قانون کی عملداری کیوں ضروری ہے؟ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

کوئٹہ میں ٹریفک پولیس کے اہلکار کو دن دہاڑے اپنی گاڑی تلے کچل دینے والے ایم پی اے مجید اچکزئی کے کیس کی ہینڈلنگ دیکھ کر شاہ رخ جتوئی اور مصطفی کانجو کے کیسز یاد آنے لگتے ہیں. کیسے قانون ان کے سامنے مجبور ہو گیا تھا.

اچکزئی صاحب کے سامنے تو قانون مجبور ہی نہیں مظلوم بھی لگ رہا ہے. مندرجہ بالا کیسز میں تو پھر کچھ ابہام تھا جس کے لیے تحقیقات کی ضرورت تھی، یہاں تو ایک ایک لمحہ کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا. پھر بھی ان کے ساتھ پولیس کا سلوک دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے قصور پولیس کا ہے اور اچکزئی صاحب کا قیمتی وقت برباد کیا جا رہا ہے. حوالات میں گھر جیسا آرام اور اس پر مستزاد ایم پی اے صاحب کی بڑھکیں.

اگر آپ کسی سرکاری آدمی سے اس صورتحال پر تبصرہ چاہیں تو وہ یہ کہہ کر آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کرے گا کہ ان کا تعلق پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی سے ہے اور ان کو خوش رکھنا ضروری ہے، یہ ملکی سلامتی کا معاملہ ہے. عرض یہ ہے صاحب کہ قانون کی عملداری سے اگر یہ ملک ٹوٹتا ہے تو کل کا ٹوٹتا آج ٹوٹ جائے، لیکن قانون کو تماشا مت بننے دیں. ویسے یہ بھی سن لیجیے، آج تک کوئی ملک قانون پر عملدرآمد سے نہیں ٹوٹا. قانون شکنی سے ضرور یہ حادثہ جلد یا بدیر رونما ہو کر رہتا ہے، خود پاکستان بھی اس تجربے سے گزر چکا.

حقیقت یہ ہے کہ جسے ملکی سلامتی کا مسئلہ بنا کر پیش️ کیا جاتا ہے، وہ دراصل حکومت کی سلامتی کا مسئلہ ہوتا ہے. حلیف پارٹی یا اراکین ناراض ہوگئے تو اسمبلی میں نمبر گیم موافق نہیں رہے گی. یہ بہت بڑا دھوکہ ہے جو عوام کو دیا جاتا ہے تاکہ وہ خاموش رہیں. اسی واسطے تہذیب یافتہ ممالک میں اعلی مناصب پر فائز لوگ فوراً استعفے دیتے ہیں تاکہ ان پر حکومت بچانے کے لیے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کا الزام نہ لگ جائے. کسی حال میں بھی حکومت کا مفاد اور مملکت کا مفاد خلط ملط نہیں ہونے دیا جاتا. ہم حکومتیں بچانے کی جطر مملکت کی جڑیں مسلسل کھوکھلی کیے جا رہے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان کے نوجوان اب بھی لائبریری کے لیے کوشاں ہیں - گہرام اسلم بلوچ

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بلوچستان میں داعش آئے گی یا ریاست پاکستان کی رٹ باقی رہے گی، اس کا مجید اچکزئی صاحب کے کیس سے گہرا تعلق ہوگا. ریاست اگر چُوک گئی تو پھر ایک جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مورال گرے گا اور دوسری جانب دادرسی کے متوازی و متبادل مراکز وجود میں آنے کا امکان پیدا ہونے لگے گا. افغانستان میں وار لارڈز کیسے بنے اور مرکزی اتھارٹی کیونکر کمزور ہوئی، سب ہمارے سامنے ہے. پھر کوئی وارلارڈز کسی گروہ کا پشت پناہ بنتا ہے اور کوئی کسی کا. یوں حکومتی اتھارٹی ختم ہو کر رہ جاتی ہے.

پاکستان میں دہشت گردی، فرقہ واریت ، پارا چنار و ہزارہ قتل عام جیسے واقعات، کراچی بد امنی، گورننس کے مسائل، سول ملٹری کشمکش، ٹریفک حادثات، رشوت ستانی، سماجی ناانصافی. غرض یہ کہ، 99.99 فیصد مسائل کے پیچھے ایک ہی بنیادی وجہ ہے، صرف ایک، قانون کی عملداری کا فقدان.

اگر قانون کی بالادستی نہیں تو پھر ملک برف کی ایک سِل سے زیادہ کچھ نہیں جو قانون شکنی کی چلچلاتی دھوپ میں دھرا پل پل پگھل رہا ہے. اب ہماری مہلت کا تعلق ”امکان“ سے نہیں، بقایا وقت سے ہے. تاہم اگر ہم قانون کی پاسداری یقینی بنائیں تو ایک مستحکم، ناقابل تسخیر، متحد اور خوشحال پاکستان ہمارے سامنے ہو گا، اگلے چار سے چھ سال کے اندر اندر.

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.