اسلامی نظام میں تعزیرات کی آفاقیت - اشفاق پرواز

جب ایک عام انسان سے پوچھا جاتا ہے کہ اسلامی نظام سے کیا مراد ہے؟ تو وہ یہ کہنے سے گریز نہیں کرتا کہ اسلامی نظام ہاتھ کاٹنے اور سنگسار کرنے کا نام ہے۔ جبکہ یہ اسلامی تعزیرات کا غلط مفہوم ہے، جسے سمجھنے کی بہت ضرورت ہے۔

اصل میں اسلامی قوانین اور سزاؤں کی غلط تصویر عام ذہنوں میں اس وقت بیٹھ گیا جب سے مغربی مصنفین اسلامی تعزیرات اور اسلامی سزاؤں (رجم اور قصاص وغیرہ) کا ببانگ دہل اور سر عام ٹھٹھا، تمسخر اور مذاق اڑانے لگے ہیں اور انہیں دقیانوسی اور قدامت پسند خیال کرنے لگے ہیں۔ حالانکہ اگر اسلامی اور مغربی معاشروں کا باہمی تقابل کیا جائے تو جن اسلامی ممالک میں کسی نہ کسی درجہ میں بھی اسلامی قوانین نافذ ہیں وہاں پر اسلامی تعزیرات کے نفاذ کی وجہ سے بہ نسبت مغرب و یورپ کے زنا، قتل، اغوا اور غنڈہ گردی کی شرح میں کافی حد تک کمی ہے، جبکہ اس کے مقابلہ میں مغربی و یورپی ممالک کو جن میں کھلی آزادی کا رجحان اور جدید کلچر کا غلبہ ہے وہاں ان برائیوں کی شرح میں روز بروز ہوشربا اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

شرعی قوانین بالخصوص سزاؤں سے متعلق شرعی احکام کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے معاصر مسلم فکر جن چند در چند فکری اور عملی سوالات سے نبرد آزما ہے، ان میں سے اہم ترین اور بنیادی بحث یہ ہے کہ قرآن و سنت میں مختلف معاشرتی جرائم مثلاً، قتل، زنا، چوری، قذف اور محاربہ وغیرہ سے متعلق جو متعین سزائیں بیان کی گئی ہیں، آیا وہ ابدی اور آفاقی نوعیت کی ہیں یا ان کی معنویت اور افادیت ایک مخصوص زمان و مکاں تک محدود تھی۔ ایک مکتب فکر یہ رائے رکھتا ہے کہ یہ سزائیں تجویز کرتے وقت اہل عرب کے مخصوص تمدنی مزاج اور معاشرتی عادات و اطوار کو پیش نظر رکھا گیا تھا اور اس معاشرت میں جرائم کی روک تھام کے حوالے سے یہ موزوں اور موثر تھیں، تاہم ان کی ظاہری صورت کو ہر دور میں بعینہ برقرار رکھنا ضروری نہیں اور اصل مقصد، یعنی عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام اور جرائم کی روک تھام کو سامنے رکھتے ہوئے کسی بھی معاشرے کی نفسیات اور تمدنی حالات و ضروریات کے لحاظ سے قرآن کی بیان کردہ سزاؤں سے مختلف سزائیں تجویز کی جاسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام اور آزادی بے لگام - اسامہ الطاف

یہاں تنقیح طلب نکتہ یہ ہے کہ آیا شارع نے کیا فی الواقع ان سزاؤں کی اساس یہی بیان کی ہے کہ ان کے ذریعے سے محض معاشرے میں جان و مال اور آبرو وغیرہ کا تحفظ مقصود ہے اور یہ کہ سزا کے اصل مقصد کو ملحوظ رکھتے ہوئے، ان سزاؤں کی ظاہری صورت میں تبدیلی کی گنجایش موجود ہے؟ قرآن مجید کے متعلقہ نصوص کے مطالعے سے اس سوال کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ قرآن سے واضح ہوتا ہے کہ اس معاملے میں اس کا زاویہ نگاہ جوہری طور پر زیر بحث زاویہ نگاہ سے مختلف ہے۔

قرآن ان سزاؤں کو حق اللہ کے طور پر بیان کرتا ہے اور اس کا مقدمہ یہ ہے کہ انسان کی جان، مال اور اس کی آبرو کو اللہ نے حرمت بخشی ہے اور اللہ کی اجازت کے بغیر یہ حرمت کسی بھی صورت میں ختم نہیں کی جاسکتی۔ اسی لیے اگر کوئی مجرم کسی انسان کی جان و مال یا آبرو پر تعدی کرتا ہے تو وہ دراصل خدا کی قائم کردہ حرمت کو پامال کرتا ہے۔ اور اس طرح خدا کی طرف سے سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔ شرعی سزاؤں کا یہ پہلو قرآن مجید نے کم و بیش ہر موقع پر واضح کیا ہے۔ چنانچہ کسی بھی جرم پر خدا کی بیان کردہ سزا دراصل خدا کا حق ہے، جس کے نفاذ کو اس نے انسانوں کی ذمہ داری ٹھہرایا ہے۔

سورہ نور میں زانی مرد اور زانی عورت کے لیے سو کوڑوں کی سزا بیان کی گئی ہے۔ یہاں قرآن نے اپنی بیان کردہ سزا کے نفاذ کو اللہ کے دین پر عمل درآمد کا معاملہ قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ مجرم پر کوئی ترس کھائے بغیر اس پر سزا کا نفاذ اہل ایمان کے ایمان کا تقاضا ہے۔ سورہ مائدہ میں چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس سزا کو اللہ کی طرف سے عبرت کا نمونہ کہا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مغربی تہذیب کا سفاک اور خوفناک چہرہ - پروفیسر جمیل چودھری

ان سزاؤں کا یہ پہلو نبی ﷺ کے متعدد ارشادات سے بھی واضح ہوتا ہے۔ چنانچہ آپﷺ نے فرمایا کہ جو شخص قتل، زنا، چوری اور بہتان طرازی کا مرتکب ہو اور دنیا ہی میں اپنے کیے کی سزا پا لے، اس کی سزا اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے گی، لیکن اگر دنیا میں وہ سزا سے بچ گیا تو قیامت کے دن خدا تعالیٰ کا حق ہوگا کہ وہ چاہے تو اسے سزا دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔ گویا کہ یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دنیا میں ملنے والی سزا بھی دراصل اللہ کا حق ہے، جس کا نفاذ مجرم کو آخرت کے عذاب سے بچا لیتا ہے۔

نبیﷺ نے عملاً بھی بہت سارے مقدمات میں مجرم کے ساتھ ہمدردی محسوس کرنے، صاحب حق کے معاف کر دینے یا تلافی کی متبادل صورت موجود ہونے کے باوجود خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ سزاہی کے نفاذ پر اصرار کیا۔ مندرجہ بالا تفصیل سے واضح ہوجاتا ہے کہ اسلامی نظام میں شرعی سزاؤں کو اصلاً ایک سماجی ضرورت کے طور پر نہیں بلکہ خدا کے حق کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس میں خود اس کے حکم کے بغیر کسی تبدیلی کی علمی و عقلی طور پر کوئی گنجایش نہیں۔ جہاں تک جرائم کے سدباب کا تعلق ہے تو یقیناً وہ بھی ان سزاؤں کا ایک اہم پہلو ہے، لیکن اس کی حیثیت اضافی اور ثانوی ہے اور اسے بنیاد بنا کر سزا کی اصل اساس کو اس کے تابع بنا دینے، بلکہ بالکل نظر انداز کر دینے کو کسی طرح بھی شارع کے منشا کی ترجمانی نہیں کہا جا سکتا۔

Comments

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز ٹنگمرگ، مقبوضہ کشمیر کے جواں سال قلم کار ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی اخبارات میں ان کے کالم شائع ہوتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھنے والوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.