غافلوں کے ليے پیغام بیداری - اشفاق پرواز

اگر موجیں ڈبو دیتیں تو کچھ تسکین ہوجاتی

کناروں نے ڈبویا ہے مجھے اس بات کا غم ہے

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا تھا کہ “دنیا کی سعادت و کامرانی کی منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان نوجوان اپنی قربانیوں سے ایک پل تعمیر کریں اس پل پر گزر کر دنیا بہتر زندگی کی منزل تک پہنچ سکتی ہے۔‘‘

زمانہ اپنی پوری رفتار اور روانی کے ساتھ منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ اس کی رفتار میں حبہ اور شمہ برابر کمی اور سست رفتاری کا صدور ناممکن ہے۔ ایک عہد کا خاتمہ ہوتا ہے تو دوسرے عہد کی شروعات ہوجاتی ہے۔ نسلیں بدلتی رہتی ہیں، حالات میں اتھل پتھل اور مد و جزر ہوتا رہتا ہے۔ یہاں پر دوام و استمرار اور قرار کسی کو نہیں ہے۔

دوام و استحکام سے عاری،قرار و استمرار سے ماوراء، اس دنیا میں نہ جانے کتنے علوم و فنون وجود میں آئے، کس قدر ایجادات واکتشافات نے جنم لیا، کس قدر محیر العقول کارنامے ہوئے اور کتنی عالی دماغ اور شہ زور قومیں پیدا ہو کر فنا ہوگئیں، عقلاء و محققین کی تحقیقات، سائنسی و ٹیکنالوجی ایجادات اور شبانہ روز کی محنتیں رہ گئیں، کارناموں سے شخصیات کو اور شخصیات سے زمانوں کو یاد کیا جاتا رہا، انسان کی بے لوث محنت، جذبۂ خدمت خلق، خیر سگالی، اعلی ظرفی، قلمی و علمی خدمات اور جدید علمی اکتشافات عموماً فنا نہیں ہوتے، ان کے قدر دانوں کی ایک کھیپ اور اچھی خاصی تعداد موجود رہتی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ زمانہ نیکوکاروں، اچھے لوگوں، اور صالح و برگزیدہ انسانوں سے یکسر خالی و عاری ہوگئی ہو۔ ہر دور اور ہر زمانے میں کچھ نہ کچھ تعداد ایسے فرشتہ صفت لوگوں کی رہی ہے جن کے اصلاحی کارناموں، دعوتی مجاہدوں، علمی وتصنیفی تحقیقی اور اجتہادی کاموں کو آئندہ نسلیں نہ صرف سراہتی اور قبول کرتی ہیں بلکہ ان کے ذریعہ صحیح سمت اور درست راستوں کا تعین کرنے میں مدد بھی لیتی ہیں۔

اس زمانہ میں بھی پچھلے زمانوں کی طرح پچھلوں کی ذمہ داریاں اگلوں پر عائد ہوتی ہیں۔ نئی نسلوں کے کاندھوں پر وہ گرانبار بوجھ ہے جو اپنے بزرگوں کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔ ان ذمہ داریوں کا صحیح فکر، احساس اور شعور نئی نسلوں کا اولین فریضہ ہے۔ ہمارے اسلاف اور اکابر نے ہم سے جو توقعات اور امیدیں وابستہ کی ہیں، جن خوابوں اور آرزؤوں کو لے کر وہ ہم سے جدا ہوئے ہیں، ان کی توقعات پر پورا اترنا ہی نسل نو کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بیکار ڈگریاں - علی معین نوازش

ہمیں اپنے اعمال و افعال اور اخلاق و کردار سے ثابت کرنا ہے کہ ہمارے بزرگوں کی محنتیں اور شبانہ روز کی کوششیں بے سود اور رائیگاں نہیں گئیں۔ مذموم اعمال و افعال ،فاسد اخلاق و عادات، مکروہ طور و طریقوں اور غلط روش سے نہ صرف خود کو بچانا ہوگا بلکہ عقل و دانائی اور صالح فکر وشعور کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے ساتھ اپنے عزیز و اقارب،محبین و متعلقین اور ایک خدا کا نام لینے والی قوم کو راہ راست پر لانا ہے۔ ہمیں عزم مصمم کرنا ہوگا کہ ایسے حالات اور ایسے مواقع نہ پیدا ہو نے دیں جس کی طرف قرآن کریم نے واضح الفاظ میں اشارہ کیا ہے: ظہر الفساد فی البر والبحر لیذیقہم بعض الذی عملوا لعلہم یر جعون (روم 41) (ترجمہ) خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تا کہ خدائے تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا مزہ چکھائے، عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں۔

ہمارے نوجوانوں کا فکر اسلاف کے افکار کا ترجمان ہونا چاہیئے۔ ان کے افکار و علوم کی ہم آہنگی، نشست و برخاست کی یکسانیت اور اقوال وافعال کی موزونیت ہی حقیقی ترقی کا ذریعہ اور وسیلہ ہے۔ اگر باپ خوبیوں، اچھائیوں اور نیکیوں سے مالامال تھا تو اس کے بیٹے میں بھی اچھائیوں اور خوبیوں کی صفات بدرجہ اتم موجود ہونی چاہیئں۔ بزرگوں کے ارشادات و ملفوظات، ان کے فرامین و احکامات، ان کے حالات طیبات اور ان کے نقوش قدم پر چلنے سے ہی ہمارے راستوں کی رکاوٹیں دور اور ہماری مشکلات کافور ہوں گی۔

ہمارے نوجوانوں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ علوم وفنون کی چاہے جس یونیورسٹی سے فارغ ہوں، سندات اور ڈگریوں کے چاہے جتنے پشتارے حاصل کرچکے ہوں، پھر بھی انہیں اپنے سے پہلوں کو کسی بھی طرح خاطی، قصوروار، کم فہم اور کج علم نہیں سمجھنا چاہیئے۔ ممکن ہے سندات کے لحاظ سے آپ آگے ہوجائیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ڈگریوں کا پشتارہ جو آپ نے حاصل کیا ہے، اسے حاصل کرنے میں پہلے لوگ ناکام رہے ہوں، اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آپ اپنے زمانہ کے رائج جملہ علوم و فنون میں مہارت پیدا کر کے اپنے ہم عصروں میں طاق اور ممتاز ہو چکے ہوں لیکن کیا ڈگریوں کے اس جم غفیر، سندات کے ان ڈھیروں اور "مصلوں" کے حصول سے آپ امام غزالیؒ بن سکتے ہیں؟ کیا رازیؒ اور ارسطو کو فیل کر سکتے ہیں؟ کیا بوعلی سینا اور شکسپیئر ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں؟ کیا علامہ اقبال اور مولانا سید ابوالاعلی مودودی کے ہم پلہ ہونے کا گمان ہوسکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں! اس لیے کہ پچھلوں کے پاس صدیوں سالہ تجربات کی وراثت تھی اور اب محض علوم و فنون کی ڈگریاں ہیں۔ پچھلوں کے پاس اپنے علم پر عمل کرنے کی خوبیاں تھیں اور اب اپنے علوم پر غرور، تکبر اور گھمنڈ کی صفات پیدا ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بیکار ڈگریاں - علی معین نوازش

نئی نسلوں کو خوب سمجھ لینا چاہیئے کہ جس وقت وہ اپنے سے پہلے لوگوں پر لعن و طعن کے تیر و نشتر چلانا شروع کردیتے ہیں، اپنی تخلیقات اور اپنی تحقیقات کو حرف آخر سمجھنے لگتے ہیں، تو ان کے تنزل، گمراہی اور بے راہ روی کی یہ سب سے پہلی منزل اور گمراہی کا سب سے پہلا زینہ ہوتا ہے۔ پھر وہی استدراج گمراہی اور گمراہی قعرمذلت بن جاتی ہے۔

جن لوگوں نے اپنے سے پہلوں کو برا کہا ان کے بعد کی نسلوں نے ان کے ساتھ بھی وہی حشر کیا جو انہوں نے کیا تھا۔ درخت اپنی جڑوں سے پہچانا جاتاہے، ہماری جڑیں ہمارے آباء و اجداد ہیں۔ اس لیے ہمیں ایسا موقع نہیں دینا چاہیئے کہ ہماری وجہ سے ہمارے اجداد کی عزت و عظمت اور ان کے وقار پر داغ لگے۔

گنوادی ہم نے جواسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

 

حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی

نہیں دنیا کے آئین مسلم سے کوئی چارہ

 

مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

Comments

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز ٹنگمرگ، مقبوضہ کشمیر کے جواں سال قلم کار ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی اخبارات میں ان کے کالم شائع ہوتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھنے والوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ملت کےساتھ رابطہ استوار رکھ
    پیوستہ رہ شجر سے ، امید بہار رکھ
    عطا مومن کو پھر درگا ہ حق سے ہونے والا ہے
    شکوہ ترکمانی ، ذہن ہندی، نطق اعرابی (اقبال)