ میں مصروف تھے۔ شیطان نے کہا کہ رمضان میں یہ دھندہ کئی گنا تیز رفتاری سے جاری تھا۔ بغل والے مکان میں ایک شِیر فروش کھاد، سرف، لاشوں کو محفوظ کرنے والا کیمیکل اور پتا نہیں کون کونسے زہریلے اجزاء دودھ میں ملا کر اس کا ذائقہ اور رنگ دوبالا کر کے قوم کی غائبانہ خدمت میں مصروف تھا۔ ساتھ والے ریڑھی بان کی بیٹی آج ہی اسپتال میں عطائی ڈاکٹر کے ہاتھوں جعلی انجکشن لگنے سے بستر مرگ پر پڑی کراہ رہی تھی۔ سب مناظر دیکھ کر میرا دل کھٹا ہو گیا اور میرے چہرے سے ٹپکتی شرمندگی شاید اس نے بھی دیکھ لی۔ اس کے ہونٹوں پر فاخرانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   سوئے رہنا، کچھ نہ کہنا - سارہ رحیم

اس چاند ماری کے بعد وہ مجھے شادی کی ایک تقریب میں لے گیا۔ میں سمجھا شاید اس کی بھوک پھر سے چمک اٹھی تھی۔ مگر میرا یہ خیال خام ثابت ہوا۔ شیطان گویا ہوا کہ بھئی تم انسان بھی عجیب مخلوق ہو، احساس سے عاری، سنگدل، اپنی خواہشوں کے ساتھ جینے والے۔ گھر میں کھانے کو بے شک سوکھی روٹی نہ ہو مگر یہاں اس قدر اسراف، دکھاوا، فضول خرچی بلکہ شاہ خرچی کرتے ہو کہ میں بھی شرما کر اپنے بچوں کو چھپا دیتا ہوں کہ تم لوگوں کی حرکتیں دیکھ کر بگڑ نہ جائیں۔ تم اپنی چادر میں پاؤں اتنے پھیلاتے ہو کہ سر ہمیشہ ننگا رہتا ہے یا چادر میں ہی چھید ہو جاتے ہیں۔ اس شادی کے اجتماع کے باہر پندرہ بیس بھوکے ننگے کم عمر بچے نہیں دیکھےکیا؟ جن کے پیٹ بھوک کی وجہ سے کمر سے جا لگے ہیں۔ کوئی دو نوالے کھانا انہیں دینے کا روادار نہیں مگر ضائع جی بھر کر کرتے ہو۔ وہ فاقہ زدہ بچے یونہی دور کھڑے میل بھری سوکھی انگلیاں دانتوں میں دابے، حسرت و یاس اور ترسی نگاہوں سے اس عظیم الشاں شادی کے جشن کو دیکھ کر اپنا فاقہ زدہ پیٹ تھام کر چل دیں گے۔

یہاں سے پاس ہی ایک زاہد و عابد کا ڈیرہ تھا۔ وہ مجھے کھینچ کھانچ کر وہاں لے گیا۔ ڈیرے کی پیشانی پر مالک کے نام سے پہلے حاجی کے الفاظ آنکھیں چندیا رہے تھے۔ مجھے تعجب ہوا کہ عبادت گزار اور پارسا حاجی صاحب کے ڈیرے پر شیطان کا کیا کام؟ مگر اس نے میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی سامنے کی طرف اشارہ کیا جہاں بڑی سی چارپائی پر شان بے نیازی سے پاؤں پسارے، سر پر حاجی صاحب کا طرہ سجائے ایک تسبیح پھیرتا شخص براجمان تھا۔ عمر رسیدگی کی وجہ سے چہرے پر جھریاں سوکھے انگوروں کے گچھوں کی طرح لٹک رہی تھیں۔ اس کی جانب اشارہ کرکے شیطان بولا کہ حاجی صاحب کے پاس خدا کا دیا سب کچھ ہے، لاکھوں میں کھیلتے ہیں، اپنے زہد وتقویٰ پر بڑا مان ہے، رمضان کا آخری عشرہ حرم شریف میں گزارتے ہیں، ہر سال دو سال بعد حج کو جاتے ہیں اور اب تک بلا مبالغہ سات حج اور کئی عمرے کر چکے ہیں، مگر اکلوتی بیٹی نے جائیداد میں سے اپنا جائز حصہ مانگ لیا تو حاجی صاحب کی پارسائی کا بت پاش پاش ہو گیا۔ سخت ناراض ہوئے اور سالوں سے بیٹی کا منہ نہیں دیکھا مگر حج اور عمرے بدستور جاری ہیں، اس رمضان بھی آخری عشرہ حرم شریف میں گزار کے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ناروے کا افسوسناک واقعہ ، ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آصف لقمان قاضی

اتنا کہہ کر شیطان مجھے ڈیرے سے متصل ایک بوسیدہ اور خستہ حال دیواروں والے ایک کچے اور بظاہر کھنڈر سے گھر میں لے گیا، یہ کسی بیوہ کا مکان تھا، جس کے یکے بعد دیگرے سات بیٹیاں تھیں، دوا دارو کی چٹکی کو ترستی ماں بیمار ہو کر بستر سے جا لگی تھی۔ بڑی چار بیٹیوں کے سروں میں زمانے کی گردش کے ساتھ چاندی اتر رہی تھی۔ شیطان گویا ہوا کہ بھئی دیکھ، اس بی بی کی بیٹیاں غربت اور کسمپرسی کی وجہ سے گھر بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں اور کوئی شادی کرنے کو تیار نہیں، حاجی صاحب کو اپنے ایک آدھ حج یا عمرے کی رقم انہیں دے کر کبھی حق ہمسائیگی بھولے سے بھی اداکرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔

اس کے بعد وہ مجھے لاہور کی ایک مسجد میں لے گیا۔ اندر داخل ہونے سے تو احتراز برتا مگر مسجد کے پاس کھڑا ہو کر بتانے لگا کہ یہ جو امام صاحب ہیں نورانی چہرے والے، ابھی کل ہی عید کے چاند کے مسئلے پر ساتھ والے محلے مخالف فرقے کے والوں سے لڑ بھڑ کر انہیں کافر، واجب القتل اور پکا بلاحسابی جہنمی قرار دے چکے ہیں۔ بھئی مجھے تو اب ریٹائرمنٹ پر غور کرنا چاہیے! میرے سارے کام تو تم لوگ بخیرو خوبی انجام دے رہے ہو، میں سوچتا ہوں، کہیں ملازم ہو جآؤں تاکہ کوڑے کے ڈھیروں سے ہڈیاں اٹھا کر نہ چبانی پڑیں۔

اس کے بعد وہ مجھے لاہور سے نکال کہیں لمبی پرواز پر روانہ ہوگیا۔ ہمارے نیچے میدانی علاقہ ختم ہو اتو پہاڑی علاقہ شروع ہو گیا۔ بالآخر گھنے درختوں سے گھرے ایک قطعہ زمین پر اس نے لینڈنگ کی۔ میں نے یہ علاقہ فقط تصویروں میں دیکھ رکھا تھا۔ خوبصورت، طراوت بخش مناظر! پر اب تو یہ کوئی مقتل گاہ تھی۔ انسانوں کی مقتل گاہ۔ یہاں کچھ دِن قبل ایک قیامت گزر چکی تھی جس کے آثار اب بھی باقی تھے۔ جسموں کے چھیتھڑے ادھر ادھر بکھرے تھے، فضا میں خون کی بساند اور جلے ہوئے جسموں کی بو پھیلی تھی۔ سانس لینا دشوار تھا۔ میں سمجھ گیا یہ پارا چنار تھا۔ شیطان گویا ہوا کہ بھئی دیکھ لو یہ سب مسلمان اور روزے دار تھے۔ کوئی حوروں اور جنت کا طالب آکر ان کے درمیان پھٹا اور پھرسبز چناروں کے بھی آنسو بہہ نکلے۔ بھئی تم انسان میری سمجھ سے بالا ہو، ہر وہ کام کیے دیتے ہو جو میں نے تم سے کروانے کا ازل میں تہیہ کیا تھا۔ جس کی پاداش میں مجھے خدا کے دربار سے دیس نکالا ملا۔ جس کے لیے میں لعین ٹھہرا۔ پر میں تو شرمندہ ہوتا ہوں اب اس اشرف لمخلوقات نامی مخلوق کے کارنامے دیکھ کر ۔تم انسان ایک دوسرے کو زندہ رہنے کا حق دینے کو تیار نہیں ہو۔ اس کی باتیں سن کر میرے وجود کا اشرف المخلوقات کا بت دھڑام سے میرے قدموں میں آن گرا اور پاش پاش ہو گیا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ غائب ہو چکا تھا۔