تمثیلی کالم نگاری - مفتی منیب الرحمن

روزنامہ دنیا کے گروپ ایڈیٹر جناب سہیل وڑائچ سے ہماری بالمشافہ ملاقات ایک بار جبکہ ٹیلی فون پر تین بار بات ہوئی۔ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہم ان کی کیمسٹری اور ذہنی نہاد سے واقف ہیں، نہ ہمیں ان کے نظریات سے پوری طرح آگاہی ہے اور نہ ہی وہ معروف معنوں میں مذہبی آدمی ہیں۔ وہ آج کل کی سیاسی اصطلاح میں لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ ہیں۔ شاید یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو عالَمِ شباب میں جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے انقلابی نعروں سے متاثر ہوئے، پھر بھٹو اِزم کی فکر کے اسیر رہے، محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ تک بھٹو اِزم کی کچھ ماندسی چمک باقی تھی، اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ لبرل ا ور سوشل ڈیموکریٹس کا یہ طبقہ پاکستان پیپلز پارٹی کے زوال پر دل گرفتہ اور رنجیدہ ہے، لیکن کوئی امید بر نہیں آتی۔

جنابِ سہیل وڑائچ کو ہم اس لیے پسند کرتے ہیں کہ وہ ٹھنڈے مزاج کے آدمی ہیں، متانت، وقار اور ٹھہراؤ کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ آج کل کے میڈیا کلچر کے مطابق نہ بلند آہنگ میں بات کرتے ہیں، نہ چیختے چلّاتے ہیں اورنہ ہی عُجبِ نفس میں مبتلا بعض تجزیہ کاروں اور اینکر پرسنز کی طرح خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں۔ وہ سیاسی تجزیہ نگار ہیں اور یقینا اپنے نظریات بھی رکھتے ہیں۔ سنا ہے کہ اپنی طالب علمی کے زمانے میں وہ انجمن طلبہ اسلام سے بھی وابستہ رہے ہیں، لیکن یہ ماضی کی بات ہے۔ معلوم نہیں کہ اب وہ اسے اپنے “دورِ جاہلیت” سے تعبیر کرتے ہیں یا ”روشن ماضی” قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس کے بعد وہ ذہنی اور فکری ارتقا کی کئی منزلیں طے کرچکے ہیں۔ پاکستان میں مارشل لا اور فوجی حکمرانی کے ادوار اِن باشعور طبقات کے ذہن میں ہمیشہ تازہ رہتے ہیں، اس لیے یہ فوجی حکمرانی پرلولی لنگڑی جمہوریت کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ نظام کا تسلسل برقرار رہے۔ یہ اس آس پر جمہوریت کے حامی ہیں کہ شاید وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری جمہوریت بالغ نظر و توانا ہوجائے اور وطنِ عزیز کے اندر نظام کے تسلسل اور اداروں کے استحکام کے سبب دنیا ہمیں “برائے خدمت دستیاب” قوم نہ سمجھے، بلکہ ہم اپنی معاصر دنیا میں ایک غیور اور باحمیت قوم کے طور پر تسلیم کیے جائیں۔

یہ تمہید ہم نے اس لیے بیان کی کہ جنابِ سہیل وڑائچ نے حال ہی میں روزنامہ دنیا کے ادارتی صفحے پر “فیض عام” کے عنوان سے کالم لکھنے شروع کیے ہیں اور گزشتہ کچھ عرصے سے وہ منفرد انداز سے کالم لکھ رہے ہیں، ان کے کالموں کے عنوانات یہ ہیں: (1) پھر وہی مقدمہ (2) سیاست خان بمقابلہ عسکری خان (3) آج کے دار اشکوہ اور عالمگیر (4) میکیا ولی کی نئی کتاب “دی خان” (5) حسین نواز شریف اور کافکا کا مقدمہ (6) جے آئی ٹی زندہ باد (7) بزدل خان بنام عسکری خان (8) بادشاہ یا بینگن (9) اتھل پتھل کا وقت پھر آگیا (10) سلسلہ عالیہ اُکسانیہ (11) نواز شریف کوئی “سقراط“ تھوڑا ہے۔ 22جون کو شطرنج کی بساط پر بچھے ہوئے مُہروں کی ترتیب دیکھ کر اپنی سیاسی حِس سے انہوں نے The Party is Over کے عنوان سے کالم لکھ کر حتمی فیصلے کااعلان کردیا ہے۔ صرف ایک موہوم سا استثناء علامہ اقبال کے اس شعر کے مطابق باقی رکھا ہے :

اس کھیل میں تعیین مراتب ہے ضروری
شاطر کی عنایت سے تو فرزیں، میں پیادہ

بے چارہ پیادہ تو ہے اک مہرۂ ناچیز
فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ

جنابِ سہیل نے آخری فیصلے کے اعلان کے لیے جولائی / اگست کے مہینے کو ڈیڈ لائن قرار دیا ہے، حالانکہ جس رفتار سے ٹرین رواں دواں ہے، شاید جولائی ہی میں منزل تک پہنچ جائے۔

اسے ہم نے ”تمثیلی کالم نگاری” کا عنوان دیا ہے۔ آپ اِسے استعاراتی یا تجریدی کالم نگاری بھی کہہ سکتے ہیں۔ عربی کا مقولہ ہے: اَلْکِنَایَۃُ اَبْلَغُ مِنَ التَّصْرِیْحِ” یعنی کنایہ تصریح سے زیادہ بلیغ ہوتا ہے، اس میں معنویت زیادہ ہوتی ہے، بشرطیکہ پڑھنے والے میں بلاغت کو سمجھنے کا شعور ہو، ورنہ بات سر کے اوپر سے گزر جاتی ہے۔ “تصریح“ کے معنی ہیں: واضح اور دو ٹوک انداز میں بات کرنا، جس کے سمجھنے کے لیے غوروفکر کی ضرورت نہ ہو، جب کہ “کنایہ” کے معنی ہیں: اشارات میں بات کرنا،جسے سمجھنے کے لیے غوروفکر اور عقل وخِرددرکار ہوتی ہے۔ ہمارے سیاسی کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں میں سے اکثر نے ایک پوزیشن اختیار کرلی ہے۔ سو جب انسان کسی مسئلے کے بارے میں کوئی پوزیشن اختیار کرلے اور اس کی سوچ کا انداز موضوعی ہوجائے، تو پھر اس سے متوازن تجزیے کی توقع عبث ہے۔ موضوعی اندازِ فکر حقائق کو، جیسا کہ وہ ہیں، اس طرح پیش نہیں کرتا، بلکہ وہ اپنی پسند کے مطابق مقدمات ترتیب دیتا ہے تاکہ پہلے سے طے شدہ نتیجہ برآمد ہوسکے۔ روزنامہ دنیا ہی کے صفحات پر ایک معروف کالم نگار لکھ چکے ہیں کہ ایسے موقع پر “جمہوریت خطرے میں ہے“ کا نعرہ لگادیا جاتا ہے، جیسے ان کے بقول بعض لوگ اپنی ضرورت کے تحت ”اسلام خطرے میں ہے“ کا نعرہ لگاتے ہیں۔

پس سہیل وڑائچ صاحب کی اِس کاوش کے ثمر آور ہونے کے آثار بظاہر ناپید ہیں، تاہم ان کے فن اور تمثیلی اندازِ تحریر کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔ وہ عسکری خان، عدالت خان اور سیاست خان کو تاریخ سے سبق سیکھنے کا مشورہ دینا چاہتے ہیں، لیکن لگتا ہے ان کی یہ سعی “بے فیض“ رہے گی۔ غالب کا یہ شعر ہمارے حسبِ حال ہے:

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

جنابِ سہیل تجزیاتی اور تطبیقی انداز میں ان طبقات کو تاریخ پڑھانا چاہتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ تاریخ میں کیا رکھا ہے، جس عدالت خان کو عہدِ رسالت مآب ﷺ اور عہدِ خلافتِ راشدہ میں مثالی عدل کا ایک حوالہ بھی نہ ملے اور انہیں خلیل جبران اور ماریو پوزو سے رہنمائی لینی پڑے، ان سے اپنی تاریخ پڑھنے اور اس سے سبق حاصل کرنے کی خواہش خوش فہمی ہی ہوسکتی ہے۔ چنانچہ جب آصف علی زرداری صاحب کو تاریخ سے سبق لینے کا مشورہ دیا گیا، تو انہوں نے طنزاً کہا: “ہم تاریخ پڑھتے نہیں، ہم تو تاریخ بناتے ہیں”، واقعی وہ تاریخ بناتے ہیں اور اس فن میں لاجواب ہیں، خواہ اس میں ان کا سارا سیاسی اثاثہ ڈوب جائے۔ سو آج کل تاریخ لکھی اور پڑھی نہیں جارہی، بلکہ بنائی جارہی ہے۔ اس مہم کے لیے “سوشل میڈیا“ کے کارخانے لگ چکے ہیں، ماہرین شب و روز دل و جان سے مصروفِ عمل ہیں۔ ہم سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتے، اس لیے اس کے براہِ راست فیض سے محروم ہیں اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے شر سے محفوظ رکھے۔ لیکن بعض کالم نگاروں کے شکوے اور دُکھڑے پڑھنے کو ملتے ہیں، تو پتا چلتا ہے کہ ہمارا اَقدار و روایات والا ماضی قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ اب توہین، تحقیر، تذلیل، تضحیک، الزام و اتّہام، تمسخُر و استہزا، طَعن و تشنیع اور بہتان طرازی پر مشتمل ایک نئی اردو لغت مرتّب ہورہی ہے، جو ہماری آئندہ نسلوں کے کام آئے گی اور وہ اس کے ذریعے اپنے آج کے سیاسی اکابر پر ناز کیا کریں گے۔ حافظ شیرازی نے بہت پہلے کہا تھا:

صلاح کار کجا ومَن خراب کجا
ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بہ کجا

ترجمہ: ”کارِ اصلاح کہاں اور میں اَخلاق باختہ کہاں، فرق دیکھو کہ راستہ کہاں کا تھا اور کدھر جاپہنچا“۔ فیض احمد فیض نے کہا تھا:

جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم، تجھے یاد گار بنا دیا

الغرض ہمارے آج کے سیاسی رہنما اپنی ذات کے اسیر ہیں، اپنی دانست میں کوہِ گراں ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ جان سے گزرنے والے نہیں ہیں، بلکہ ایک دوسرے کی جان کو ہلکان کرنے والے ہیں۔ “گھر پھونک تماشا دیکھ” ان کا بہترین مشغلہ ہے۔ اَنا پرستی اورپندارِ نفس بھی کیا عجب چیز ہے کہ انسان سے عقلی اور فکری توازن کوسلب کرلیتاہے۔ اِسی کو اللہ تعالیٰ نے نفس کی خدائی سے تعبیر فرمایا ہے: “بھلا آپ نے اس شخص کو دیکھا کہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا اور اللہ نے اس کو علم کے باوجود گمراہ کردیا، اس کے کان اور اس کے دل پر مہر لگادی ہے اور اس کی بصارت پر پردہ ڈال دیاہے، (الجاثیہ:23)”۔

ہمارے سیاسی، عدالتی اور ماورائی منظر پر جو رونق بپا ہے، اس سے باہم برسرِ پیکار عناصر نے اپنی اپنی من پسند خواہشیں پال رکھی ہیں اور بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں، ان خواہشات کی معراج کا عالَم غالب کے الفاظ میں یہ ہے :

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے

ہماری تو دعا ہے کہ پردۂ غیب سے جو کچھ بھی منصّۂ شہود پر آئے، اس میں ملک وملّت اور قوم ووطن کی صلاح وفلاح کا کوئی سامان بھی ہو، ورنہ ہماری قوم بنی اسرائیل کی طرح ”وادی تِیہ“ میں اور کتنا عرصہ بھٹکتی رہے گی۔ ستّر سال تو بیت چکے ہیں، نہ نظام کا تسلسل قائم ہو پایا، نہ ادارے مستحکم ہوئے اور نہ ہی ہماری معاصر دنیا کو معلوم ہے کہ ہم سے معاملات کس طرح طے کیے جائیں۔ طاقت کا حقیقی مرکز کہاں ہے اور عالمی معاہدات اور ان کے نتیجے میں عائد ہونے والی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی ضمانت کون دے گا۔ لگتا ہے کہ ہم ایک مصنوعی فضا میں رہ رہے ہیں۔ ایک دن کوئی اچھی سیاسی یا عدالتی خبر آنے پر ہمارا اسٹاک ایکسچینج بلندیوں کو چھونے لگتا ہے اور دوسرے دن کوئی بری خبر آنے پر زمین بوس ہوجاتا ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہماری معیشت مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں ہے، امکانات اور خدشات کے درمیان پینڈولم کی طرح گردش کر رہی ہے۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.