سانحہ بہاولپور: کچھ گزارشات - محمد دین جوہر

عید سے قبل احمد پور شرقیہ، بہاولپور میں آئل ٹینکر کا جو حادثہ ہوا، وہ اپنے اندوہ میں سہار اور اظہار دونوں سے فزوں تر تھا۔ ابھی ڈھنگ سے رو بھی نہ پائے تھے کہ اس سانحے پر خیال آرائی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس سانحے پر اب تک کثیر تعداد میں معلوماتی، اخلاقی اور فلسفیانہ مضامین لکھے جا چکے ہیں۔ ان مضامین سے غم تو کم نہ ہوا، لیکن بے بسی بڑھ گئی اور گِھن بھی آنے لگی۔ ایمائیت سے بھرپور ان مضامین کا مجھ پر جو مجموعی تاثر مرتب ہوا وہ یہی تھا کہ مرنے والے اپنی موت کے خود ذمہ دار تھے اور اگر چاہتے تو اس انجام سے بچ سکتے تھے۔ ہم بھول گئے کہ حادثہ تو زمینی ہے، اور موت آسمانی جو انسانی سوچ، ارادے اور منصوبہ بندی کی پابند نہیں ہے۔ تجزیے آسمانوں تک جا پہنچے اور ان کے قدموں تلے انسانی زمین ہی باقی نہ رہی۔ نزولِ موت سے قبل تک کے واقعات تجزیے اور خیال آرائی کا موضوع ہو سکتے ہیں، لیکن ان کو موت تک پھیلا دینا ازحد افسوسناک ہے۔ تقریبِ غم پر بھاشن اور فلسفے کے تازیانے برسانا بے حسی کو دوچند کر دیتا ہے۔ blaming the victim کے عمل میں دانشوروں کی جو ذاتی پوزیشن سامنے آئی ہے، اسے اخلاق اور تجزیے کا موضوع بنانا چاہیے تھا تاکہ جعلی ضمیر اور اس کی جھوٹی آسودگی کو آئینہ فراہم ہو سکے۔

سڑکیں، ان پر چلنے والی ٹریفک، ان پر لاگو ہونے والے قوانین اور ان کا انتظام، یعنی پورا مواصلاتی شعبہ ہمارے ریاستی نظام کا حصہ ہے۔ انسانی نظام میں زندگی اور موت دونوں کی گنجائش رکھی جاتی ہے۔ جس طرح سے سڑکوں کو درست اور ٹریفک کو رواں رکھنے کے انتظامات موجود ہیں، اسی طرح اس نظام میں حادثات کی روک تھام کے وسائل بھی فراہم ہیں کیونکہ لغزشِ انسانی کے امکان کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ گاڑی کو سڑک پر آنے کی اجازت دینے کا بھی ایک مفصل نظام موجود ہے جو اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ یہ road worthy ہے یا نہیں۔ لیکن حادثات واقع ہوتے ہیں، اور ان سے نمٹنے کے وسائل اور ان کا طریقۂ کار بھی اس نظام کے اندر موجود ہوتا ہے۔ ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ موٹر وے پولیس کا محکمہ قائم ہونے کے بعد حادثات میں ستر فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے، اور اس کا مطلب سمجھنے کی کوشش بھی ہونی چاہیے۔ پبلک دائرے (domain) میں ہونے والے واقعے کا تجزیہ اسی کی شرائط اور تحدیدات پر ہوتا ہے، جس سے اخلاقی، تقدیری اور تکوینی امور خارج ہوتے ہیں۔ تجزیے کی بنیاد کام، اس کی ذمہ داری اور اس کی انجام دہی تک محدود ہونی چاہیے۔ ایسے واقعات انشاپردازی اور فلسفہ آرائی کی کتنی گنجائش رکھتے ہیں، ان سے اہل نظر ضرور واقف ہوں گے۔

اس حادثے کے حوالے سے تین سوال اہم ہیں:
کیا یہ حادثہ روکا جا سکتا تھا؟
کیا حادثہ ہونے پر ہنگامی بنیادوں پر اس کا انتظام کیا جا سکتا تھا؟
کیا اموات کو روکا جا سکتا تھا؟

گزارش ہے کہ نہ حادثے کو روکا جا سکتا تھا، نہ اموات کو، کیونکہ دونوں غیرارادی ہیں اور تقدیری نوعیت کے ہیں۔ لیکن حادثہ ہونے کے فوراً بعد ہنگامی طور پر اس کا انتظام سنبھال کر لوگوں کو جائے وقوع سے دور رکھا جا سکتا تھا، اور اس کام کی ذمہ داری براہ راست ریاست کی ہے۔ ریاست کی عین وہی ذمہ داری ہے جو اموات کے فوراً بعد غیرمعمولی انداز میں سامنے آئی۔ یہی ذمہ داری حادثے کے معاً بعد اور اموات سے پہلے بھی سامنے آ سکتی تھی، اور یہی بات تجزیے کا موضوع ہو سکتی تھی۔ اُس محدود وقت میں کچھ بھی نہ ہوا یا اگر ہوا بھی تو ناکافی تھا۔ یہ حادثہ ایک بھرے پُرے شہر کے بالکل قریب واقع ہوا، اس لیے اموات سے پہلے اس سے نمٹنے کے وسائل اور مواقع بھی زیادہ تھے۔ لیکن اس طرف دھیان بہت کم گیا ہے۔ غریب لوگوں کی اموات کو ان کا جرم بنا دینا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ حد درجے کا کٹھور پن اور بدذوقی بھی ہے۔

اس حادثے پر لکھے جانے والے مضامین میں جو منطق سامنے آتی ہے، اگر اسے کچھ پھیلایا جائے تو حادثات کی مکمل روک تھام ممکن ہے، اور وہ یہ ہے کہ سڑکوں پر ٹریفک ہی بند کر دی جائے، نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ جعلی منطق ہے اور اس کا مقصد ذمہ داری کے سوال کو اِدھر اُدھر کرنا ہے۔ دوسرے یہ کہ ہر انسانی موت سے ماقبل جو فطری، سماجی اور تاریخی واقعات رونما ہوتے ہیں ان کی براہ راست ذمہ داری انسان ہی پر عائد ہوتی ہے۔ ان واقعات کی ایک تعبیر ایمانی بھی ہو سکتی ہے اور علمی بھی۔ عین ایک جیسے واقعات میں نتائج بالکل مختلف ہو سکتے ہیں۔ ایمانی طور پر ہم ان واقعات کو موت کا سبب قرار نہیں دیتے، کیونکہ تاریخی واقعات سے اگر تقدیری نظام کی حرکت ظاہر ہو جائے، تو وہ فیصلہ اللہ کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم “اللہ کی مرضی” کہہ کر اس پر صبر کرتے ہیں۔ اگر ان اموات کی وجہ لالچ، غربت، جہالت یا پس ماندہ نفسیات وغیرہ ہے تو ہمیں اس قضیے کو دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس منطق پر ہم پسماندہ نفسیات کے حامل، لالچی، غریب اور جاہل نہیں ہیں، اس لیے زندہ ہیں یا جو بچ رہے ہیں وہ ان رزائل سے پاک ہیں۔ العیاذ باللہ۔ یہ تجزیاتی اسلوب نہایت افسوسناک اور تباہ کن ہے، اور ان میں ظاہر ہونے والا ذہن انسانی معلوم نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ایسے متکبرانہ تجزیوں اور جھوٹے نتائج سے محفوظ رکھے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو تاریخی اور سماجی واقعات پر ہمارے اکثر تجزیے اسی طرح کے ہوتے ہیں۔ علمی تجزیے صرف ان احوال و عواقب تک ہو سکتے ہیں جو انسانی دائرہ اختیار میں ہوتے ہیں، اور ایسا عمل جو انسان کو موت کے منہ میں لے جائے وہ انسانی اختیار ہی سے سامنے آتا ہے، لیکن پھر بھی اسے موت کا سبب قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ موت اللہ کا فیصلہ ہے اور کوئی انسانی فیصلہ اور کام اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔

گزارش ہے متفق علیہ اخلاقی، تقدیری اور تکوینی مسلمات چونکہ براہ راست انسان سے متعلق ہیں اور انسان ہر سماجی اور تاریخی صورت حال کا مرکزی کردار ہے۔ تھوڑا سا کھسکا کے ان مسلمات کو صورت حال پر منطبق کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ کسی بھی صورت حال میں شریک انسان ہماری طرح اخلاقی عیوب سے پاک نہیں ہوتا، اور اخلاقی بنیادوں پر ہر انسان کی گرفت کی جا سکتی ہے۔ ایسے موقع پر کسی بھی انسانی رویے کو اخلاقی کمزوری قرار دے کر خود victim پر فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے، جیسے کہ اس معاملے میں ہوا۔ اس طریقۂ کار سے مسلمات کی حیثیت آلاتی ہو جاتی ہے، اور اس کا مقصد صورت حال کی تغلیط اور ذہنی التباس پیدا کر کے انسانی ذمہ داری کے سوال کو پس پست ڈالنا ہے۔ صورت حال اور مسلمات کی کھینچا تانی میں مسلمات ایک ڈنڈے کی طرح صورت حال اور اس میں شامل انسانوں کو ہانکنا شروع کر دیتے ہیں۔ بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں جو مسلمان روز مارے جا رہے ہیں، اور ہندوتوا نواز بھارتی پریس میں جو تجزیے سامنے آتے ہیں، ان میں قصور وار مرنے والے ہی ہوتے ہیں۔ اسی طرح کشمیر کے مسلمان، غزہ کے فلسطینی، شام اور عراق کے عوام بھی اپنی تباہی کے ذمہ دار خود ہی ہیں۔ ان مسلمات کو انسان سے براہ راست متعلق کرنے کی بجائے اگر صورت حال اور سسٹم سے متعلق کر دیا جائے تو اسی طرح کے غیرانسانی نتائج ہی برآمد ہوتے ہیں۔ اگر آدمی کو دس بیس مسلمات یاد ہو جائیں تو اسے وعظ کی لت پڑ جاتی ہے۔ اب تو صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ مسلمانوں کے واقعاتی حالات پر گفتگو تقریباً ناممکن ہو گئی ہے کیونکہ وعظ کا ہوکا اس قدر ہے کہ جس بھی موضوع پر بات ہو ایک طرح کے مسلمات، پیش گوئیاں، خواب اور سازش کے نظریات وغیرہ ہی دہرائے جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تاریخی صورت حال کا تجزیہ کر کے اس میں اپنی انسانی ذمہ داری کا سوال اٹھایا جائے تاکہ ہم اپنے تاریخی اور سماجی کردار کی معنویت کو ازسرنو دریافت کر سکیں۔

لیکن اس میں بھی ایک مسئلہ ہے۔ ہمارا روزمرہ تجربہ بتاتا ہے کہ تاریخی اور سماجی صورت حال تو بھیانک ہے، اور اس کا درست علمی تجزیہ مایوسی پیدا کرتا ہے، کیونکہ ہماری امیدیں اسی تاریخ سے وابستہ ہیں جو ہمیں روندتے ہوئے گزر رہی ہے۔ ہمارا تجزیہ ہمیں وہ چیز بتانے پر ہرگز مائل نہیں ہے جو ہمارے تجربے میں ہے۔ اس حالت میں اخلاقی مسلمات اور جعلی تجزیے ہماری یاوری کرتے ہیں، جو ہمارے ضمیر کو مطمئن رکھتے ہیں، اور اپنی انسانی اور دینی ذمہ داریوں کی طرف دھیان بھی نہیں جانے دیتے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • "لیکن حادثہ ہونے کے فوراً بعد ہنگامی طور پر اس کا انتظام سنبھال کر لوگوں کو جائے وقوع سے دور رکھا جا سکتا تھا،"
    لیکن کہ لوگ خود کیوں نہیں سمجھتے کہ ایسی خطرناک چیزوں سے خود کو بچانے بھی چاہے کہ اسلام کا حکم بھی یہ ہی ہے کہ پہلے اپنی جان بچاؤ. اور ویسے اسلام کے علاوہ انسانی عقل بھی یہ ہی کہتی ہے کہ لالچ بری بلا ہے اور دوسری بات کہ کیا یہ پیٹرول ان کے لےحلال تھا جب کہ ہم لوگ ہر چیز میں حلال اور حرام کا پوچھتے ہیں ؟ دوسری بات کہ صبح سویرے میلوں دور سے ، وہ بھی رمضان کی آخری راتوں کو لوگ وہاں ایک دم کیسے آگئے ؟

    " ایک سوال ہمارے ذہن میں ایسا تھا جس کا جواب کسی بھی اخباری خبر میں نہیں تھا۔ جائے حادثہ کے اطراف کئی کلومیٹر تک کوئی آبادی نہیں، کیا یہ ممکن ہے کہ چھٹی کے دن صبح چھ بجے آنا فانا لوگ بالٹیوں اور برتنوں کے ساتھ میلوں دور سے اکٹھے ہو جائیں؟

    جب اس سوال کا جوا ب جاننے کی کوشش کی گئی تو متاثرہ گائوں کے ایک شخص (جو کہ شدید صدمہ میں تھا) نے بتایا کہ گائوں کی مسجد میں اعلان کر کے بتایا گیا تھا کہ ہائی وے پر ایک آئل ٹینکر الٹ گیا ہے اور بڑی مقدار میں تیل گر رہا ہے۔ اس اعلان کے بعد خواتین نے اپنے سوتے بچوں کو بھی جگا کر جائے حادثہ پر روانہ کیا۔ تاہم حادثہ کے بعد ایک سرکاری اہلکار نے جائے حادثہ پر موجود نامہ نگاروں کو بتایا کہ مسجد والی بات پریس کو نہیں بتانی
    محمد عامر اوپل

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */