مرے تھے جن کے لیے - فاطمہ طاہر

ڈیپارٹمنٹ کے باہر بنچ پر بیٹھی میں گرد و پیش کا جائزہ لے رہی تھی۔ کبھی کبھی چپ چاپ بیٹھ کر لوگوں کا مشاہدہ کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔ خصوصاً یونیورسٹی میں جہاں پر کوئی اپنی ہی ایک دنیا میں مگن ہوتا ہے۔ انہی خیالات میں گم تھی کہ بدبو کا ایک ناگوار جھونکا ناک سے ٹکرایا۔ اف! یہ ڈیپارٹمنٹ میں سگریٹ کے دھویں اڑاتے لڑکے، دل میں درد کی لہر سی اٹھی تھی۔ ایک آواز امیدکا پیغام بھی لائی۔ "بھائی جان! یہ دیکھیے کیا لکھا ہے، سگریٹ نوشی منع ہے۔” مگر پینے والا تو بہت ہی ظالم تھا، جواب دیا کہ ”اصول تو ہوتے ہی توڑنے کے لیے ہیں، میری زندگی میں میرے اپنے اصول چلتے ہیں۔” وہ جملے، وہ ہنسی، روح کے اندر تک سناٹے اتار گئی۔

چھوٹا بھائی لینے آیا تو دل کو سنبھالتے اٹھی۔ بھائی کے پاس پہنچی تو اس کے چہرے پر ناگواری جھلک رہی تھی۔ اس نے ایک لڑکی کی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ وہ کون ہے؟ اس سے پہلے کہ میں کچھ پوچھتی، وجہ مجھے خود ہی سمجھ آگئی۔ وہ لڑکی چلا چلا کر ایک لڑکے کو گالیاں دے رہی تھی۔ یارب! ستم بالائے ستم۔ چپ چاپ گردن جھکا کر گھر آگئی۔

خیالات کا ہجوم پریشان کرنے لگتا ہے تو گھبرا کر آنکھیں بند کر لیتی ہوں۔ مگر بھلا کبوتر آنکھیں بند کر لے تو بلی اس پر ترس کھالیتی ہے؟ پڑھنے بیٹھی تو کلاس میں پڑھائی گئی ہراسمنٹ کی تعریف بار بار پڑھنی پڑی۔ DEVAW (UN Declaration on Eilimination of Violence Against Women) کے مطابق ہر وہ عمل تشدد میں شمار ہوتا ہے جس کے نتیجے میں کوئی نفسیاتی، جنسیاتی یا جسمانی نقصان پہنچے۔

کیلنڈر پر نظر پڑی تو معلوم ہوا کہ جولائی کا آغاز ہو گیا ہے۔ خیالات کا دھارا کشمیر کی جانب مڑ جاتا ہے۔ 8 جولائی، یومِ شہادت برہان مظفر وانی۔ 13 جولائی، یومِ شہداء کشمیر۔ مندرجہ بالا دونوں مناظر کا سلسلہ کشمیر کے ان دونوں مناظر سے جڑتا ہے۔ ایک طرف یونیورسٹی میں منہ سے دھویں اڑاتے نوجوان ہیں اور دوسری طرف ان ہی کی عمر کا اک نوجوان جو کم عمری میں کشمیر کا پوسٹر بوائے بن گیا۔ وہی تو اصل ہیرو ہے۔ وہی تو اصل رول ماڈل ہے۔ وہ جسے یونیورسٹی میں پڑھنا تھا، وہ جنگ کے میدان میں گولیوں کی بارش میں کھڑا ہوتا تھا۔ وہ جو 19 سال کی عمر میں میدانِ جنگ میں اترا اور اپنے ملک کو دارالسلام بنانے کے لیے تیغ و کفن ہمراہ لیے اس راستے پر دوڑ پڑا۔ قلیل عرصے میں وہ حزب المجاہدین کا مشہور کمانڈر اور کشمیر کے بچے بچے کا رول ماڈل بن گیا۔ کیسا پیارا نوجوان تھا۔ آزادی کی خاطر جان دے گیا۔ اور جب شہید ہوا، تو کشمیر میں کون نہیں تھا جس کی آنکھ اشکبار نہ تھی۔ سوچتی ہوں کہ آج میں مرجاؤں تو میرے پیچھے میرے خاندان اور چند دوستوں کے سوا کون رونے والا ہوگا؟ اور اک وہ نوجوان تھا جس کے جنازے کے لیے سرینگر کے گلی کوچوں میں انسانوں کا ایک سیلاب بہہ نکلا تھا۔ وہ جو اس کے آخری دیدار کے لیے گولیاں کھانے کو بھی تیار تھے۔ وہ معصوم نوجوان آخری سفر پر روانہ ہوا تو کس لباس میں؟ سبز ہلالی پرچم میں۔ اور ہم میں سے کتنے ہیں جنہیں اس کا یومِ شہادت یاد ہے؟

13 جولائی 1931ء کو کشمیر میں سرینگر سینٹرل جیل کے باہر ایک ساتھ 21 لوگوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ یہ جدوجہد تو تب سے جاری ہے۔ آج کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کشمیر میں کوئی شہید نہ ہوتا ہو۔ شہادتوں کے اس سفر میں بچوں، بوڑھوں، عورتوں میں کوئی پیچھے نہیں ہے۔ کیا گزرتی ہے اس لڑکی پر جس کو بچوں کے ساتھ یرغمال بنا کر اس کے شوہر سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دے ورنہ ان کو قتل کردیا جائے گا اور پھر اس کا شوہر اس کی نظروں کے سامنے شہید کردیا جاتا ہے۔ کیا اس لڑکی پر کیا گیا ظلم تشدد نہیں ہے؟ کیا یہ ہراسمنٹ نہیں ہے؟ کیا وہ زندگی بھر خوف سے نکل پائے گی؟ میں سوچتی ہوں تو دماغ مفلوج ہوجاتا ہے۔ مگر وہ میں نہیں کشمیری ہیں! ان کا حوصلہ پھر بھی آسمان کی بلندیوں کو چھوتا ہے۔ وہ مائیں آج بھی مجاہدین کو جنم دیتی ہیں۔ ان میں روز موسٰی بن نصیر پیدا ہوتے ہیں۔ وہ طارق بن زیاد کی طرح اپنی کشتیاں جلاتے ہیں۔ آسیہ اندرابی کتنی ہی بار اس جرم میں جیل جاچکی ہیں کہ وہ سبز ہلالی پرچم لہراتی ہیں۔ مگر کوئی 14 اگست ایسا نہیں گزرتا جب وہ ایسا نہیں کرتی ہیں۔ کتنے ظلم توڑے گئے ان پر، ان کے شوہر پر، دونوں میاں بیوی کو انسانیت سوز قید میں رکھا گیا مگر اس عورت کا جذبہ کوئی چھین نہ سکا۔

کون کہتا ہے کہ عورت کمزور ہوتی ہے؟ آؤ دیکھو ان عورتوں کو جو آدھی بیوائیں ہیں، جن کے شوہر لاپتہ ہیں، پھر بھی وہ اپنے معصوم بچوں کو اس سوچ کے ساتھ پروان چڑھاتی ہیں کہ انہیں بھی اپنے باپ کے راستے پر چلنا ہے۔ قربان جائیے ان بچوں کے آدابِ فرزندی پر جو چھوٹی چھوٹی عمروں میں بندوقوں کا مقابلہ پتھروں سے کرتے ہیں۔ ان ننھے منے بچوں کی سنگ بازی سے فوج بھی ڈرتی ہے۔

قہقہے لگاتے ہوئے نجانے ہمیں معصوم بچوں کی سسکیاں کیوں سنائی نہیں دیتیں، نجانے دوپٹوں کو گھروں میں چھوڑ کر باہر نکلتے ہوئے ہمیں ان پاکیزہ بہنوں کی لٹی عصمتیں کیوں یاد نہیں آتیں، اور پھر جب کوئی کہتا ہے کہ کشمیر ہمارا مسئلہ نہیں ہے تو میرا دل کٹتا ہے۔ شہ رگ پر چھری چلتی محسوس ہوتی ہے۔ وہ سبز ہلالی پرچم میں لپٹے لاشے نوحہ کناں ہیں کہ

مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے