قدرت کا فیصلہ – اسامہ الطاف

ساتویں صدی ہجری میں مشرق اسلامی (ایران، ترکمانستان اور افغانستان) پر محمد بن خوارزم شاہ کی حکومت تھی۔ کتب تاریخ کے مطابق محمد بن خوارزم ابتدائی ایام میں ایک مدبر، صابر اور علماء کا اکرام کرنے والا حکمراں تھا۔ ان اوصاف کا حامل ہونے اور وسیع رقبے پر حکومت کے باوجود محمد بن خوارزم کی موت اپنے ملک اور اہل خانہ سے دور انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ایک دور دراز جزیرے میں واقع ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ محمد بن خوارزم کو ذاتی مفادات، امور مملکت اور رعایا پر مقدم تھے۔ تاتاریوں سے اس کا مقابلہ ہوا تو شکست کے بعد یہ عجیب خبط کا شکار ہوگیا۔ میدان جنگ سے اپنی دولت کے مرکز دارالحکومت فرار ہوا اور ملکی افواج کو سرحدی علاقوں سے ہٹاکر دارالحکومت میں اپنے اہل خانہ اور ثروات کی حفاظت پر تعینات کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تاتاریوں نے سرحدی علاقوں کو تہس نہس کردیا اور دارالحکومت کا رخ کیا۔ محمد بن خوارزم کو معلوم ہوا تو دارالحکومت سے فرار ہوگیا۔ تاتاریوں کے خوف سے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتا رہا، حتی کہ ایک دور دراز جزیرے میں زندگی کے آخری ایام گزارے۔ مال و دولت کی محبت میں ملک اور عزت دونوں گنوادیں۔

قدرت کا عجیب ہی نظام ہے۔ ظالم کو مہلت ملتی ہے حتی کہ رعایا مایوس ہوجاتے ہیں اور ظالم خود کو مختار کل سمجھنے لگتا ہے۔ آخر وقت تک ظالم اس زعم کا شکار رہتا ہے کہ وہ ناقابل شکست اور ناگزیر ہے۔ لیکن جب قدرت کی بے آواز لاٹھی حرکت میں آتی ہے تو ظالم پر زمیں تنگ ہوجاتی ہے اور وہ بے بس و لاچار ہوجاتا ہے۔ عذاب الہی کی پہلی علامت صحیح فیصلہ کی صلاحیت سے محرومی ہوتی ہے۔ پھر ظالم رفتہ رفتہ اپنے ہی غلط فیصلوں کی دلدل میں پھنسا جاتا ہے حتی کی تاریخ کا ایک سیاہ باب بن جاتا ہے۔ الطاف حسین کا انجام اس کی واضح مثال ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

عید سے ایک روز قبل وزیر اعظم نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کی۔ وہ ملک میں ہونے والے احتساب کے "تماشہ"سے نالاں تھے۔ فرمایا کہ حساب تو ہمیں مانگنا چاہیے اس ظلم کا جو 1972میں ہوا۔ گویا وزیر اعظم کو ریاست سے بھی شکایت تھی۔ ان کی گفتگو سے یوں محسوس ہوا جیسے ان کو اپنی شکست کا اندازہ ہوگیا ہے۔ البتہ شکست تسلیم کرنے سے وہ گریزاں ہیں۔ تعجب ہوتا ہے کہ صرف ایک سال قبل تک وزیر اعظم کے لیے سب اچھا تھا، مخالفین کا زور ٹوٹ چکا تھا، وہ پہلے سے زیادہ مضبوط نظر آرہے تھے، مبصرین اگلے الیکشن میں ان کی کامیابی کی نوید سنارہے تھے لیکن پھر اچانک پانامہ کیس سامنے آیا اور منظر نامہ مکمل تبدیل ہوگیا۔ قدرت کا فیصلہ میاں صاحب کے آڑے آگیا۔ پانامہ لیکس منظر عام پر آنے کے بعد حکمراں جماعت خبط کا شکار ہوگئی۔ ایک نہیں کئی غلط اقدامات اٹھائے گئے، متضاد بیانات سے اپنی ہی تضحیک کروائی گئی جس سے وزیر اعظم کی اخلاقی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ حکمرانی کے لیے عوامی حمایت اور اخلاقی قوت درکار ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے 2013ء میں عوامی حمایت حاصل کی لیکن 2016 میں حقائق کے پیش نظر اخلاقی قوت کھودی۔

قرآن کی سچی خبر ہے کہ مال اور اولاد فتنہ ہے۔ تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ محمد بن خوارزم اسی فتنہ کا شکار ہوا تھا۔ وزیر اعظم کی بھی یہی کمزوری ہے۔ پانامہ کیس تو صرف ایک بہانہ ہے، فیصلے آسمانوں پر ہوتے ہیں اور اہل زمیں کو صرف اسباب نظر آتے ہیں۔ وزیر اعظم کی سیاسی زندگی میں کئی عروج و زوال آئے لیکن موجودہ بحران مختلف نوعیت کا ہے۔ زمانہ بھی تبدیل ہوچکا ہے۔ غیب کا علم صرف اللہ کو ہے البتہ شواہد بتارہے ہیں کہ وزیر اعظم اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔

Comments

اسامہ الطاف

اسامہ الطاف

کراچی سے تعلق رکھنے والے اسامہ الطاف جدہ میں مقیم ہیں اور کنگ عبد العزیز یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے اخبارات و جرائد میں لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.