عورت اور مرد کی نماز کی ادائیگی میں فرق - عادل سہیل ظفر

تمام انبیاء اور رسولوں کے سردار، اللہ کی مخلوق میں سے اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والے، اللہ کی سب سے بہترین اور مکمل ترین عبادت کرنے والے، اللہ کے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی نگرانی اور اللہ کی عطاء کردہ عصمت میں اپنے منصبِ رسالت کو بہترین اور مکمل ترین طور پر نبھاتے ہوئے اللہ کے ہر ہر حکم کی عملی اور زبانی وضاحت فرمائی۔

شاید ہی کوئی مسلمان ایسا ہو گا جو زبانِ قال سے اس بات سے انکار کرتا ہو۔ لیکن افسوس کہ زبان حال سے انکار کرنے والے نظر آتے ہیں، اور ایسی باتیں کہی اور لکھی جاتی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل سے ثابت نہیں۔ بلکہ بسا اوقات ان میں صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل کی مخالفت بھی نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکموں میں سے ایک نماز قائم کرنے کا حکم بھی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کے اس رکن اور سب سے اہم ترین عبادت کو زبانی اور عملی طور پر بڑی وضاحت سے سمجھا دیا۔ پھر اسے صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے بڑی ہی امانت کے ساتھ آگے پہنچایا۔ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عورت اور مرد کے لیے نماز کی کیفیت اور ادائیگی کے طریقے میں کہیں کوئی فرق نہیں رکھا گیا۔ ہمارے کچھ بھائی عورت اور مرد کی نماز کی کیفیت میں فرق بیان کرتے ہیں، کہیں اسے زمین کے ساتھ چپک کر نماز پڑھنے کا کہا جاتا ہے، کہیں کسی خاص انداز میں بیٹھنے کا کہا جاتا ہے۔

سالہا سال سے میں ان کی کتابوں میں کوئی ایسی صحیح ثابت شدہ دلیل تلاش کر رہا ہوں جو ان کے اس دعوے یا فتوے کی تائید کرتی ہو، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ان سے اور ان کے کئی علماء سے جو ماشاء اللہ مفتی کے منصب دار ہیں، بالمشافہ پوچھ چُکا ہوں لیکن جواب ندارد۔ پھر بھی جو بات ان کو ملی ہے اسی پر عمل کیے جا رہے ہیں اور اس کی تشہیر بھی کیے جارہے ہیں، جبکہ اس فرق کی کوئی صحیح ثابت شدہ دلیل ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ سوائے اس فلسفے کے کہ “چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو ڈھک چُھپ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے، اس لیے ہم اسے زمین کے ساتھ چپک کر اور باز و پسلیوں کے ساتھ لگا کرسجدہ کرنے کا طریقہ سِکھاتے ہیں۔"

اس فلسفے کے لیے کوئی ثابت شدہ دلیل میسر نہیں۔ دو ضعیف روایات ہیں جن کو شاید عورت اور مرد کی نماز کی کیفیت میں فرق کی بنیاد بنایا جاتا ہو، یہ دونوں روایات امام البیہقی رحمہ اللہ نے اپنی "سُنن الکبریٰ" میں روایت کی ہیں۔ ان کو روایت کرنے سے پہلے لکھا ہے کہ "وَقَدْ رُوِىَ فِیهِ حَدِیثَانِ ضَعِیفَانِ لاَ یحْتَجُّ بِأَمْثَالِهِمَا اور اس (مسئلے میں، یعنی عورت کی نماز کا طریقہ یا کیفیت الگ ہونے کے مسئلے) میں دو ضعیف (یعنی کمزور) حدیثیں روایت کی گئی ہیں۔ ایسی حدیثوں کو حُجت نہیں بنایا جا سکتا"

(1) ابو سعید الخدری رضی اللہ سے ایک طویل حدیث میں کے درمیان میں روایت کیا گیا ہے کہ وَكَانَ یأْمُرُ الرِّجَالَ أَنْ یتَجَافُوا فِى سُجُودِهِمْ، وَیأْمُرُ النِّسَاءَ ینْخَفِضْنَ فِى سُجُودِهِنَّ، وَكَانَ یأْمُرُ الرِّجَالَ أَنْ یفْرِشُوا الْیسْرَى وَینْصِبُوا الْیمْنَى فِى التَّشَهُّدِ، وَیأْمُرُ النِّسَاءَ أَنْ یتَرَبَّعْنَ (ترجمہ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مَردوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ اپنے سجدوں میں اپنی بازوؤں کو کھلا رکھیں، اور عورتوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ اپنے سجدوں میں جھک جایا کریں (زمین سے چپک جایا کریں) اور مردوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ تشھد میں اپنے الٹے پاؤں کو بچھایا کریں اور سیدھے پاؤں کو کھڑا رکھیں کریں، اور عورتوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ (تشھد میں) اپنے دونوں پاؤں جسم کے نیچے بچھا کر بیٹھا کریں۔ (سُنن الکبریٰ للبیہقی/ حدیث/ 3014، کتاب الحیض/ باب 335 مایستحب للمرأة من ترك التجافی فی الركوع والسجود)

یہ بھی پڑھیں:   کفر کے فتوے اور کرنے کا اصل کام - بشارت حمید

اور خود امام البیہقی رحمہ اللہ نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ “واللفظ الأول واللفظ الآخر من هذا الحدیث مشهوران عن النبی صلى الله علیه و سلم وما بینهما منكر والله أعلم (ترجمہ) اس حدیث کا پہلا حصہ اور آخری حصہ دونوں ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشہور (انداز میں مروی) ہیں، اور جو ان دونوں کے درمیان ہے (یعنی یہ مذکورہ بالا الفاظ) یہ منکر ہے"۔ لہٰذا ا یہ روایت قابل حجت نہیں، اس سے کوئی حکم نہیں لیا جا سکتا۔

اس کے بعد امام البیہقی رحمہ اللہ نے درج ذیل روایت ذکر کی:
عبداللہ ابن عُمر سے روایت کیا گیا کہ إِذَا جَلَسْتِ الْمَرْأَةُ فِى الصَّلاَةِ وَضَعَتْ فَخِذَهَا عَلَى فَخِذِهَا الأُخْرَى، وَإِذَا سَجَدْتْ أَلْصَقَتْ بَطْنَهَا فِى فَخِذَیهَا كَأَسْتَرِ مَا یكُونُ لَهَا، وَان اللہ تَعَالَى ینْظُرُ إِلَیهَا وَیقُولُ: یا مَلاَئِكَتِى أُشْهِدُكُمْ أَنِّى قَدْ غَفَرْتُ لَهَا (ترجمہ) جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران کو دوسری ران پر رکھے، اور جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو اپنی دونوں رانوں کے ساتھ چپکا لے، کہ یہ اس کے لیے سب سے زیادہ پردے والا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتا ہے تو فرماتا ہے کہ، اے میرے فرشتو! گواہ رہنا کہ میں اس عورت کی بخشش کر دی ہے۔ (سابقہ حوالہ)

پہلی روایت کی سند میں عطاء بن العجلان نامی راوی، اور دوسری روایت میں ابو مطیع نامی راوی کی و جہ سے یہ دونوں روایات ضعیف ہیں۔ ان دو ضعیف حدیثوں کے بعد امام البیہقی رحمہ اللہ نے ایک مرسل روایت بھی ذکر کی ہے کہ، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عورتوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو ان دونوں سے ارشاد فرمایا کہ إِذَا سَجَدْتُمَا فَضُمَّا بَعْضَ اللَّحْمِ إِلَى الأَرْضِ، فَان الْمَرْأَةَ لَیسَتْ فِى ذَلِكَ كَالرَّجُلِ (ترجمہ) جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین کے ساتھ لگا دیا کرو، کیونکہ نماز پڑھنے کے معاملے میں عورت مرد کی طرح نہیں ہے۔ (سابقہ حوالہ)

یہ روایت یزید بن ابی حبیب کی مرسل روایت ہے، اور مرسل روایت بھی ضعیف یعنی کمزور اور ناقابل حجت ہوتی ہے۔ بالخصوص جبکہ اسے کسی صحیح روایت کی گواہی میسر نہ ہو۔ لہٰذا معاملہ بالکل صاف ہوا کہ عورت اور مرد کی نماز کی ادائیگی میں، نماز کے طریقے میں، نماز کی کیفیت میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی فرق نہیں رکھا گیا۔ صرف افضلیت کے باب میں سے کچھ بزرگوں کے اقوال ایسے ملتے ہیں جن سے یہ سبق ملتا ہے کہ عورت کو نماز پڑھتے ہوئے بھی اپنے آپ کو ڈھکا چھپا رکھنے کی کوشش کرنا ہی چاہیے اور شاید اسی لیے عورت کو سینے پر ہاتھ باندھنے کا حکم فرمایا جاتا ہے جبکہ عورت کا سینہ تو اللہ نے ابھرا ہوا تخلیق فرمایا ہے اب اگر وہ ہاتھ بھی سینے پر رکھتی ہے تو ڈھک چھپ کر نماز پڑھانے کا خیال نا درست ہو جاتا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ اس فرق کی بھی قرآن و سنت میں کوئی دلیل نہیں اور نہ ہی مرد کے لیے ناف پر یا سینے کے علاوہ کہیں بھی اور ہاتھ باندھنے کی کوئی صحیح دلیل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کفر کے فتوے اور کرنے کا اصل کام - بشارت حمید

میرے مسلمان بھائیو اور بہنو! اللہ تعالی کا فرمان ہے یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَرفَعُوا أَصوَاتَکُم فَوق صَوتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجہَرُوا لَہُ بِالقَولِ کَجَہرِ بَعضِکُم لِبَعضٍ أَن تَحبَطَ أَعمَالُکُم وَأَنتُم لَا تَشعُرُون (ترجمہ) اے (لوگو) جو أیمان لائے ہو اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند مت کرو اور نہ ہی اس سے اونچی آواز میں بات کرو جیسے ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں (ایسا نہ ہو کہ) تمہارے أعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں پتہ بھی نہ ہو۔ (سورۃ الحجرات)

اللہ سُبحانہ و تعالٰی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنے کا مطلب اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں اور حکموں کو ماننے اور ان پر عمل کرنے کے بجائے اپنی یا کِسی اور کی رائے، فتوے، خیال یا بہانے بازی کرنا ہے، اور اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد ان صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے مراد ان صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ہیں جو اب تک نقل ہو کر آ رہے ہیں گویا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سُن رہے ہیں اور ان صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے آواز بُلند کرنا اور ان صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار یا ان صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بلائے جانے کو کِسی عام آدمی کی پکار سمجھ کر لاپرواہی کرنا، ان صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو چھوڑ کر کِسی بھی اور کی بات کو أپنانا حرام ہے، اور اس کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آفت یا عذاب کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے  لَا تَجعَلُوا دُعَاء الرَّسُولِ بَینَکُم کَدُعَاء بَعضِکُم بَعضاً قَد یَعلَمُ اللَّہُ الَّذِینَ یَتَسَلَّلُونَ مِنکُم لِوَاذاً فَلیَحذَرِ الَّذِینَ یُخَالِفُونَ عَن أَمرِہِ أَن تُصِیبَہُم فِتنَۃٌ أَو یُصِیبَہُم عَذَابٌ أَلِیمٌ تُم (ترجمہ) رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بلانے کو ایسا بلانا مت بناؤ جیسا کہ تُم لوگوں کا ایک دوسرے کو بلانا ہوتا ہے، تُم میں سے اللہ انہیں خوب جانتا ہے جو (رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بلاوے پر) نظر بچا کر چُپکے سے کِھسک جاتے ہیں لہٰذا جو لوگ اس (اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں وہ خبردار رہیں کہ (کہیں) ان پر کوئی آفت نہ آ پڑے یا (کہیں) انہیں کوئی عذاب نہ آ پکڑے (سورۃ النور، آیت 63)

اللہ کرے کہ ہم لوگ تبلیغِ دِین سے پہلے عِلمِ دِین کا کچھ بنیادی حصہ تو حاصل کر لیں۔ کم از کم اتنا ہی جان لیں کہ جو بات ہم کہہ یا لکھ رہے ہیں وہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کِسی دلیل پر مبنی ہے کہ نہیں۔ کم از کم دلیل تو جان لی جائے اس کو درست طور پر استعمال کِیا جا رہا ہے یا نہیں یہ جاننا دوسرا مرحلہ ہے۔ لیکن جب دلیل تک جاننے کی زحمت ہی نہ کی جائے تو پھر جِس کا جیسے جی چاہے اور جہاں جی چاہے ہمیں لیے چلتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہر کلمہ گو کو دِین اسلام جاننے سیکھنے اور پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے اور اسلامی مذاھب میں سے درست اور غیر درست کی پہچان عطاء فرمائے۔ آمین

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔