نامراد - احسان کوہاٹی

ٹیلی ویژن اسکرین پر وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف کا سانحہ احمد پور شرقیہ کے متاثرین سے گفتگو کا منظر تھا۔ پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ سڑک پر الٹنے والے آئل ٹینکر کی آگ نے سیکنڈوں میں جیتے جاگتے انسانوں کو خشک لکڑی کی طرح جلا کر کوئلہ کر دیا تھا۔ وزیر اعظم لندن میں تھے، سانحے کی اطلاع ملنے پر انہیں وطن آنا مناسب لگا۔ نہ آتے تو حزب اختلاف کو ایک اور موقعہ مل جاتا۔ شیخ رشید نے لال حویلی سے لال سرخ بیان داغ دینا تھا اور بنی گالا سے عمران خان نے بھی طنز بھرے نشتر برسا دینے تھے۔ سوشل میڈیا پر ہوا ویسے ہی مخالف چلتی ہے، اس میں اور تندی آجاتی۔ کوئی اور وقت ہوتا تو میاں صاحب شاید اس کی پرواہ نہ کرتے لیکن الیکشن بن بادل برسات کی طرح کسی بھی وقت لباس گیلا کر سکتا ہے، اس لیے انہوں نے وطن واپسی کا بہتر فیصلہ کیا اور اب وہ کیمروں کے سامنے اس سانحے پر اپنے جذبات کا اظہار کر رہے تھے۔

اگر دفتر والے اسے عید کے پہلے دن چھٹی نہ دیتے تو سیلانی وزیر اعظم صاحب کے اس اظہاریے سے محروم ہی رہتا۔ سیلانی نے عید کیا منانی تھی بیگم صاحبہ بچوں کے ساتھ میکے گئی ہوئی تھیں، وہ نماز پڑھ کر آیا، والدہ اور چھوٹے بھائی کی فیملی سے عید مل کر بچوں کو عیدی دی اور ٹیلی ویژن لگا کر بیٹھ گیا۔ چینل بدلتے بدلتے اسے میاں صاحب نظر آئے تو ریموٹ رکھ کران کے آس پاس کھڑے لوگوں میں صالح ظافر تلاش کرنے لگا۔ یہ مشہور ”قصیدہ خواں” وہاں دکھائی نہیں دیا۔ کیمرا شہباز شریف پر فوکس ہوگیا، وہ خطاب کر رہے تھے۔ ان کے خاموش ہوتے ہی بڑے میاں صاحب افسوس کا اظہار کرنے لگے اور کرتے کرتے کہنے لگے:
“میں اسپتال میں ایک زخمی نوجوان سے ملا، اس کی حالت بھی تشویش ناک ہے۔ اللہ اسے صحت دے۔ وہ نوجوان کہنے لگا کہ میاں صاحب! آپ سے ملنا تو میری زندگی کی بڑی خواہش تھی، دیکھیں اب ملاقات بھی ہوئی ہے تو کہاں۔ میں بھی جذباتی ہو گیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ وہ بیروزگار ہے، میں نے دس لاکھ روپے کا چیک تو اس کے بھائی کو دیا اور اسے یقین دلایا کہ وہ صحت یاب ہوجائے تو اسے ملازمت بھی دی جائے گی۔”

سیلانی میاں صاحب سمیت نوے فیصد سیاست دانوں کو صادق اور امین نہیں سمجھتا لیکن سیلانی کو آج وہ سچے سچے سے لگے۔ یقیناً ایسا ہی ہوا ہوگا۔ جھلسے ہوئے زخمی نوجوان کی زندگی کی بڑی خواہش ہو سکتی ہے۔ جانے اس بیچارے نے میاں صاحب سے ملنے کے لیے کیا کیا جتن کیے ہوں گے اور کب سے یہ مراد پالی ہوئی ہوگی؟ اب اس کی خواہش پوری ہوئی بھی تو اس حالت میں کہ وہ جھلسے ہوئے بدن پر اتری ہوئے کھال کے ساتھ بستر پر پڑا ہوا تھا۔

میاں صاحب کے منہ سے یہ بات سن کر سیلانی کو کچھ عجیب سا لگا۔ یہ بات کچھ بے موقع سی تھی۔ اگر یہ بات شہباز شریف کہہ دیتے یا صالح ظافر جھلسے ہوئے نوجوان کے بجائے دم توڑتے شخص کی آخری خواہش کی تکمیل لکھ دیتا تو ایسا عجیب نہ لگتا کہ ان کا تو کام ہی یہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ میاں صاحب چھوٹے بھائی سے توقع کر رہے ہوں کہ وہ بڑے بھائی کی مقبولیت ثابت کرنے کے لیے اس بات کا ذکر کر دیں گے لیکن وہ بھول گئے اور یوں میاں صاحب کو خود ہی بتانا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:   تڑیوں سے ترلوں تک - سید طلعت حسین

جھلسے ہوئے نوجوان کی زندگی کی خواہش کا سن کر سیلانی کو ایک اور منظر یاد آگیا۔ یہ منظر لاہور میں پیپلز پارٹی کے جلسے کا تھا۔ اسٹیج پر جیالی قیادت غریبوں، مزدوروں، کسانوں کے دکھ سینے میں لیے براجمان تھی۔ ایسے میں ایک جیالے کی محبت جوش مارتی ہے وہ جیے بھٹو کا نعرہ لگاتے ہوئے بھٹو کی نشانی سے ملنے کے لیے اسٹیج پر چڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے مجھے بلاول سے ملنا ہے مگر اسے ملتا کیا ہے؟ پہلے دھکے، پھر مکے اور اس کے بعد لاتیں۔ اسٹیج پر موجود جیالے اور پارٹی کے سیکیورٹی اہلکار اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ کاش بات مار پیٹ تک ہی رہتی مگر اس بیچارے کے تو کپڑے تار تار کر دیے گئے۔ سیلانی کے پاس محفوظ فوٹیج میں اس کی قیمض صرف گلے میں جھول رہی تھی۔ شلوار جسم سے علیحدہ ہو کر اسے عریاں کیے دے رہی تھی۔ ایسی ذلت کے زمین پھٹے اور بندہ اس میں سما جائے۔ اپنی قیادت سے ملنے کی خواہش کی ایسی شرمناک ذلت آمیز سزا کہ سیلانی کانپ کر رہ گیا۔ جب اس نوجوان کے کپڑے تار تار ہوگئے تب بلاول بھٹو زرادری کے ساتھ موجود قمر الزماں کائرہ صاحب کو اسٹیج کے ایک طرف گڑبڑ کا احساس ہوا۔ وہ آئے اور اس نوجوان پر وہاں موجود چادر ڈال کر ستر پوشی کی۔

اب ایک منظر سیلانی آپ کو بے نظیر بھٹو پارک میں کامریڈ محمد خان سے ملاقات کا بھی بتاتا ہے۔ سیلانی بے نظیر پارک میں بھٹو خاندان کے فیملی فوٹوگرافر آغا فیروز کی تصویری نمائش دیکھنے گیا۔ آغا بھٹو خاندان کی ڈیڑھ لاکھ تصاویر سنبھالے ہوئے ہے۔ وہ کراچی سے کشمیر تک 80 نمائشیں لگا چکا ہے۔ کراچی میں بھی وہ اکثر اسی پارک کے ہال میں یہ تصویریں لگا کر بھٹو خاندان کے کسی فرد کی آمد کی آس لگا لیتا ہے مگر آج تک اس کی یہ آس پوری نہیں ہوئی کہ اس کی ان تصویری نمائش کا افتتاح بھٹو فیملی کا کوئی فرد آکر کرے۔ اسی “نامراد" کی نمائش میں سیلانی کی ملاقات پیپلز پارٹی کے ترنگے کے رنگ کا چوغا پہنے کامریڈ سے ہوئی۔ کامریڈ نوشہرو فیروز کا رہنے والا ہے اور ایک سال سے کراچی کے پارکوں کے فٹ پاتھ پر وقت گزار رہا ہے۔ اس کی بھی یہی خواہش ہے کہ وہ بی بی محترمہ کے نشانیوں سے ملے، اپنی قیادت کے قدموں میں بیٹھ کر انہیں دیکھے اور اگر وہ مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھائیں توان کا ہاتھ چوم لے۔ لیکن ایک برس سے اس کی یہ مراد پوری نہیں ہو رہی۔ اب اس کے اندر غصہ آگیا ہے، وہ بولتا ہے تو اس کے منہ سے لفظ نہیں آگ نکلتی ہے۔ اسے سیلانی کا پتہ چلا کہ یہ میڈیا سے ہے تو وہ اس کے پاس چلا آیا۔

“سائیں میری بھی فلم بھرو” سندھ کے دیہات میں مووی بنانے کو فلم بھرنا کہتے ہیں۔ سیلانی نے اس کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا کہ بھائی آپ نے ایسا کیا کیا ہے جو آپ کی فلم بھری جائے۔

“میں انٹرویو دوں گا، میں تیس سال پرانا جیالا ہوں، نوشہرو فیروز سے آیا ہوں، مجھے یہاں کراچی میں ایک سال ہوگیا ہے لیکن ابھی تک میری بھٹو صاحب لوگوں سے ملاقات نہیں ہوئی”
“آپ ان سے کیوں ملنا چاہتے ہو؟”
“سائیں میں پارٹی ورکر ہوں جیالا ہوں اور یہ لوگ مجھ سے کیوں نہیں ملتے، پیپلز پارٹی غریبوں کی پارٹی ہے، یہ بھٹو کی پارٹی ہے، یہ دیکھو یہ دیکھو بھٹو صاحب نے غریبوں کے ساتھ فوٹو بنوایا ہے، یہ دیکھو ان کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے، یہ کیوں نہیں ہمارے ساتھ ملتے؟ یہ اب محلوں میں جا کر ہم غریبوں کو بھول گئے ہیں، اب یہ وہ پارٹی نہیں ہے، نہیں ہے وہ پارٹی، ہاں بالکل بھی نہیں ہے وہ پارٹی”۔

یہ بھی پڑھیں:   میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا - حبیب الرحمن

اب یہ منظر بھی دیکھیں، یہ میاں صاحب کی معزولی اور گرفتاری کا ہے۔ ملک کا “منتخب اور ہر دل عزیز“ وزیر اعظم نواز شریف کو معزول کر کے کراچی کے ملیر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ مشرف بلاشرکت غیرے اقتدار کا مالک بن بیٹھتا ہے۔ ملک میں مارشل لاء لگ جاتا ہے، پروٹوکول کی نرم آرامدہ گاڑی کی جگہ اب نوازشریف بکتر بند گاڑی میں جیل سے عدالت لائے اور لے جائے جاتے ہیں۔ ان کی پیشیاں ہوتی ہیں، وہ جج کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور خلق خدا سڑکوں پر کسی احتجاج کے لیے پیش نہیں ہوتی۔ مسلم لیگ ن پھس پھسی تحریک چلاتی ہے اور بالآخر نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نواز کو گھر سے باہر قدم نکالنے پڑتے ہیں۔ مگر ان کا یہ اقدام بھی کسی بڑی عوامی تحریک کی بنیاد نہیں بن سکا۔

اچھا یہ منظر دیکھیے، یہ ترک صدر اردوگان ہیں جو بچوں کو عیدی دے رہے ہیں اور عام لوگوں سے عید مل رہے ہیں۔ یہ انہوں نے ایک وہیل چیئر پر موجود بزرگ کے سامنے سر جھکایا اور اسے نے دونوں جھریوں بھرے ہاتھوں سے اردوگان کا چہرہ لیا اور پیشانی پر شفقت محبت عقیدت کی مہر لگا دی۔ اب اس کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے ہیں اور اپنے لیڈر کے لیے خدائے بزرگ وبرتر سے جانے کیا کچھ مانگ رہاہے۔ کیا سیلانی آپ کو سال بھر پیچھے لے چلے کہ جب ترک فوج کے ایک حصے نے بغاوت کی ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ سڑکوں پرسنائی دینے لگی تو لاکھوں ترک مائیں، عورتیں، بچے اور بوڑھے ان ٹینکوں کے سامنے آگئے، ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے۔

قیادت عبادت جیسی ہو تو لوگوں کی محبت بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔ میاں صاحب کے لیے یہ بات باعث فخر نہیں باعث خفت ہونی چاہیے کہ ایک پاکستانی نوجوان کی ان سے ملنے کی تمنا اس وقت ہی پوری کیوں ہوئی جب وہ ستر فیصد جھلسے ہوئے بدن کے ساتھ زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا۔ اگر سانحہ بہاولپور نہ ہوا ہوتا، وہ نوجوان جھلسا نہ ہوتا یا الیکشن کا وقت قریب نہ ہوتا اور وزیر اعظم صاحب اتنے مہربان نہ ہوتے تو شاید نہیں یقیناً اس کی اپنے قائد سے کبھی بھی ملاقات نہ ہوتی۔ ہمارے سیاستدان خود کو کون سی مخلوق سمجھتے ہیں، ان کے اور ان گندے سندے لوگوں کے درمیان اتنے فاصلے کیوں رہتے ہیں۔ دونوں بڑی پارٹیوں کی قیادت جیل یاترا کر چکی ہے، وقت کا پھیر بدل دیکھ چکی ہے، پھر بھی ان کا مزاج نہیں بدلا؟ وہ کروفر اور وہی رعونت۔ یہ کہتے ہیں کہ ملک میں سیاستدانوں سے زیادہ فوجی آمروں نے حکومت کی، بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔ آئندہ بھی یہ تلوار ان کے سروں پر لٹکتی رہے گی اور تب تک لٹکتی رہے گی جب تک یہ اردوگان نہیں بن جاتے۔ یہ اردوگان بنیں گے تو پاکستانیوں کو بھی ترک بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ یہ بھی کسی آمر کے آنے پر ٹینکوں کے سامنے لیٹنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ سیلانی یہ سوچتا ہوا، وزیر اعظم کو اسکرین پر بات کرتا دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.