‎مرد قلندر، عامر خاکوانی - ریحان اصغر سید

‎1973ء کا موسم گرما چل رہا تھا۔ اس بار گرمی معمول سے کچھ زیادہ تھی۔ کراچی کا ایک معروف لبرل، سیکولر لکھاری مشروبِ مغرب کی چسکیاں لیتے ہوئے شعائر اسلامی پر ایک طنزیہ مضمون قلم بند کر رہا تھا کہ اچانک اس کے قلم نے لکھنا چھوڑ دیا۔ اس نے روشنائی کی مقدار کو چیک کیا۔ قلم کو جھٹکا لیکن قلم تو جیسے لکھنا ہی بھول گیا تھا۔ اس نے یکے بعد دیگرے کئی قلم بدلے حتی کہ کاربن پینسل سے بھی لکھنے کی کوشش کی مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ اس کے پاس بیٹھی پیانو بجاتی اس کی بیوی یہ سارا ماجرا دیکھ رہی تھی۔ اس نے حیرت سے پوچھا،
‎ڈئیر، کیا وجہ ہے، آپ کے قلم لکھ کیوں نہیں رہے؟
‎لبرل اور سیکولر لکھاری کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آ گئے۔ اس نے کھڑکی سے دور نیلے آسمان کی طرف دیکھا اور ٹھنڈی آہ بھر کر بولا،
‎آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ہمارے وڈے یہ پیشین گوئی کر گئے تھے کہ ڈھاکہ فال ہو کر رہے گا اور اس کے بعد پنجاب میں کہیں ایک ایسا دیدہ ور لکھاری جنم لے گا جو لیفٹ کے قلم کاروں کی زبان بندی کر دے گا۔
‎ہائے بھگوان! یہ تو نے کیا کیا؟

‎اس کے تین دن بعد تک مذہب بیزار، بھارت کے کاسا لیس اور مغرب کے آلہ کار لکھاری کچھ بھی لکھنے سے نہ صرف قاصر رہے بلکہ کسی انجانے خوف سے بیڈ کے نیچے چھپے رہے۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ ریاست بہاولپور کا شاہین اور احمد پور شرقیہ کا مرد مجاہد محمد عامر ہاشم خاکوانی دنیا میں تشریف لا چکا ہے۔ دنیا میں آنے کے بعد تو تقریباً سبھی بچے روتے ہیں لیکن سکہ بند راوی روایت کرتے ہیں کہ اس بطل جلیل کے رونے کی آواز میں ایسا سوز اور درد تھا کہ اہل معرفت نے انکشاف کیا کہ یہ بچہ نہ صرف اللہ کی حمد بیان کرتا ہے بلکہ ملکی حالات دیکھ دیکھ کر روتا ہے۔
‎عامر خاکوانی صاحب مدظلہ کے بچپن کے محیر العقول واقعات قلم بند کرنے لگوں گا تو فرہنگ آصفیہ جیسی ضخیم کتاب ہو جائے گی اس لیے طوالت کے خوف سے صرف ایک واقعہ قلم بند کرنے کی اجازت چاہوں گا۔

‎جناب کے آبائی گھر کے ہمسایہ میں ایک بکری تھی جو بچپن سے ہی لاغر اور بیماریوں کا شکار رہتی تھی۔ جب جملہ مالکان نے دیکھا کہ یہ مرن جوگی بجائے دودھ دینے کے اپنے ناز و نخرے ہی اٹھواتی رہتی ہے، تو اسے گیارھویں والے پیر صاحب کے ایصال ثواب کے لیے قربان کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ مرد قلندر اس وقت دھوپ میں بیٹھے کائنات کی پیچیدہ گھتیاں سلجھانے میں مصروف تھے کہ کسی اہل دل نے یہ معاملہ ان کے گوش گزار کیا۔
‎نرم طبع کو یہ گوارا نہ ہوا کہ ان کی حیات مبارکہ میں یہ ظلم عظیم ہو۔ اس لیے کپڑے جھاڑ کر کھڑے ہوئے، پیروں میں قینچی جوتی پہنی اور پاوں گھسیٹتے ہوئے باورچی خانے میں تشریف لے گئے۔
‎ایک انجیر، دو مالٹے کی قاشوں کو چھٹانک شہد میں ڈبو کر جناب نے خیر خواہ کو کہا کہ یہ جا کر بکری کو کھلا دیں۔ ان شاءاللہ اللہ شفائے کاملہ و عاجلہ عطا فرمائیں گے۔ بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس بکری نے طویل اور صحت مند عمر پائی۔

‎تھوڑے بڑے ہوئے تو علم و ادب میں دلچسپی لینے لگے۔ قبلہ والد صاحب کی ذاتی لائبریری چاٹنے کے بعد، احمد پور شرقیہ اور اس کے گرد و نواح میں پائی جانے والی آنہ دو آنہ لائبریریوں کی سب کتابیں پڑھ ڈالیں لیکن تحصیل علم کی پیاس تھی کہ بجھنے کے بجائے مزید بھڑکتی جا رہی تھی بلکہ اب تو لکھنے کا چسکہ بھی پڑ گیا تھا۔ محلے کے سب لڑکے بالے جناب سے ہی عشقیہ خطوط لکھوایا کرتے۔ آپ کے خطوط کا خط، املا، زبان و بیاں اور نثر اس اعلی معیار کی ہوتی کہ وہ عفیفہ خواتین جن کے نام یہ قیامت کے نامے جاتے، وہ فرط شوق سے اتنی دفعہ خطوط کو پڑھتیں کہ حفظ ہو جاتا۔ اس زمانے میں احمد پور شرقیہ میں دھوم مچ گئی کہ جو خط قبلہ عامر خاکوانی لکھ دیں تو اس کا جواب ضرور آتا ہے، لیکن طبیعت میں اتنی انکساری تھی کہ کبھی غرور نہیں کیا۔ اور پاک طنیت ایسے کہ ذاتی طور پر ان خرافات سے ہمیشہ دور رہے۔

‎جیسے جیسے عامر خاکوانی بڑے ہو رہے تھے باطل کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔ طاغوتی طاقتیں چاہتی تھیں کہ خیر اور روشنی کے اس منبع کو پنجاب تک ہی محدود کر دیا جائے۔ صرف اس مقصد کے لیے ایم کیو ایم تخلیق کی گئی۔ کراچی میں لسانی بنیادوں پر قتل و غارت شروع کی گئی تاکہ اس بطل جلیل کی عظیم والدہ کو ڈرا دیا جائے اور وہ اپنے سپوت کو کراچی بھیجنے سے باز رہیں مگر وہ حق ہی کیا جو باطل سے ڈر جائے، اور اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔ عامر خاکوانی صاحب تمام خطرات کے باوجود نہ صرف کراچی پہنچے بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر جامعہ کراچی کو اپنی ہمہ گیر شخصیت کے نور سے منور کیا۔

‎آپ نے عموماً دیکھا ہوگا کہ غیر معمولی لوگ گچھوں اور گروہوں کی شکل میں پرورش پاتے ہیں۔ عامر خاکوانی صاحب کے ہم عصر طلبہ میں بھی غیر معمولی لوگ تھے مثلا یونیورسٹی میں آپ کے ساتھ پڑھنے کا شرف حاصل کرنے والا حامد کالیا، جسے یار لوگ کاں کہہ کر چھیڑتے تھے۔ آج وہی حامد کراچی کا جانا مانا ٹرانسپورٹر ہے۔ حامد کالیا کے شہر میں نہ صرف دو سو سے زائد چنگ چی چلتے ہیں بلکہ وہ چار مختلف روٹس پر چلنے والی بسوں کا مالک بھی ہے۔ اسی طرح عامر خاکوانی صاحب کا ایک اور کلاس فیلو رفیق جانی بٹ ایک معروف سنگر ہے۔ اپنی تخلیقات کی شاعری بھی خود لکھتا ہے۔ آپ نے اکثر سائیکل یا ریڑھی پر انواع قسم کی چیزیں بیچتے لوگوں کے پاس ایک ریکارڈ شدہ آواز سنی ہوگی، وہ رفیق جانی بٹ صاحب کی ہی ہوتی ہے۔

‎عامر خاکوانی صاحب کو شروع سے ہی دلیل سے دلچسپی تھی۔ تحقیق کے بعد جناب کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وکالت اور صحافت ہی دو ایسے شعبے ہیں جہاں دلیل کی زیادہ ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے پہلے لاء کا امتحان پاس کیا پھر صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ حاسدین اعتراض کرتے ہیں کہ اگر صحافی ہی بننا تھا تو پھر ایل ایل بی کرنے کی کیا ضرورت تھی بلکہ کچھ بھی کرنے کی کیا حاجت تھی۔ صحافی تو بندہ مڈل کے بعد بھی بن جاتا ہے، اور اگر ایل ایل بھی کر ہی لیا تھا تو وکیل کیوں نہیں بنے؟ کہ عدلیہ تحریک کا حصہ بنتے اور بعد میں اس کا پھل کھاتے۔ خیر یہ تو حاسدین کی باتیں ہیں ہم ان پر کیا تبصرہ کریں۔ ہم تو صرف یہ عرض کرنا چاہ رہے تھے کہ جناب عامر خاکوانی صاحب دلیل کے آدمی ہیں۔ جب آپ ان کو لاجواب کرنے کے خیال سے اپنی طرف سے فنشنگ موو اور منہ بند کرنے والی ٹائپ دلیل دیتے ہیں تو جناب پٹاری میں سے کوئی نئی دلیل نکال کر آپ کو لاجواب کر دیتے ہیں۔ اس لیے یار لوگ ان سے مباحثہ کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔

‎کچھ عرصہ قبل کچھ شریر قسم کے لوگوں نے یہ افواہ اڑائی تھی کہ لاہور میں گندم کی قلت اور گرانی کے ذمہ دار خاکوانی صاحب ہیں۔ اب ایسی درفنطنیوں کا انسان کیا جواب دے۔ ایسی ژولیدہ فکری پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ خاکوانی صاحب پر ایک اور الزام تواتر کے ساتھ لگایا جاتا ہے کہ یہ بندہ سسٹم اور خلیفۃ المسلین کے برادر خورد میاں شہباز کی پرواز سے جلتا ہے۔ ایک اور تہمت جس کا چرچا کیا جاتا ہے کہ آپ پاکستان کے واحد معقول انسان ہیں جو عمران خان کی حمایت کرتے ہیں۔ کچھ لوگ تو مزید آگے جا کے یہاں تک بکتے ہیں کہ عمران خان کی حمایت کے بعد کوئی آدمی کس طرح معقول رہ سکتا ہے؟
‎ہم ان تمام الزامات کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ طاغوتی میڈیا کے سرخیلوں کا پھیلایا ہوا زہریلا پروپیگنڈا ہے۔

‎عامر خاکوانی صاحب بنیادی طور پر ایک پینڈو فطرت کے انسان ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جانا، اور جو بات دل میں ہو، اسے زبان پر لے آنا، حتٰی کہ کوئی چیز پسند آ جائے تو خود کو اس کی تعریف سے بھی نہیں روک پاتے۔ فی زمانہ یہ عادتیں گناہ عظیم تصور کی جاتیں ہیں۔ اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ سیک سیمنار کا اصل مقصد آخر ہے کیا؟ حالانکہ خاکوانی صاحب کی صحت کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پوچھنا بذات خود ایک بےوقوفی ہے۔ ہماری بدقسمتی سے خاکوانی صاحب ایک دو دن کابل بھی رہ چکے ہیں۔ تب سے مصر ہیں کہ انھیں افغان امور کا ماہر تسلیم کیا جائے، حالانکہ عینی شاہدین کے مطابق موصوف نے وہاں شنواری کھانے، اور بچوں کے لیے چائنہ کے کھلونے لینے کے کچھ نہیں کیا۔ ہاں ایک راوی کو شک ہے کہ جناب نے وہاں سے ایک کمبل بھی لیا تھا مگر یہ بات وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ خاکوانی صاحب دین سے خصوصی محبت رکھتے ہیں اور نماز اتنی خشوع خضوع سے پڑھتے ہیں کہ سلام پھیرنے کے بعد فورا دائیں بائیں بیٹھے نمازی سے پوچھیں گے ، مڑہ میں نے کتنی رکعتیں پڑھیں؟

‎عامر خاکوانی صاحب نے اپنی عملی زندگی کا آغاز اردو ڈائجسٹ سے کیا۔ پھر ایکسپریس میں آ گئے۔ ابھی اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا کر اپنی اجرک سے پسینہ ہی پونچھ رہے تھے کہ انہیں دنیا نیوز والے لے گئے۔ کچھ سال دل و جاں سے ''دنیا'' کی خدمت میں مصروف رہے۔ آج کل کسی نئے اخبار کو دھکا لگانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔

عامر خاکوانی صاحب ایک خوش اخلاق، معتدل مزاج مذہب پسند، اور درویش ٹائپ بندے ہیں جن کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دوسروں کو راستہ اور تھپکی دینا جانتے ہیں جسے آپ چابی دینا بھی کہہ سکتے ہیں۔ انکے چابی دینے کی وجہ سے کئی موٹر میکنک اور بس کنڈیکٹر بھی لکھاری بن چکے ہیں۔ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کرنے والے اولین لوگوں میں شامل ہیں۔ مذہب کو سمجھنے کی کوششوں میں مصروف اور معاشرے کی فلاح کے لیے عملی طور پر کچھ کرنے کی لگن رکھتے ہیں۔ دلیل ویب سائٹ جناب کے وژن کا ایک شاہکار ہے۔ یہ اتنا بڑا پلیٹ فارم ہے کہ اس کی افادیت کے جوہر آہستہ آہستہ کھلیں گے۔

‎ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی عامر بھائی کی عمر اور وقت میں مزید برکتیں عطا فرمائے تاکہ یہ ملک و قوم کی بہتری کے لیے اپنے قلم اور دوسری پوشیدہ صلاحیتوں (جن سے ہم ابھی تک لاعلم ہیں) کا مثبت استعمال جاری رکھ سکیں۔ آمین

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.