چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی فتح کے پیچھے خفیہ ہاتھ - عمران زاہد

ہم چیمپئنز ٹرافی کی اس فتح پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ جن لوگوں نے اس فتح کے لیے بےعیب منصوبہ بنایا اوراس منصوبے پر عمل کے لیے جان توڑ محنت کی، وہ بھی مبارکباد اور قوم کی شاباش کے مستحق ہیں۔

حالیہ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی برطانیہ سے فتح کے بعد سے ہی میچ فکسنگ کے الزامات لگنے شروع ہوگئے تھے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان اور بھارت کو فائنل میں آمنے سامنے لانے کے لیے برطانوی ٹیم جان بوجھ کر سیمی فائنل ہاری کیونکہ اس طرح سے انھیں برطانوی کرکٹ بورڈ کے لیے زیادہ آمدن کی توقع تھی۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل نے بھی ایک ٹی وی مذاکرے کے دوران اس امر کی طرف اشارہ کیا تھا، گو وہ کھل کر کوئی بات نہیں کر سکے تھے۔ چلیں پاکستان برطانیہ سے تو میچ فکس ہونے کی وجہ سے جیت گیا، لیکن بھارت سے کیسے جیتا؟ اس پر بھی بعض تجزیہ کاروں کے تحفظات ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ میاں نوازشریف اور مودی کے درمیان کشمیر پر ڈیل ہوئی ہے، کہ پاکستان آئندہ کہیں بھی کشمیر کا ذکر نہیں کرے گا، اس کے عوض چیمپئنز ٹرافی پاکستان کی گود میں ڈال دی گئی ہے

ان تجزیہ کاروں کے خیال میں جب چون 54 کے سکور پر چھ بھارتی کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے، اس وقت پاکستان سو سے کم سکور پر پوری بھارتی ٹیم کو گھر بھیج سکتا تھا لیکن اس سے میچ فکسنگ کا راز فاش ہونے کا امکان تھا، لہٰذا پاکستان نے جان بوجھ کر محمد عامر یا جنید خان اور حسن علی سے گیند کروانے کے بجائے پانڈیا کو سپنرز سے گیند کروائی، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ پانڈیا اسپنرز کو بہت اچھا کھیلتا ہے۔

میاں نوازشریف اور مودی کے درمیان کشمیر پر ڈیل ہوئی ہے، کہ پاکستان آئندہ کہیں بھی کشمیر کا ذکر نہیں کرے گا، اس کے عوض چیمپئنز ٹرافی پاکستان کی گود میں ڈال دی گئی ہے۔

ہم ان تمام خیالات کو کلیتاً رد نہیں کرتے لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ اندر کی بات کا عامر سہیل سمیت کسی کو نہیں پتہ۔ آج پہلی دفعہ یہ راز ہم افشاء کر رہے ہیں۔ اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ پاکستان کی فتح میں کس کا کردار سب سے زیادہ تھا تو ہم ذاتی معلومات کی بناء پر بلاتوقف کہیں گے، میاں محمد نواز شریف، وزیرِاعظم پاکستان۔ چلیں ساری بات شروع سے بیان کرتے ہیں۔

میاں نوازشریف کی شروع دن سے خواہش تھی کہ جس طرح سے ان کے دور میں پاکستان نے بانوے کا کرکٹ ورلڈکپ جیتا تھا، اسی طرح اس کے موجودہ دورمیں پاکستان کرکٹ کی چیمپئنز ٹرافی اور اگلے دور میں دوبارہ سے ورلڈ کپ جیتے۔ یہاں یہ بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ میاں نوازشریف سکول اور کالج کے دنوں سے کرکٹ کے دیوانے ہیں۔ ان کی کرکٹ سے محبت کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہوگا کہ قدرت نے ان کی اپوزیشن کے لیے بھی ایک سابق کرکٹر کو پسند کیا ہے اور اس کی تمام تر تنقید کو میاں صاحب نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں۔ یہ رتبہ بلند جس کو مل گیا۔ لیکن یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ میاں صاحب کے کرکٹ کے حوالے سے اقدامات کے پیچھے کرکٹ سے ان کے لگاؤ کے علاوہ بھی بہت کچھ تھا جس کا ذکر آگے کہیں آئے گا۔ لیکن اس تمام عمل میں میاں صاحب کی حکمت عملی اس قدر پراسرار، پیچیدہ اور کامیاب ہے کہ یہ تاریخ کی کتابوں میں جنرل محمد ضیاءالحق مرحوم کی کامیاب کرکٹ ڈپلومیسی کی طرح امر ہو جائے گی۔

اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے میاں صاحب نے حکومت سنبھالنے سے بھی پہلے ایک منصوبہ بنا لیا تھا۔ اس منصوبے کا پہلا جزو یہ تھا کہ کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ ایسی چنی جائے جو بھارت دوستی میں معروف ہو، جسے بھارتی حکومت اور میڈیا میں اثرورسوخ حاصل ہو۔ ان کی نظر میں نجم عزیز سیٹھی بہترین امیدوار تھے۔ نجم سیٹھی اس سے پہلے پنجاب کی عبوری حکومت میں وزیرِاعلٰی کے فرائض انجام دیکر میاں صاحب کا دل جیت چکے تھے۔ نجم سیٹھی کی بطور چئیرمین تعیناتی کے احکامات کو جب عدالت نے دو دفعہ معطل کیا تو پلان بی کو بروئے کار لاتے ہوئے اسی عہدے کے لیے متحدہ ہندوستان کی ریاست بھوپال کے سابق شہزادے اور حکومتِ پاکستان کے ریٹائرڈ سیکرٹری خارجہ شہریار احمد خان کو منتخب کیا گیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ کرکٹ بورڈ کے آئین میں موجود گنجائش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بورڈ آف گورنرز کے تحت ایگزیکٹو کمیٹی کا چئیرمین نجم سیٹھی کو بنوا دیا گیا۔ شاید بہت سوں کو نہ پتہ ہو کہ اس کرکٹ بورڈ میں اس کمیٹی کے علاوہ بہت سی اور کمیٹیاں بھی موجود ہیں جن کے سربراہ جانے پہچانے لوگ ہیں۔ اس انتظامیہ نے جہاں پاکستان میں کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنے کے لیے اہم اقدامات اٹھائے جیسے کہ پاکستان سپر لیگ کا اجراء، وہاں بھارتی کرکٹ بورڈ کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے لیے بگ تھری کے حق میں ووٹ ڈالا۔ قریباً عالمی کرکٹ کے ہر معاملے میں بھارتی مؤقف کی تائید کی۔ یہ الگ بات ہے کہ سیاسی مجبوریوں کے سبب اعتماد سازی کے یہ اقدامات پاکستان اور انڈیا کی سیریز منعقد نہ کروا سکے۔

کرکٹ بورڈ کا انتظام طے کرنے کے بعد میاں نوازشریف نے بھارتی انتظامیہ سے ذاتی تعلقات کو بڑھانے کے لیے ہر ہر موقع کا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ان کی حکمت عملی کا دوسرا اور سب سے اہم جزو تھا۔ نومنتخب بھارتی وزیراعظم مودی جی نے جب اپنے حلف برداری کی تقریب میں میاں صاحب کو مدعو کیا تو بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ میاں صاحب پوری تیاری کے ساتھ دلی جا پہنچے۔ اس دورے کے دوران میاں صاحب نے بھارتی وزیرِاعظم کے ساتھ ذاتی تعلقات کو استوار کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے دورپار کے کاروباری ساتھی جندال کے ساتھ بھی یاری گانٹھ لی۔ یہ یاد رہے کہ اُس وقت مودی کی عمومی شہرت اچھی نہیں تھی، اس کے گجرات کے دورِ وزارتِ اعلٰی میں مسلم کش فسادات کے بعد امریکہ سمیت بہت سے ممالک میں اس کا داخلہ بند تھا۔ لیکن میاں نوازشریف کے مقصد کے حصول کے لیے ایسے داغ دار ماضی والے کردار بہت اہم ہوتے ہیں۔ وہ ایسے لوگوں کی دل جوئی کر کے ہی اپنا کام نکلواتے ہیں۔ دلی کے محاورے میں کہتے ہیں کہ ٹھنڈا لوہا گرم لوہے کو کاٹتا ہے۔ شاید قارئین کو یاد ہو کہ امریکی صدر کلنٹن پر جب مونیکا لیونسکی کے معاملے الزامات لگے تھے اور تحقیقات ہو رہی تھیں، تو میاں صاحب دنیا کے ان چند حکومتی سربراہان میں سے تھے جنہوں نے کلنٹن کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا تھا اور انہیں ذاتی طور پر فون کر کے اپنی نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا تھا۔ اپنے اس حسنِ عمل کا صلہ انہوں نے اس وقت پایا جب وہ خود مشرف کی قید میں تھے۔ کلنٹن کی واضح تنبیہ کی وجہ سے مشرف اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود میاں نوازشریف کو سولی پر چڑھانے سے باز رہے۔

بھارت سے تعلقات کے حوالے سے کافی ساری باتیں تو منظرِعام پر ہیں لیکن بہت سے راز پوشیدہ بھی ہیں۔ جیسے یہ سب جانتے ہیں کہ میاں صاحب نے مودی کو اس کی والدہ کے لیے ساڑھی اور آم بھیجے۔ اور اپنی نواسی کی شادی میں مودی کو بمع اس کے سرکاری افسروں کے مدعو کیا اور بھرپور پروٹوکول دیا اور انھیں بیش قیمت تحائف نذر کیے۔ لیکن یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جب جب میاں نوازشریف کو اندرونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تو آنکھ کے اشارے سے بھارتی سینا کو سرحدوں پر سرگرم کر دیا گیا۔ سیاسی لیڈرشپ کی عسکری اسٹیبلشمنٹ کو مصروف رکھنے کی یہ ترکیب برصغیر کے قدیم سیاسی گرو چانکیہ کوٹلیہ کے افکار سے مشتق ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں تحقیق کرنے والے بہت سے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ 1965ء کی جنگ کے پیچھے بھی ہمارے کچھ سیاسی راہنماؤں اور صفِ دوم کے جرنیلوں کی سازش کارفرما تھی۔ مقصد یہی تھا کہ اس جنگ کے ذریعے مارشل لاء حکومت کو کمزور کیا جائے اور گھر کا رستہ دکھایا جائے۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی تھی کہ ان کا یہ وار اوچھا پڑا اور پاکستانی فوج بہت سی قربانیوں کے بعد اپنی سرحدوں کا دفاع کرنے میں کامیاب رہی۔ گو بعد میں معاہدہ تاشقند کے بعد اس سازش کو بروئے کار لایا گیا اور فیلڈ مارشل ایوب خان کو اتنا بدنام کر دیا گیا کہ انہیں حکومت چھوڑتے ہی بنی۔ یہ الگ بات ہے کہ اقتدار کا کھیل اتنا بےرحم رہا کہ ان سیاسی کرداروں کو حکومت میں اپنا حصہ پانے کے لیے پاکستان کے ٹکڑے کرنے پڑے۔

یہ بھی پڑھیں:   نیو ورلڈ آرڈر اور پاکستان - فائزہ فرید

نوازشریف بنیادی طور پر ایک بزنس مین ہیں۔ ان کی ساری عمر خریدوفروخت میں گزری ہے۔ پہلے اباجی کے ساتھ کاروباری اشیاء کو ڈیل کرنا سیکھا۔ پھر اسٹیبلشمنٹ کی راہنمائی میں سیاستدانوں کو ڈیل کرنا سیکھا۔ قارئین کو چھانگا مانگا تو یاد ہی ہوگا۔ میاں صاحب کا یہ ہنر اس قدر چمک گیا کہ ایک وقت ایسا آیا کہ میاں صاحب نے اسٹیبلشمنٹ کو ہی خرید لیا۔ بلی نے شیر کو سارے گر سکھا دیے اور شیر نے وہ گر اپنی خالہ پر ہی آزما ڈالے۔ میاں صاحب نے اپنی اسی ہنر کے تحت غریب پس منظر والے مودی پر بھی ڈورے ڈالنے شروع کیے۔ مودی میاں نوازشریف کے شاہانہ طرزِ زندگی سے بہت متاثر ہوا۔ میاں صاحب نے مودی جی پر ایسا اچھا تاثر چھوڑا کہ مودی صاحب بالکل بھائیوں کی طرح اعتماد کرنے لگے۔ میاں صاحب کے مداح ان کے اس فن کو آرٹ آف میکنگ فرینڈز یعنی دوست بنانے کا فن کہتے ہیں۔ قارئین کو یاد ہی ہوگا کہ پچھلے دورِ حکومت میں میاں صاحب نے واجپائی صاحب کو بھی اپنے انھی ہتھکنڈوں سے رام کیا تھا۔ ان کے ذاتی تعلقات کا یہ عالم تھا کہ جب واجپائی صاحب نے فون کر کے میاں صاحب کو کارگل کے حملے کی اطلاع کی تو میاں صاحب نے یوں ظاہر کیا کہ گویا وہ اس سے پہلے مکمل طور پر بے خبر تھے، اور انہیں یہ اطلاع واجپائی صاحب سے ہی ملی ہے۔

مودی جی کے ساتھ تعلقات میں جلد ہی ایک اہم موڑ آ گیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ستمبر 2014ء میں (عمران خان اور طاہر القادری صاحبان کے دھرنوں کے دوران) چینی صدر نے قریباً ساٹھ سالوں کے بعد بھارت کا دورہ کیا تھا جس کے دوران بیس بلین ڈالر سے زیادہ کے معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے۔ چینی افواج کو بھارتی سرحدوں سے ہٹا لیا گیا تھا اور صرف اس ایک سال میں بھارت اور چین کے درمیان کاروبار کی سطح ستر بلین ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ اتنے شاندار اور کامیاب دورے کے باوجود چینی صدر نے واپس جاتے ہی چند ہی ہفتوں میں بھارتی سرحد پر فوجوں کی تعداد پہلے سے بھی زیادہ کر دی تھی۔ بھارتی اور عالمی میڈیا نے اس دورے کو بہت اہمیت دی تھی اور مودی جی کی بہت واہ واہ ہوئی تھی۔ لیکن دورے کا اثر اتنی جلدی زائل ہونے پر مودی صاحب کافی پریشان تھے، کیونکہ میڈیا نے ان کی کافی کھنچائی شروع کر دی تھی۔ انہوں دو ماہ بعد دسمبر میں ہونے والی سارک کانفرنس، جو نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ہوئی، میں میاں صاحب کے ساتھ قریباً ایک گھنٹہ کی خفیہ ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کا ذکر کبھی خبروں میں نہیں آیا۔ بہت مہینوں کے بعد پاکستانی میڈیا میں اس ملاقات کا بھانڈا بھارتی میڈیا کے ذریعے پھوٹا۔ پھر بھی صحافتی ذرائع آج تک اندھیرے میں ہیں کہ اس خفیہ ملاقات میں کیا ہوا تھا۔ آج پہلی دفعہ مکمل طور پر اپنے ذاتی ذرائع کو بروئے کار لا کر ہم یہ انکشاف کر رہے ہیں کہ اس میٹنگ میں کیا ہوا تھا۔ مودی جی نے میاں صاحب سے چین کے ساتھ تعلقات کے ضمن میں مشورہ کیا تھا۔ میاں صاحب نے اپنے دوست بنانے والے ہنر کو بروئے کار لاتے ہوئے مودی جی کو وہ مشورے دیے کہ نہ صوف مودی کی زندگی بدل گئی بلکہ وہ ساری عمر کے لیے میاں صاحب کا مداح بھی بن گیا۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ اگلے مہینے جنوری میں ہی اوبامہ کا وہ مشہورِ زمانہ دورہ تھا جس میں اوبامہ کو بھارتی ثقافت کا جلوہ دکھایا گیا تھا، مودی نے حیدرآباد ہاؤس کے لان میں اوبامہ کی پیالی میں اپنے ہاتھ سے چائے ڈالی تھی اور گھنٹہ بھر وہاں تنہائی میں رازونیاز کیے تھے۔ اصطلاحاً دو افراد میں ایسی ملاقات کو ٹیٹاٹیٹ (tête-à-tête) کہتے ہیں۔ اس دورے کے دوران مشعل اوبامہ کے ایک سکول میں بچوں کے ساتھ ڈانس کو بھی بہت شہرت ملی تھی۔ اس دورے کے دوران جہاں بھارتی میڈیا مودی پر صدقے واری جا رہا تھا وہاں اس پر واحد تنقید اس کے سونے کے تاروں والے لباس پر ہوئی تھی۔ پورے لباس پر سونے کے تاروں سے مودی کا نام بُنا گیا تھا۔ اس لباس کو بعد میں نیلام کیا گیا تو قریباً چار کروڑ روپے حاصل ہوئے تھے۔ گینیز بک میں سب سے مہنگے لباس کے طور پر اسے درج کیا گیا ہے۔ قارئین، یہ وہ لباس ہے جس کا مشورہ نوازشریف نے مودی کو کھٹمنڈو میں دیا تھا بلکہ خود بنوا کر بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس لباس کو فیصل آباد کی ایک مشہور ٹیکسٹائیل مل میں اپنے جارحانہ بیانات کے لیے مشہور ایک وزیر کی زیرنگرانی بنوا کر بھارت بھجوایا گیا تھا۔ اور بھجوانے کے لیے ایساانتظام کیاگیا تھا کہ دنیا بھر کے خفیہ ادارے اس پیکٹ کے متعلق مکمل طور پر بے خبر رہے۔ میاں صاحب نے یہ پیکٹ اپنی شوگر مل میں کام کرنے والے ایک انجینئر کے عام سے کیری بیگ میں رکھوا کر براستہ واہگہ بارڈر بھجوا دیا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ وہی انجینئر تھا جس کا نام طاہر القادری کی اس فہرست میں چوتھے نمبر پر درج ہے جو انہوں نے اسلام آباد دھرنے کے دوران غداری کے الزامات کے تحت لہرائی تھی۔

اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ اس لباس کے ملتے ہی مودی جی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ مودی جی اس لباس کو پہن کر شیشے کے سامنے کھڑے رہتے اور خود ہی اپنے آپ پر نثار ہوتے رہتے اور دل ہی دل میں میاں نوازشریف کی بلائیں لیتے نہ تھکتے۔ اوبامہ کے دورے کے دوران اس لباس نے جہاں مودی کی ذاتی خوداعتمادی میں اضافہ کیا وہاں اوبامہ جی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اوبامہ کا دل اتنا للچایا کہ انہوں نے کمرے میں جا کر مودی جی سے ان کی شیروانی اتروا کر خود پہن کر دیکھی اور مسحور ہو کر کہا کہ کیا یہ خلعتِ فاخرہ اسے نہیں مل سکتی ہے۔ مودی جی نے اس لباس کو بطور تحفہ دینے کا بہت زور لگایا لیکن اوبامہ ایک اصول پرست شخص تھا، نہیں مانا۔ اگر اسے امریکہ میں سیاسی مخالفین کے اعتراض کا ڈر نہ ہوتا تو وہ یقیناً اپنے دل کی خواہش پوری کر لیتا۔

میاں صاحب نے اپنی خاندانی مشاورتی کونسل کا اجلاس بلا کر اس دس ارب کو ٹھکانے لگانے کے لیے مشاورت کی تو میاں صاحب کے قریب ترین ہستی جسے ان کے بعد ان کا متبادل بھی سمجھا جا رہا ہے، نے اس رقم کو کرکٹ چیمپئنز ٹرافی میں انویسٹ کرنے کا مشورہ دیا۔

درمیان کی ساری کہانی کوگول کرتے ہوئے براہ راست کرکٹ چیمپئنز ٹرافی 2017ء پر آتے ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ مبینہ طور پر کسی نامعلوم شخص نے عمران خان صاحب کو پانامہ لیکس کے معاملے میں منہ بند رکھنے کے لیے دس ارب روپے کی پیشکش کی تھی۔ اس ضمن میں بہت سی متضاد اطلاعات گردش میں ہیں۔ کچھ لوگ عمران خان صاحب کے اس دعوے کو مکمل طور پر رد کر تے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو میاں نوازشریف کے ماضی اور دوست بنانے کی صلاحیت کے پیش نظر اس الزام میں وزن نظر آتا ہے۔ ہم نے اپنے خاص ذرائع سے معلومات اکٹھی کیں تو حیرت انگیز انکشافات ہوئے۔ بڑے بوڑھوں کے دور سے بنے ہوئے محاورے آج تک کارآمد ہیں۔ کہتے ہیں کہ قاضی کے گھر کے چوہے بھی سیانے ہوتے ہیں۔ میاں صاحب کا وہ خاص خانساماں جو میاں صاحب کے لیے ان کے پسندیدہ ڈشز بنانے میں کے علاوہ ان کے مزاج میں بھی خاصا رسوخ رکھتا تھا، سعودیہ سے جلاوطنی ختم کرنے کے بعد واپس لوٹا تو خانساماں کا کام چھوڑ کر میاں صاحب کا فرنٹ مین بن گیا تھا۔ میاں صاحب اپنے خاص الخاص کاموں کے لیے اسی کو زحمت دیتے تھے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ جب میاں صاحب پر پانامہ لیکس کا کڑا وقت آیا تو اس نے، میاں صاحب کا نام استعمال کر کے، ان کے خاندان اور دوستوں سے کافی رقم اکٹھی کی اور اسے لیکر عمران خان صاحب کے پاس دس ارب کے عوض خاموشی کی ڈیل لیکر حاضر ہو گیا۔ وہ شخص شاید اس طرح سے میاں صاحب سے اپنی وفاداری جتانا چاہتا تھا۔ خان صاحب نے کافی عرصے تک اس معاملے کو ٹالا اور آخر ایک دن میڈیا میں بھانڈا پھوڑ دیا۔ اب ذرائع یہاں پر مکمل طور پر الجھن کا شکار ہیں کیونکہ عمران خان صاحب نے اپنے بیان میں اس آفر لانے والے شخص کو اپنا دوست قرار دیا تھا۔ ممکن ہے کہ عمران خان صاحب جیسے نوازشریف کے قربت رکھنے والے پرانے رہنماؤں کو اپنی ٹیم کا حصہ بناتے رہے ہیں تاکہ نوازشریف کے زیادہ سے زیادہ سے پول کھولے جا سکیں، ویسی ہی کسی خواہش کے زیرِ اثر میاں نوازشریف کے سابق گھریلو نوکروں کو بھی اپنے قریب لا رہے ہیں۔ بہرحال، یہ وہ موضوع ہے جس پر ذرائع اپنے اپنے طور پر تحقیقات کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنی اپنی ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں لیکن حقیقی خبر صرف ہمارے پاس ہے۔ ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ اکٹھی ہونے والی رقم دس ارب سے کہیں زیادہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کی افسوسناک شکست -

میڈیا میں دس ارب روپے کی خبر آنے کے بعد میاں صاحب نے اس شخص کو بلایا اور اچھی خاصی سرزنش کی اور اس سے وہ ساری رقم طلب کر لی جو اسے دیتے ہی بنی۔ میاں صاحب نے اپنی خاندانی مشاورتی کونسل کا اجلاس بلا کر اس دس ارب کو ٹھکانے لگانے کے لیے مشاورت کی تو میاں صاحب کے قریب ترین ہستی جسے ان کے بعد ان کا متبادل بھی سمجھا جا رہا ہے، نے اس رقم کو کرکٹ چیمپئنز ٹرافی میں انویسٹ کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کے خیال میں پاکستانی ٹیم کی فتح کا مکمل سیاسی فائدہ حکومت کو ہوتا اور حکومت مخالف عناصر کو دھچکا پہنچتا (جیسا کہ ثابت ہوا کہ ایسا ہی ہوا)۔ مکمل غور و فکر کرنے کے بعد میاں صاحب نے اس مشورے پر صاد کیا اور اس رقم کے دو حصے کیے۔ ایک حصہ کراچی میں مقیم ایک ایسے شخص کے حوالے کیا جسے بھارت میں بہت شہرت حاصل ہے اور اس پر کئی فلمیں بھی بن چکی ہیں۔ وہ شخص زیرِ زمین دنیا کا بادشاہ ہے۔ اس کو یہ مشن سونپا گیا کہ تمام رکاوٹوں کو دور کر کے پاکستان کی فتح کو ہر قیمت پر ممکن بنایا جائے۔ اس شخص نے حکم ملتے ہی اپنی زیرِ زمین تنظیم کو متحرک کر دیا، اور میاں صاحب کی منظوری کے ساتھ کرکٹ بورڈ کے سامنے پورا ایک پلان پیش کیا جس پر عمل کر کے پاکستان دنیا کی بڑی بڑی ٹیموں کو ہرا کر فائنل جیت سکتا تھا۔ کرکٹ بورڈ کا تعاون اس ضمن میں مثالی تھا۔ اس پلان کے تحت پاکستانی ٹیم میں مرضی کے کھلاڑی لگوائے گئے۔ (شاید عامر سہیل کا اسی طرف اشارہ تھا)۔ کھلاڑیوں کو اپنے مخصوص مافیانہ انداز میں سمجھا دیا گیا کہ کوئی کسی بُکی کے ہاتھ نہ بِکے، اس ہدایت کی خلاف ورزی کرنے پر عبرتناک انجام کی دھمکی دی گئی۔ ظاہر ہے جب انڈرورلڈ ہی کھلاڑیوں کا جوا بند کروا رہا ہو تو کس کی مجال ہے کہ وہ اس کے بارے میں سوچے بھی۔ ویسے بھی نئے کھلاڑی اچھی کارکردگی دیکر نام بنانے کے لیے پرجوش ہوتے ہیں۔ دوسری طرف دنیا بھر کی ٹیموں میں سے چن چن کر کھلاڑیوں کے ساتھ میچ فکسنگ کی گئی۔ اس پورے آپریشن کی تفصیلات بیان کی جائیں تو ایک ضخیم کتاب مرتب ہو جائے۔ تفصیلات اتنی دلچسپ ہیں کہ اس پر کئی ہالی وڈ کے معیار کی کئی فلمیں بن سکتی ہیں۔

یہ اپریل مئی کی بات ہے۔ اس رقم کا دوسرا نصف مودی جی کے غیر ملکی خفیہ اکاؤنٹس میں منتقل کرا دیا گیا۔ اس کام سے پہلے سجن جندال، جس سے میاں صاحب کے تعلقات بھائیوں جیسے ہیں، کو پاکستان مدعو کیا گیا اور مری کے پرفضا مقام پر سارا گیم پلان اس سے شئیر کیا گیا۔ جندال کو اس سارے گیم پلان میں اپنے لیے بھی دو ٹکوں کا فائدہ نظر آیا تو اس نے مودی جی کو ہموار کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ ویسے بھی میاں، مودی تعلقات اِس مقام پر ہیں کہ مودی جی میاں نوازشریف کی بات سے انکار کر ہی نہیں سکتے تھے۔ انہیں جندال کے مشورے سے میاں صاحب کے برادرانہ تحفے کو قبول کرنا ہی پڑا۔ اس ضمن میں اطلاعات ابھی صیغہ راز میں ہیں کہ میاں صاحب نے مالی تحائف کے علاوہ مزید کیا وعدے کیے ہیں۔ کیا کلبھوشن کے حوالے سے بھی کوئی بات ہوئی یا کشمیر کے حوالے سے بھی کوئی ڈیل کی گئی۔ کہنے والے تو بہت کچھ کہتے ہیں لیکن ہم ان سب کو ایک افواہ سمجھ کر درخوراعتناء نہیں سمجھتے۔

اس سارے سیٹ اپ کے بعد چیمپئنز ٹرافی میں اَپ سیٹ ہونے ہی تھے۔ آپ پہلے دن سے لیکر آخری دن تک کے تمام کھیلوں کو بغور دیکھیں تو آپ کو ان میں ایک پراسرار سا پہلو نظر آئے گا۔ سب کو لگے گا کہ کچھ ایسا جو موجود ہے لیکن سمجھ نہیں آرہا۔ آج ہمارے مضمون سے واضح ہو گیا ہوگا کہ وہ پراسرار پہلو کیا تھا۔ اس خفیہ آپریشن کی یہ چند ایک جھلکیاں ہیں جو آج ہم نے آپ تک پہنچائی ہیں۔ ہم ایک دفعہ پھر اپنی ٹیم، انتظامیہ، منصوبہ سازوں اور عملدرآمد کرنے والوں کو اس عظیم فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ مضمون ختم کرنے سے پہلے یہ بتاتے چلیں کہ ہمارے ذرائع نے جہاں ٹیکنالوجی استعمال کر کے ہم تک اندر کی خبریں پہنچائیں، وہاں اکثر اطلاعات بطریقِ منام ہم تک پہنچائی گئیں۔ ہم اپنے ذرائع کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ قارئین امید رکھیں کہ اگلے مضمون میں مزید اندر کی خبریں لے کر ہم حاضر ہوں گے۔ شکریہ

نوٹ: مضمون Sarcasm کی عمدہ مثال ہے. یقین کرنے اور پھیلانے والے خود ذمہ دار ہوں گے. ادارہ