سانحہ بہاولپور: پس منظر اور میڈیائی ہڑبونگ - بلال شوکت آزاد

یوں تو اس ملک میں اب ایک چیونٹی بھی مسلی جائے تو وہ "بریکنگ نیوز" بن جاتی ہے مگر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہاتھی کے مرنے کی بھی خبر نہیں ملتی۔

حال ہی میں احمد پور شرقیہ، بہاولپور میں آئل ٹینکر کا دردناک اور عبرت ناک حادثہ پیش آیا ہے۔ ایک صحافی اور بالخصوص ایک انسان ہونے کے ناطے اس حادثے سے لاعلم رہنا یا اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ اب تفتیشی رپورٹس بھی آنا شروع ہوچکی ہیں جو کہ ماضی میں ہونے والے واقعات کی رپورٹس سے شاید زیادہ مختلف نہیں ہوں گی۔ عوامی تسلی کی خاطر ان میں کچھ اس نوعیت کے "حقائق" شامل کیے گئے ہوں گے کہ حادثہ ڈرائیور یا پھر کسی گمنام فریق مثلاً بس کوچ وغیرہ کی غلطی سے پیش آیا، انتظامیہ نے پروٹوکولز نظر انداز کردیے، طبی سہولیات کا فقدان رہا، ہنگامی امداد فراہم کرنے والی ٹیمیں دیر سے جائے وقوعہ پر پہنچیں وغیرہ وغیرہ۔

سوال ی ہے کہ کیا ان رپورٹس کی مدد سے جلنے مرنے والوں کو زندگی واپس مل جائے گی؟ کیا دوبارہ ایسے حادثے رونما نہیں ہوں گے؟ کیا ذمہ دران کو کیفر کردار تک پہنچا جاسکے گا؟

صاحبو! یہ سب باتیں کاغذ کالے کرنے اور دل کی تسلی کے لیے بہت زبردست ہیں مگر پس منظر اور اصل حقائق بہت ہی خطرناک اور حیران کن ہیں۔

یہ بات 2009 سے 2012 تک کی ہے جب میں اپنے والد محترم کے ساتھ ان کے پیٹرولیم ایجنسی کے کاروبار میں ہاتھ بٹاتا تھا۔ مجھے اوائل جوانی کے دنوں میں اس کاروبار سے منسلک ایسے ایسے راز جاننےکا اتفاق ہوا کہ میرے خیال میں ایک عام پاکستانی اس دشت کے ان رازوں کو شاید ادھیڑ عمری میں جاکر ہی جان پاتا ہوگا۔ میں چند ایک ایسے ہی چند حقائق یہاں پیش کر رہا ہوں جو آپ کو اس طرح کے حادثات کا پس منظر سمجھنے میں مدد دیں گے۔

سب سے پہلے آپ کو یہ بات پورے وثوق سے بتارہا ہوں کہ جنوبی پنجاب کی یہ پٹی، جو کوٹ سبزل، صادق آباد سے شروع ہوکر احمد پور شرقیہ، بہاولپور تک جاتی ہے، آئل ٹینکرز کے یومیہ ایک سے دو حادثات کا گڑھ ہے۔ یہاں کی سالانہ حادثات کی رپورٹ اگر مل سکے تو میرے دعوے کی تصدیق ہوجائے گی۔ ان حادثات میں سے 30 فیصد حادثات اتفاقی جبکہ 70 فیصد حادثے طے شدہ منصوبے کے تحت وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اب سوچیں گے کہ اکثر حادثات جان بوجھ کر کیسے کیے جاتے ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے:

ایک بائیس وہیلر آئل ٹینکر میں عام طور پر 50 سے 55 ہزار لیٹر تیل (پیٹرول، ڈیزل، ہائی آکٹین اور مٹی کا تیل) محفوظ کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ لیکن حفاظتی نقطہ نگاہ سے ان میں دو سے تین ہزار لیٹر تیل کم لوڈ کیا جاتا ہے تاکہ تیل کے فیومز کسی دھماکے کا باعث نا بنیں۔ آئل ٹینکر کا مکمل بیمہ ہوتا ہے اور ڈرائیور اور اس کے ساتھی ان دونوں باتوں سےواقف ہوتے ہیں۔ جس سفری پٹی کا میں نے اوپر ذکر کیا و سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے سرحدی ملاپ سے متصل سفری پٹی ہے جہاں معاشی اور اخلاقی جرائم کا وافر تعداد میں ہونا ایک عام سی بات ہے۔ انہی جرائم میں ایک ایسا جرم بھی ہے جو بغیر کسی قانونی کاروائی اور جھمیلے میں پڑے ماہانہ کروڑوں کا صرف منافع دیتا ہے۔ وہ جرم کچھ اور نہیں تیل کی کالا بازاری ہے۔

یہ جرائم پیشہ ذہنیت والے ڈرائیور جب اس پٹی پر آتے ہیں تو ڈیل کے مطابق پیٹرول ایجنسی والوں یا اسمگلروں کو آدھی ٹینکی تیل بیچ کر باقی کا تیل جان بوجھ کر کیے جانے والے حادثے کی نذر کردیتے ہیں۔ جب حادثے کی انکوائری ہوتی ہے تو حسب معمول کسی طرح کا میکنیکل یا ایسی ٹھوس وجہ دریافت اور ریکارڈ ہوتی ہے جس کے رہتے یہ ڈرائیور صاف نکل جاتے ہیں۔ بعض اوقات کمپنیوں کے وہ عہدے دار، جو انکوائری رپورٹ مرتب کرتے ہیں، کچھ لے دے کر ایسی رپورٹ بناتے ہیں کہ جس میں ڈرائیور قصور وار نہ ہو۔

مالکوں کو انشورنس کی تگڑی رقم مل جاتی ہے جبکہ ڈرائیور تھوڑا سا رسک لے کر لاکھو کروڑوں کما لیتے ہیں۔ یہ ایک دو لوگوں کا کام نہیں بلکہ ایک منظم مافیا اس کاروبار سے منسلک ہے۔ حادثات پورے ملک میں ہی ہوتے ہیں مگر یہ سفری پٹی خاص کر آئل ٹینکرز کے حادثوں کے لیے مشہور ہے۔

بہرحال اس دن کا حادثہ کافی ڈھول کے پول کھول گیا ہے۔ اب اگر انتظامیہ واقعی ایسے حادثوں سے نمٹنے اور ان کو روکنے کی خواہش مند ہے تو اس حادثے اور سابقہ حادثات کی کڑیاں ملائے تو خاطر خواہ فائدہ ہوگا۔ اس دن کا حادثہ اتفاقی تھا یا طے شدہ؟ انتظامیہ اس ایک نقطے سے تفتیش کا آغاز کرے تو شاید کافی خوفناک انکشافات سامنے آئیں گے جو حقائق پر مبنی رپورٹ مرتب کرنے میں مددگار ثابت ہوں ہوں گے۔

آزاد میڈیا نے اس حادثے پر صرف ردعمل ہی جاری نہیں کیا بلکہ الگ الگ طریقے سے ہڑبونگ مچا کر اصل حقائق کو مسخ کرنے کی لایعنی سی کوشش کی انجانے اور انسانی ہمدردی میں۔ بات کو اس نتیجے کے ساتھ سمیٹوں گا کہ اس دن حادثہ ہونے سے لے کر انجام پذیر ہونے تک ہر کردار ہی قصور وار اور شامل حال تھا۔ ڈرائیور و کنڈکٹر، تیل چور عوام، انتظامیہ اور یہ بدبو دار سسٹم غرض یہ سب ہی اس قیامت صغراں کے ذمہ دار اور قصور وار ہیں۔ ﷲ عوام کو ہدایت اور سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین