کیا سید صلاح الدین دہشت گرد ہے؟ آصف محمود

امریکہ نے سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ یہ خبر پڑھی تو رچرڈ ریویز یاد آ گئے۔ عشرہ قبل انہوں نے کہا تھا: ’’ہم امریکی اپنی رہنمائی کے حوالے سے غلط اور واہیات باتیں علی الاعلان کہتے ہیں.‘‘

یوسف شاہ، دنیا جنہیں سید صلاح الدین کے نام سے جانتی ہے، حق خود ارادیت کے سپاہی ہیں، اور برسوں سے برسر پیکار۔ وہ دہشت گرد نہیں، ایک جائز سیاسی ایجنڈے کے ساتھ متحرک ہیں۔ اقوام متحدہ نے ان کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا ہوا ہے۔ خود بھارت نے کشمیری قوم سے حق خودارادیت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ نہرو کے نصف درجن وعدے موجود ہیں کہ کشمیریوں کی قسمت کا فیصلہ کشمیریوں نے ہی کرنا ہے اور وہ جو بھی فیصلہ کریں گے بھارت کو منظور ہوگا۔ مقبوضہ کشمیرکے انتخابات میں بھی انہوں نے حصہ لیا۔ مگر جب واضح ہوگیا کہ بھارت حق خود ارادیت دینے کو تیار نہیں تو یوسف شاہ نے بندوق اٹھائی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا حق خود ارادیت کے لیے لڑنے والا دہشت گرد ہوتا ہے؟ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 3314 اس کا جواب نفی میں دیتی ہے۔

حق خودارادیت ایک انتہائی مقدس تصور ہے۔ اس کا تعلق شرف انسانیت اور انسانی آزادیوں سے ہے۔ یونیورسٹی آف تسمانیا کے ڈاکٹر رونڈے پیلز ’’سیلف ڈی ٹر مینیشن: اے لیگل ری اپریزل‘‘ میں لکھتے ہیں کہ حق خودارادیت کا ماخذ خود امریکہ کا اعلان آزادی ہے، اور امریکہ کا اعلان آزادی امریکی تاریخ کا معتبر ترین صحیفہ ہے۔ یہ آزاد امریکہ کا چارٹر ہے۔ اس کی نفی امریکہ کے وجود کی نفی ہے۔ وڈرو ولسن امریکہ کے اٹھائیسویں صدر تھے۔ انہوں نے جنگ عظیم اول کے اختتام پر مشہور زمانہ چودہ نکات دیے تھے۔ ان نکات کو پیش کرنے کے بعد انہوں نے ایک تقریر کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا:’’ عوام کی خواہشات کا لازمی طور پر احترام کیا جانا چاہیے۔ اب لوگوں پر صرف ایک صورت میں حکومت کی جا سکتی ہے اور انہیں اپنے زیر نگیں رکھا جا سکتا ہے، اور وہ صورت یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی مرضی سے اس بات کی اجازت دے دیں۔اور یہ بات محض ایک فقرہ نہیں، یہ ایک انتہائی اہم اور ناگزیر اصول ہے۔‘‘

اب سوال یہ ہے کہ کیا حق خود ارادیت کے حصول کے لیے طاقت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس پیچیدہ سوال کا جواب کشمیر کے تناظر میں مکمل اثبات میں ہے۔ کشمیر کی حق خودارادیت کی تحریک کسی ملک کا وجود بخرے کرنے کے لیے نہیں۔ یہ کسی ملک کی سلامتی کے خلاف بھی نہیں۔ یہ تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈہ ہے۔ یہ کشمیریوں کا وہ حق ہے جسے پاکستان، بھارت اور عالمی برادری تسلیم کر چکی ہے۔ جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 کی اب تک جتنی تشریحات کی گئی ہیں، ان میں غالب ترین رائے یہی ہے کہ اس میں غاصبانہ قبضے اور فوجی جارحیت کے خلاف جس جدوجہد کی بات کی گئی ہے، وہ اصل میں مسلح جدوجہد ہے، کیونکہ غاصبانہ قبضے اور فوجی جارحیت کے خلاف جو جدوجہد ہوگی، وہ ظاہر ہے مسلح ہی ہوگی اور اسی کی اجازت دی گئی ہے۔ وہ غیر مسلح اول تو ہو ہی نہیں سکتی ا ور اگر ہو بھی تو اس غیر مسلح جدوجہد کی اجازت دینے کے لیے جنرل اسمبلی کو قرارداد لانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت بھی معاشی بحران کی زد میں - پروفیسر جمیل چودھری

مسلح جدوجہد کی ایک تاریخ ہے۔ خود امریکہ کیسے آزاد ہوا؟ جارج واشنگٹن نے بھی ایک مسلح جدوجہد کی تھی۔ نیلسن منڈیلا کا بھی ایک سیاسی روپ تھا، لیکن ساتھ ہی ایک مسلح جدوجہد بھی ہو رہی تھی۔ آئرلینڈ کیسے آزاد ہوا؟ بیلجیم نے آزادی کیسے حاصل کی؟ برازیل کو آزادی کیسے ملی؟ کروشیا نے یوگوسلاویا کے شکنجے سے کس طرح نجات پائی؟ اریٹیریا کیسے آزاد ہوا؟ الجیریا، ہیٹی، ویت نام، لاؤس اور کمبوڈیا نے فرانس سے کیسے آزادی پائی؟ گنی بساؤ اور موزمبیق کو پرتگال سے آزادی کس طرح ملی؟ فلپائن سپین سے اور سپین فرانس سے کیسے آزاد ہوا؟ حق خود ارادیت کی ان تحریکوں کو کبھی کسی نے دہشت گردی نہیں کہا۔ 1998ء میں او آئی سی کا انسداد دہشت گردی کنونشن ہوا جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ حق خود اردادیت کے حصول کے لیے اور ناجائز قابض قوت کے قبضے کے خلاف مسلح جدوجہد کو دہشت گردی نہیں کہا جا سکتا۔

نائن الیون کے بعد وقت کا موسم بہت بدل گیا لیکن مسلح جدوجہد کے مقامی تشخص کو بہرحال قبول کیا گیا۔ مغربی اہل دانش اور سفارتکار ہم جیسے طالب علموں کو خود باور کراتے رہے کہ دیکھیے حافظ سعید کشمیری نہیں ہیں، اس لیے کشمیر کے لیے ان کی مسلح جدوجہد کو دہشت گردی کہا جائے گا، تاہم حزب المجاہدین اور سید صلاح الدین وغیرہ اس تحریک کا مقامی چہرہ ہیں، اس لیے انہیں ہم نے کبھی دہشت گرد نہیں کہا، لیکن اب آ کر امریکہ نے ایک بالکل نئی لائن اختیار کر لی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے کبھی کسی بین الاقوامی قانون اور ضابطے کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے ایٹمی حملہ کر کے لاکھوں لوگ قتل کیے، لیکن اس کے باوجود آج دنیا کو ایٹمی اسلحے سے پاک کرنے کے نام پر چلائی گئی بظاہر مبارک مہم کا وہ سرخیل ہے۔ امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جو چین، گوئٹے مالا، تھائی لینڈ، ہیٹی، برازیل، مشرقی یورپ، سوویت یونین، گھانا، چلی، فلپائن، آسٹریلیا، چاڈ، عراق، انگولا، فجی، ایران، لاؤس، اٹلی، انڈونیشیا، الجیریا، البانیا، یوروگوائے، نکارا گوائے، ایل سالواڈور، بولیویا، جنوبی کوریا، صومالیہ، مشرقی تیمور، لیبیا، کولمبیا، کمبوڈیا، مشرق وسطی، کانگو، کیوبا، ہنڈرس، افغانستان، پاکستان، سری نیم، میکسیکو، یوگوسلاویہ، کوسٹاریکا، ایکواڈور، مغربی یورپ، پیرو، جرمنی اور بلغاریہ سمیت متعدد ممالک کو اپنی جارحیت یا غیرقانونی مداخلت کا نشانہ بنا چکا ہے لیکن پھر بھی امن کا پرچم اسی کے ہاتھ میں ہے.

یہ بھی پڑھیں:   بھارت کشمیر میں غلطی کر رہا ہے - بلومبرگ ایڈیٹوریل بورڈ

سابق امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ ڈین ایچیسن کہتے ہیں:’’ امریکہ کسی بین الاقوامی قانون کا پابند نہیں ہے‘‘۔ جان ایچ کرے اپنی کتاب ’’انٹرنیشنل لاء: ڈاکٹرائن، پریکٹس اینڈ تھیوری‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ڈین ایچی سن نے کہا ’’انٹر نیشنل لاء جائے جہنم میں۔ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ انٹر نیشنل لاء کے ماہرین کیا کہتے ہیں‘‘۔ یہی بات سابق صدر ریگن نے اپنے انداز سے بیان کی: ’’اقوام متحدہ میں ایک سو اقوام ہر مسئلے پر ہمارے ساتھ متفق نہیں تھیں اور اس سے میرا ناشتہ تک کبھی بدمزہ نہیں ہوا‘‘۔

ولیم بلم نے تو گویا اس باب میں آ خری بات کر دی۔ اپنی کتاب’’روگ سٹیٹ: اے گائیڈ ٹو دی ورلڈز اونلی سپر پاور‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’بات یہ نہیں کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی اس لیے بے رحم ہے کہ اس کی قیادت بے رحم ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ ہمارے رہنما اس لیے بےرحم ہیں کیونکہ فارن پالیسی اسٹیبلشمنٹ میں صرف انھی کو عہدہ مل سکتا ہے جو بے رحم، ظالم، بےشرم اور ڈھیٹ ہوں‘‘۔

وادی میں غیر معمولی تحریک اور شرمناک مظالم ایک ساتھ چل رہے ہیں، لیکن امریکہ نے ظالم اور غاصب کی مذمت کے بجائے مظلوم ہی کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ نام چامسکی نے کتنی خوبصورت بات کر دی ہے: ’’حقیقت بہت تلخ ہے۔ نہ صرف یہ کہ تعلیم یافتہ اور معقول لوگوں کو سچائی سے دور کر دیا گیا ہے بلکہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بد ترین حالات کی ذمہ داری مظلوموں پر ڈال دی گئی ہے.‘‘

بد ترین حالات کی ذمہ داری ظالم کے بجائے مظلوم پر ڈالنے کے اس عمل میں امریکی میڈیا بھی اپنی حکومت کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ کیتھرین گراہم واشنگٹن پوسٹ کی مالک تھیں۔ صحافت کا رہنما اصول وضع کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’ہم بڑی گندی اور خطرناک دنیا میں رہتے ہیں۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ عام آدمی کو نہ تو انھیں جاننے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اسے یہ اجازت دی جانی چاہیے کہ وہ ان چیزوں کو جان سکے‘‘۔

تو گندی اور خطرناک دنیا کے ہم باسی ان چیزوں کو سمجھنے کی کوشش ہی کیوں کریں جنہیں جاننے کی ہمیں ضرورت ہے نہ اجازت؟ ہمارے جاننے کو بس اتنا کافی ہے کہ اب سید صلاح الدین دہشت گرد ہیں۔

معلوم یہ ہوتا ہے کہ خطے میں سی پیک سے پھوٹتے امکانات کے جہانِ نو سے پریشان امریکہ نے اپنی رہنمائی کے لیے کچھ زیادہ ہی واہیات باتیں علی الاعلان کہنا شروع کر دی ہیں۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.