خاتمہ بالخیر کی تمنا اور ہمارے اعمال - روبینہ شاہین

واصف علی واصف فرماتے ہیں کہ آنکھیں کھلتی تب ہیں جب ہمیشہ کے لیے بند ہوجاتی ہیں۔ موت ایک حقیقت ہے، اٹل حقیقت۔ موت سے ڈرنا نہیں چاہیئے بلکہ اس بات سے ڈرنا چاہیئے کہ وہ آئے گی کس حال میں؟ ویسے تو ہم میں سے ہر مسلمان کی تمنا یہ ہوتی ہے کہ اس کا خاتمہ بالخیر ہو، مرتے وقت کلمہ نصیب ہو۔ مگر کیا ایسا ہوتا ہے؟ اگر ہاں، تو کیوں؟ اور اگر نہیں ہوتا تو اس کی وجہ کیا ہے؟ وہ کونسے اعمال ہیں جو ہمیں خاتمہ بالخیر کی طرف لے جاتے ہیں اور وہ کون سے اعمال ہیں جو خاتمہ بالخیر سے دور کرتے ہیں۔ چار عملی مثالوں سے اس حقیقت کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ خاتمہ بالخیر ہی ہمارے جنتی ہونے کی علامت ہے۔

شمالی علاقہ جات کی سیر پہ جانے والا ایک نوجوان بتاتا ہے کہ اسے حادثہ پیش آ گیا۔ اس کی گاڑی ایک ڈھلوان سے لڑک کر کھائی میں جا گری۔ وہ اپنے اس واقعے کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ جب میری گاڑی لڑھکی تو مجھے ہر بات یاد آئی، عزیز رشتے دار وہ سب جن کو میں کھونا نہیں چاہتا تھا۔ مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ مجھے کلمہ یاد نہ رہا۔ حالانکہ اس سے پہلے میں کہا کرتا تھا اور میرا نظریہ بھی یہ تھا کہ کلمہ مرتے وقت یاد نہیں آنا تھا تو کب آنا؟ اس واقعے نے میری آنکھیں کھول دیں۔

دوسرا واقعہ ایک ڈاکٹر نے بتایا وہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس آئی سی یو میں ایک ٹرک ڈرائیور شدید زخمی حالت میں لایا گیا۔ ہم لوگ اس کو ریسکیو کر رہے تھے کہ اچانک اس نے کہا کہ کوئی کلمہ پڑھے۔ مجھے یاد نہیں آرہا، اس کے پاس اسٹاف کے علاوہ دو لڑکے بھی موجود تھے۔ مگر کسی نے اس کی بات پہ دھیان نہیں دیا، اس نے تقریباً دس بار اس خواہش کا اظہار کیا، آخر میں اس نے نرس کی کلائی پکڑ کر کہا کہ کیا آپ مسلمان نہیں ہیں؟ نرس نے سمجھا وہ اسے تنگ کرنے کے لیے ایسا کر ہا ہے اس نے کلائی چھڑوا لی۔ اس نے دوبارہ کہا مجھے لگتا آپ واقعی مسلمان نہیں ہیں اور اس کی جان نکل گئی۔ ڈاکٹر بتاتی ہے کہ اس واقعے نے مجھے ششدر کر دیا۔ آج تک نہ وہ مریض بھولتا ہے اور نہ اس کی خواہش، اور نہ ہمارا طرز عمل کہ کسی نے اس کے سامنے کلمہ نہیں پڑھا۔ جہالت کی انتہا ہے۔

ایک بچی نے یہ واقعہ سنایا کہ اس کی دادی کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی اور انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔ جس دن ان کی طبیعت خراب ہوئی، اس دن انہوں نے ہمارے گھر آنے کا وعدہ کر رکھا تھا۔ ہسپتال میں وہ بار بار کہتی رہیں کہ میں نے اپنی پوتی سے وعدہ کیا تھا اور مجھے اس کے گھر جانا ہے۔ وہ بڑی اللہ والی اور وعدے کی پابند تھیں سو آخری وقت میں بھی ان کو یہی فکر لگی رہی۔ ان پر بار بار غشی کے دورے پڑ رہے تھے مگر ان کو یہ غشی اپنی طہارت اور اللہ کی یاد سے غافل نہ کرپائی۔ جب موت کا وقت آیا انہوں نے استغفار بھی پڑھی اور کلمہ بھی۔

ایک اور طالب علم نے بتایا کہ اس کے دانت کا اپریشن تھا وہ آپریشن تھیٹر میں لائی گئیں تو خیال آیا اللہ جانے ہوش میں آنا بھی ہے کہ نہیں سو کلمہ پڑھ لوں۔ وہ لڑکی حیران رہ گئی جب اسے کلمہ یاد نہ رہا۔ کہتی ہے کہ میں اس خوف سے سفید پڑ گئی کہ مجھے کلمہ یاد نہیں آرہا تھا حالاں کہ میں یاحی یا قیوم کثرت سے پڑھا کرتی تھی۔ پھر میں نے وہ پڑھا اور اس کے پڑھتے ہی مجھے کلمہ آ گیا۔ یعنی جو چیز ہمارے روزمرہ اعمال کا حصہ ہوتی ہے وہ شدید خوف کی حالت میں بھی ہمیں یاد رہتی ہے۔

یہ چار مختلف طرز عمل ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ خاتمہ بالخیر کا دارومدار ہمارے اعمال پر ہے۔ جو کام ہمارے معمول کا حصہ ہوتا ہے، وہ ہمیں یاد رہتا ہے اور جو نہیں ہوتا وہ یاد نہیں رہتا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا خاتمہ بالخیر ہو تو ہمیں کلمہ طیبہ کو اپنا معمول بنانا ہوگا۔ نبی کریمﷺ کی احادیث مبارکہ سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ آخری وقت کا دارومدار ہمارے ساری زندگی میں کیے گئے اعمال پر ہے۔ ایک اور چیز جو قریب المرگ شخص کے پاس موجود لوگوں کا طرز عمل بھی واضح کرتی دکھائی دیتی ہے کہ لوگ دین اور اس کی تعلیمات سے اتنے بے بہرہ ہیں کہ مرتے ہوئے آدمی کی خواہش تک پوری نہیں کر سکتے۔

حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ قبر میں جب فرشتے پوچھیں گے کہ تم کسی نبی کی امت سے ہو اور تمہارے نبی کا نام کیا ہے تو جو منافق ہوں گے وہ بھول جائیں گے ان کو کچھ یاد نہ رہے گا حالانکہ وہ کلمہ گو ہوں گے۔ منافق کون ہے؟ بقول قرآن کے جو نہ ادھر ہوتے ہیں نہ ادھر، درمیان میں بھٹک رہے ہوتے ہیں۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے منافق وہ ہے جو بات کرے تو جھوٹ بولے، جو وعدہ کرے تو پورا نہ کرے، جس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو وہ خیانت کرے اور لڑائی جھگڑے میں گالیاں بکے۔ یہ چاروں باتیں بھی براہ راست ہمارے اعمال سے تعلق رکھتیں ہیں۔

اللہ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اس کے نام لیوا بنیں تاکہ ہمارا خاتمہ بالخیر ہو سکے۔ آمین

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.