”مساجد“ کے ہوتے جہاں ”این جی اوز“ معاشرے پر ہاتھ مار جائیں - حامد کمال الدین

اصلاح و تعمیرِ معاشرہ جس کا مرکز خدا کے گھر ہوں اور جس کے روحِ رواں حاملینِ قرآن، باقاعدہ ایک تحریک اور منہج کی صورت میں سامنے آنا ضروری ہے۔ اِس پہلو سے؛ “ماڈل مسجد” پر مجھے کچھ گزارشات پیش کرنا تھیں، جس کےلیے فرصت کا متلاشی چلا آ تا ہوں۔ سطورِ ذیل کو فی الحال اس کی تمہید سمجھیے۔

”مسجد“ جو روزمرہ عبادات ہی کو روحانی و سماجی توانائی کے اندر ڈھال دینے کی صلاحیت سامنے لائے۔ ”عبادت“ جو خودبخود یہاں ایک معاشرتی کردار میں ڈھلتی اور سماج کو جنت بناتی چلی جائے۔ “مُصلِّین” کے جمگھٹے جو کسی اضافی ٹانکے کے بغیر (یعنی آپ سے آپ) ”طعام المسکین“ کے ادارے ہوں اور جن کے اردگرد کئی کئی کلومیٹر تک بھوک یا ننگ یا گند نہ پھٹک سکتا ہو [کجا یہ کہ ایک پرائم ٹائم پر (نمازِ جمعہ کا سلام پھرتے ہی) بیسیوں کراہتی آوازیں سائلوں کی دل چیر دینے والی اٹھیں اور ’مسجد انتظامیہ‘ کی طرف سے انہیں موقع پر ’ہدایات‘ دینے والے تعینات ہوں کہ ’شاباش باہر جا کر مانگو!‘ (مانگتے ضرور رہو!) ’مساجد‘ پر یہ وقت بھی آنا تھا! ’نمازیوں‘ سے کھچا کھچ بھرے اس مجمعے کی بلا سے، ان دلدوز چیخوں میں کونسی آواز کسی حقیقی ضرورتمند کی ہے اور کون نرا پیشہ ور گداگر جو حقیقی ضرورتمندوں کا حق مارنے اور مسلم معاشرے میں بھیک ایسی لعنت کو فروغ دینے کے باعث درحقیقت لائقِ تادیب ہے نہ کہ مستحقِ مدد۔ یہ لااُبالی ان ’صدقہ گزاروں‘ کے چہرے پر بھی آپ دیکھ سکتے ہیں جو باہر مانگنے والے مردوں اور عورتوں کے ہاتھ پر کچھ روپے دھرتے ہوئے رخصت ہو جائیں گے! (’نمازیوں‘ کو کوئی ایسی معلومات دستیاب کرانا، بلکہ نمازیوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کو یہ سجھانا کہ ان کے اس پورے علاقے میں حقیقی ضرورتمند کون کون اور کہاں کہاں واقع ہیں اور ان کو باعزت زندگی کی پٹڑی پر چڑھا لانے کی کیا کیا اسکیمیں یہاں قابلِ عمل ہو سکتی ہیں، یہ ’مسجد انتظامیہ‘ کے دائرۂ کار میں نہیں آتا! نہ ’نمازیوں‘ کو یہ جان رکھنے سے سروکار! نہ یہاں ’امامت‘ کرانے والے کا یہ دردِ سر)

وہ مسجدیں جہاں صبح شام سورۃ الماعون کی تلاوت ہوتی ہے (زیادہ تر اس لیے کہ یہ ایک ’چھوٹی‘ سورت ہے اور جلد پڑھی جاتی ہے) آخر کیا مانع ہے کہ یہ مسجدیں اپنی اس پنج وقتہ گہما گہمی کو کسی دفتر بند ’این جی او‘ سے بڑھ کر یہاں کے فقراء و مساکین کے لیے کارآمد نہ بنا دیں؟ کیوں وہ انجیل بردار این جی اوز سات سمندر پار سے آکر یہاں قدم قدم پر ’سوشل سروس‘ کے تھڑے لگا لیتی ہیں؟ یہ اتنا بڑا خلا ان کے لیے آخر چھوڑا کس نے ہے؟ ذرا نام ہی پر غور فرمائیں: non-governmental organizations! یعنی کسی ریاستی انتظام کے بغیر چلنے والی انجمنیں! جو سات سمندر پار سے ہماری ’مدد‘ کو آ پہنچیں۔ ادھر ہمارا رونا یہ کہ ’ریاست‘ اور ’انقلاب‘ کے بغیر ہم کریں تو کریں کیا! (اپنے محلے کا سہارا بھی بغیر ’انقلاب‘ اور ’خلافت‘ کے کیونکر بنیں!)

’این جی اوز‘ کو بے حد و حساب کوسنے دیتے وقت کیا ہم نے “مسجد” کو دستیاب پوٹینشل کی اس فراوانی پر بھی کبھی غور کیا جو ہمارے خلاف شاید ایک حجت بننے والی ہے؟ کتنی مہنگی پڑتی ہے ہمیں وہ روٹی جو ’این جی او‘ سے آپ کی اِس بیٹی کو میسر آتی ہے۔ کتنی تلخ ہے وہ مسکراہٹ جو اِس چہرے پر اس کے احسان سے آتی ہے۔ وہ اِس کے آنسو پونچھتی ہے تو اِس کے سر کی چادر ہی نہیں تن کا لباس تک عنقا ہونے لگتا ہے۔ یہی روٹی اسے “الماعون” کی خوش الحان تلاوت والوں سے آخر کیوں میسر نہیں آسکتی؟ تاکہ اِس غریب کا پیٹ بھرے تو دین و آبرو بھی بچے۔ آخر کچھ initiative ہی تو لینے ہیں آپ کو۔ وہ این جی اوز بھی تو ہمارے ہی وسائل کو گردش میں لاتی ہیں۔ صرف سوچ اور اقدام ان کا ہوتا ہے باقی تو سب کچھ ہمارا اور یہیں کا ہوتا ہے۔ اِن دو باتوں کی ہی شاید کمی ہے ہمارے یہاں: سوچ idea اور اقدام initiative۔ اِنہی دو باتوں سے آپ ہمیشہ راج کرتے ہیں، باقی تو کارِ خر donkey work ہے جو آج بھی ہمارے ہی لوگ کرتے ہیں ان باہر کے دماغوں کےلیے۔ کیا ہم اِنہی دو باتوں میں مفلس ہو چکے؟ مؤثر روزگار سکیمیں، صفائی مہمات، تعلیمِ بالغان، ماحول پروری، سماجی انصاف، محروموں کی دادرسی، محلے کے بےسہارا اور آوارہ بچوں کو معاشرے کا ایک مفید اور پیدآور حصہ بنانا، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت۔ جرائم، ماردھاڑ، منشیات، ملاوٹ، رشوت، خیانت، کام چوری، دونمبری، گھٹیا پیداوار وغیرہ کے خلاف عوامی آگہی public awareness و عوامی مزاحمت public resistance کو باقاعدہ ایک چینل دینا (آخر کیوں یہ کام ’اخبارات‘ اور ’ٹی وی‘ کے لیے چھوڑا جائے؟)، بےحیائی کی روک تھام، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، ایسے سب امور کے تھَڑے یہ اونچےاونچے میناروں والی مسجدیں کیوں نہیں ہو سکتیں؟ جس معاشرے میں ہر چند قدم پر “مسجد” میسر ہو وہاں “ترقی” کو آوازیں پڑیں! ہر طرف لتھارجی کا مارا ہوا سماج! نرا ایک ’کونزیومر‘ اور دوسروں پر جینے والا معاشرہ! عزتِ نفس مفقود! کشکول برداری! سب ناقابل یقین ہے۔ یہاں “امامت” کا ایک تصور ہی تو درست کرانے کی ضرورت ہے؛ باقی کمی کیا ہے؟ ’دورکعت کے امام‘ کو “زندگی کے امام” میں ڈھال دینے کے پلانٹ جگہ جگہ لگا دیجئے؛ آپ کا بحران کہیں بھی نہیں۔ یہ سب رونے کیسے؟ طاقت کے سرچشمے پر بیٹھ کر ناتوانی کے گلے! وہ مار گیا، وہ کھا گیا، وہ این جی او، وہ یہودی، وہ عیسائی، وہ سازش، وہ ملی بھگت، بھائی ہم اپنے گریبانوں میں کب جھانکیں گے؟ ہمارا بحران تو ہماری “امامت” میں ہے۔ یہ تلچھٹ تو آپ سے آپ چھٹ جاتی ہے۔ یہ مسجدوں کے مینار آج بھی مبارک ہیں اور ہمیں کفایت کر دینے والے ہیں، ان شاء اللہ۔

غرض مسجد کی حیثیت سماج میں وہ ہو جو جسد میں کلیجے اور دل کی ہوتی ہے۔ یہاں صالح خون کی افزائش ہونے لگے، اور یہاں سے پورے جسم کو خون کی ترسیل ہونے لگے تو “جسم” تو خودبخود اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ مصیبت یہ ہے جب “دل” کو بھی اعضاء میں سے ایک عضو سمجھ لیا جائے جو بیچارہ خود بھی خون کے عطیات پر جینے لگے، نہ کہ وہ “عضو الاعضاء” جس کا کام ہے کہ پورے جسم کا خون صالح وکارآمد کردینے کے بعد اس کو جسم میں لوٹائے اور دن میں ’پانچ بار‘ اس عمل کو کامیابی کے ساتھ دہرائے۔ یہ جو اپنا ایک بحران ہے حضرات اس پر تو ہمیں خود ہی قابو پانا ہے! اِس کےلیے تو کسی ’آرڈینینس‘ اور کسی ’بل‘ کی ضرورت نہیں! میں کہتا ہوں کوئی حرج نہیں اگر “دعوت” کا بیڑا اٹھانے والی کچھ مرکزی شخصیات “ائمہ” کا صرف ایک پلانٹ اِس ملک میں ایسا لگا دیں اور ان کے ذریعے سے “مساجد” کے ایسے کامیاب نمونے سامنے لائیں جن میں “سماجی زندگی” کو ایک صالح رخ دینے کی صلاحیت ٹپکے اور جو اپنے اردگرد گلیوں اور محلوں کا نقشہ بدل کر رکھ دیں اور دیکھنے والا سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ یہاں شعور دینے اور عملی راہنمائی فراہم کرنے کا کوئی پلانٹ لگ چکا ہے۔ پھر دیکھتے ہیں یہاں ہمارا ’گراس رُوٹ ورک‘ کیسے نہیں پھوٹتا۔ یوں مساجد معاشرے کےلیے حقیقی انجن کی حیثیت اختیار کر لیں گی۔ اِسی کو ہم کہتے ہیں مسجد کا تاریخی کردار بحال کروانا۔ دعوت کا بیڑا اٹھانے والی مرکزی شخصیات یا ان میں سے کچھ، سب سے پہلے اس (“ماڈل مسجد”) کے کچھ پائلٹ پراجیکٹ لائیں پھر ابتدائی تسلی کر لینے کے بعد اس کو قریہ قریہ بستی بستی پھیلا دیں۔ سب اندھیرے آپ کے راستے سے چھٹتے چلے جائیں گے، ان شاءاللہ۔

Comments

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین ایقاظ (ماہنامہ، ویب سائٹ) کے ایڈیٹر، اور 20 سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ دین سے وابستہ تحریک اور معاشرہ، اصولِ سنت، تجدید اور تجدد کے مابین خط فاصل کا بیان ان کا دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.