سرسبز یا کنکریٹ کا قبرستان - ریاض علی خٹک

چلیں بات قدیم سے شروع کرتے ہیں. ہمارا اور پیڑ پودوں کا ساتھ بھی تو قدیم ہے. ابتدائی انسان نے یا غار کو بسیرا کیا یا درخت کو. اپنے پہلے ہتھیار بھی یا پتھر بنایا یا درخت کی شاخ کو.

شعور بلند ہوا. تب بھی تپتی دھوپ میں سایہ درخت کا ہی ڈھونڈا، سخت سردی میں آگ بھی اسی سے لی. تعمیر کا سامان بھی اس سے تو فرنیچر اور باربرداری کی گاڑی بھی اسی سے. خوراک بھی یہی تو زینت کا سامان بھی یہی.

مسئلہ کہاں سے شروع ہوا؟
شاید انسانی شعور اپنی رفتار میں خود فریبی پر نکل گیا. اُس نے ضرورت پر بے تحاشا کاٹنا جلانا تو شروع کردیا لیکن یہ بھول گیا کہ درخت کوئی انسانی کارخانے کی پراڈکٹ نہیں جو کوئی مشین دھڑا دھڑ سانچوں سے نکال لے.

درخت زندہ ہیں. یہ جاندار ہیں. یہ قدرت کا شاہکار ہیں.

احساس ہمیں کب ہوا؟
احساس تب ہوا جب ہم نے کنکریٹ کے جنگل بنانے شروع کیے. سرسبز جنگلوں کے بجائے کنکریٹ و لوہے کے جنگل، ہمارے اپنے بنائے قید خانے، جن کی دیواروں کو ہم نے رنگ دیے روشنیوں سے ان کو منور کیا، درخت بس ان پر نقش تصویروں یا پلاسٹک کے بنے ڈیکوریشن پیس گملوں تک رہ گئے.

احساس تب بھی نہ ہوتا؟
اگر گلوبل وارمنگ کا عفریت منہ پھاڑ کر نگلنے کو تیار نہ ہوتا.
اگر آلودہ ہوا میں سانس لینا دشوار نہ ہوجاتا.
اگر شام ڈھلے بھی تپتی ہواوں کے خشک تھپیڑے چہروں پر نہ برستی.
اگر بارشیں روٹھ نہ جاتی.
اگر موسم بدل نہ جاتے.

شاید ہم پھر اور کافی وقت احساس نہ کرتے. لیکن ان مسائل نے شعور کو جھنجھوڑا. علم نے سر جھکا کر تحقیق کی. انسان نے انسان کو بتایا کہ ہم سے ایک بھول ہوگئی. ہم نے اپنے قدیم ساتھیوں کی نسل کشی کی. آج ہم اس نسل کشی کی قیمت ادا کر رہے ہیں.

معلوم ہوگیا. مفہوم مل گیا. اب بھی اگر بنی آدم نے اپنے اجاڑے جنگل دوبارہ آباد نہ کیے تو یہ اب بھول نہیں کہلائے گی.
اسے بھول ہم نہ کہہ سکیں گے.
یہ اجتماعی خودکشی کا جرم کہلائے گا.
#WeAreGreen

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • "اسے ہم بھول نہ کہہ سکیں گے، یہ اجتماعی خودکشی ہو گی" بالکل درست فرمایا ریاض بھائی اور شاندار اسلوب میں- جیتے رہئے