کوئٹہ اور پارہ چنار نشانہ کیوں؟ محمد اشفاق

پارہ چنار کے بیشتر باشندے طوری اور بنگش قبائل سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ شیعہ مسلک سے وابستہ ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان، خصوصاً اس کی درہ آدم خیل شاخ، جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی مسلکی منافرت کی بنیاد پر پارہ چنار پہ حملے کرتی رہی ہے۔ کئی کئی ماہ طوری قبائل محصور رہے ہیں اور انہیں پشاور پہنچنے کے لیے افغانستان سے ہو کر آنا پڑتا تھا۔ طالبان اور طوریوں کے درمیان چند برس قبل مبینہ طور پر حقانی نیٹ ورک نے جنگ بندی کروائی تھی۔ جس کے بعد کچھ عرصہ امن رہا، مگر پھر حالات نے ایک نئی کروٹ لے لی۔

شام میں بشارالاسد کے خلاف بغاوت خالصتاً سیاسی بنیادوں پر ہوئی تھی مگر ایران اور عراقی شیعہ ملیشیا کی شام میں مداخلت کے بعد شام کے سنی ہمسایہ ممالک بھی اپنی پراکسی تنظیموں کے ذریعے اس جنگ میں کود پڑے اور بتدریج ایک خالص سیاسی جنگ، مسلکی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ جہاں سنی لڑاکا تنظیموں کی جانب سے شامی افواج پر صحابہ کرام کے مزارات اڑانے کا الزام عائد کیا گیا وہاں شام اور ایران کی جانب سے فریق مخالف کو اہل بیت کے مزارات کی توہین کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ معتدل مسلمانوں کے لیے یہ دونوں خبریں دکھ اور افسوس کا باعث تھیں، مگر مسلک پرست افراد اور تنظیموں نے ان اطلاعات کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا کیونکہ دونوں جانب کو جنگ کا ایندھن بنانے کے لیے رضاکار درکار تھے۔ چنانچہ 2013ء میں پاکستانی طالبان کے متعلق بھی اطلاعات ملیں کہ وہ شام میں جاری جنگ کے لیے افرادی قوت بھیج رہے ہیں۔ ان اندازوں کے مطابق پاکستان سے ایک ہزار سے پندرہ سو تک فائٹرز شام گئے تھے، جن کی بہت بڑی تعداد ہلاک ہو چکی ہے۔ افغانستان سے بھی جنگجو بڑی تعداد میں شام پہنچے تاکہ وہاں موجود سنی تنظیموں کے ہاتھ مضبوط کیے جا سکیں۔

ایران کے پاسداران انقلاب ایک جانب تو جنرل قاسم سلیمانی کی قیادت میں عراق میں داعش سے برسرپیکار تھے تو دوسری جانب شام میں حزب اللہ اور شامی افواج کے شانہ بشانہ داعش، النصرہ فرنٹ اور دیگر باغی فوجوں سے نبردآزما، ایسے میں انہیں بھی افرادی قوت کی ضرورت تھی۔ جنرل قاسم سلیمانی نے پہلے تو افغان شیعوں پر مشتمل لشکر "فاطمیون" کی بنیاد ڈالی، جس میں انہیں درپردہ سابقہ شمالی اتحاد کے بعض راہنماؤں کا تعاون بھی میسر تھا۔ فاطمیون اب اتنے مضبوط ہو چکے ہیں کہ ان کی تعداد کا اندازہ بیس ہزار کے لگ بھگ لگایا جاتا ہے۔ حلب پر حملے میں شامی فوج کے ساتھ سب سے بڑی ملیشیا فاطمیون ہی تھی۔ 2014ء میں پاکستانی شیعوں، جن کی اکثریت کوئٹہ کی ہزارہ برادری اور پارہ چنار کے طوری قبیلہ سے تعلق رکھتی تھی، کو بھی شام میں جاری جنگ میں مقامات مقدسہ کی حفاظت کے نام پر بھرتی کیا جانے لگا۔ یہ زائرین کے طور پر قم پہنچتے تھے جہاں شام میں جاری جنگ کے لیے بھرتی مرکز قائم تھا، اور وہاں سے انہیں ابتدائی تربیت کے لیے یزد بھجوا دیا جاتا تھا۔ ابتدا میں یہ فاطمیون میں شامل رہے تاہم تعداد بڑھنے پر "زینبیون" کے نام سے ان کی علیحدہ فورس بنا دی گئی۔ شروع شروع میں انہیں واقعی صرف مزارات کی حفاظت تک محدود رکھا گیا مگر اب انہیں باقاعدہ جنگ میں بھی شامل کیا جانے لگا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق "زینبیون" پندرہ سو کے لگ بھگ ہیں۔

چونکہ دونوں جانب کے فرقہ پرست خصوصاً سنی انتہاپسند پاکستان میں ضرب عضب اور ردالفساد کے باوجود ابھی بھی موجود ہیں اور انہیں پاکستانی شیعوں کی شام کی جنگ میں شمولیت سے ان کے خلاف کاروائیوں کا ایک اور بہانہ بھی مل گیا، اس لیے لشکر جھنگوی نے بلوچستان میں ہزارہ برادری اور ٹی ٹی پی نے پارہ چنار میں طوری قبائل پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا جو حکومت کی کوششوں کے باوجود ابھی بھی رکنے میں نہیں آ رہا۔

اسی اور نوے کی دہائی میں ہم عرب عجم یا شیعہ سنی پراکسی وار کا ایک خوفناک سلسلہ اپنی سرزمین پر دیکھ چکے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں اس سلسلے میں کافی حد تک کمی دیکھنے میں آئی تھی مگر اب ڈر ہے کہ خدانخواستہ مسلکی جنگ کی ایک اور لہر نہ شروع ہو جائے۔ اگر اسی اور نوے کی دہائی میں اس جنگ کی زیادہ ذمہ دار سنی عرب ریاستیں تھیں تو اس مرتبہ پاکستان میں بدامنی اور فسادات کا بڑا ذمہ دار ایران ہوگا۔

ایک جانب ایران پاکستانی شہریوں کو اپنے تزویراتی مقاصد کے حصول کے لیے اپنی پراکسی وار کا ایندھن بنانے سے ذرا بھی نہیں ہچکچا رہا، تو دوسری جانب جیش العدل جیسی چھوٹی تنظیموں کی وجہ سے پاکستان کو دھمکیاں بھی دے رہا ہے۔ ایران کو پاکستان کا سعودی قیادت میں تشکیل پانے والے فوجی اتحاد کا حصہ بننا بھی پسند نہیں ہے۔ ایسے میں ہمیں بہت زیادہ محتاط ہونا پڑے گا۔ ایک جانب ہمیں پارہ چنار اور کوئٹہ کی شیعہ برادری کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا تو دوسری جانب اس امر کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ ان کے مذہبی جذبات بھڑکا کر کوئی انہیں استعمال نہ کر پائے۔ "زینبیون" کے فائٹرز اگر پاکستان واپس لوٹتے ہیں تو وہ ہمارے لیے ویسا ہی چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں جیسا کہ افغانستان سے روسی انخلاء کے بعد وہاں موجود ہمارے لڑاکا ثابت ہوئے تھے۔

ایران کے ساتھ بھی اب ہمارے پالیسی سازوں کو کھل کر بات کرنا ہوگی۔ ایرانی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان سے مخالفت مول لینا ان کے مفاد میں ہرگز نہیں۔ دوسری جانب ہمیں اپنے عرب دوستوں کو بھی واضح طور پر بتانا ہوگا کہ ہم ان کی خاطر اپنے ہی ملک میں ایک نیا محاذ نہیں کھول سکتے۔

مشرقِ وسطیٰ کی دلدل میں امریکا، روس، ترکی سمیت جو بھی پاؤں رکھ رہا ہے، دھنستا ہی چلا جا رہا ہے۔ ہمارے لیے بہتر ہوگا کہ ہم خود کو اس دلدل سے دور ہی رکھیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */