کیا امام مہدی آنے کو ہیں؟ - ڈاکٹر عصمت اللہ خان

گزشتہ ساڑھے چودہ سو سال کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مخصوص وقت کے بعد ایسے لوگوں کا نزول کیا جو اسلام کو اس کی اصل کی طرف لوٹا دیتے ہیں اور مسلمانان عالم کو پستی کی گہرائیوں سے نکال کر عروج کی بلندیوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ یوں تو اسلام عروج و زوال کی کشمکش سے دوچار رہا لیکن ہر کربلا کے بعد یہ دوبارہ اپنی آب و تاب سے جی اٹھا اور تاریخ اسی طرح خود کو دہراتی آئی ہے۔

آج ہم تایخ کے جس دوہرائے پہ کھڑے ہیں، یہ بالکل ویسا ہی وقت ہے جیسا صلاح الدین ایوبیؒ سے پہلے کا تھا۔ وہی کردار آج بھی مختلف ناموں کے ساتھ زندہ ہیں۔ صلاح الدین سے پہلے مسلمانوں میں سخت ناچاکی اور اقتدار کی کشمکش جاری تھی۔ حافظ ابن کثیرؒ کہتے ہیں کہ خلافت اس وقت بہت ہی کمزور تھی اور ہر مسلمان ریاست خود کو آزاد ڈیکلیئر کرچکی تھی اور خلیفہ کی حکومت صرف بغداد تک محدود تھی۔ بصرہ، ایران، کرمان، مصر، شام، مغربی افریقہ، خراسان، اندلس (جو کہ چار ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا) یہ سب ریاستیں اپنے تئیں علیحدہ علیحدہ آزاد ہونے کا دعویٰ کررہی تھیں۔

مسلمان حکمران اپنی حکمرانی کو قائم رکھنے کے لیے عیسائی حکمرانوں کے ساتھ مل کر ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔ عیش وعشرت میں ڈوبے ان حکمرانوں کے محلات عیسائی سازشوں کا مرکز بنے ہوئے تھے اور وہاں دل لبھانے کو عیسائی حسینائیں ہروقت موجود ہوتیں اور زنا و شراب کا دور دورہ تھا۔

ایسے میں اللہ اپنے ایک خاص بندے کو بھیج کر ساری کایا ہی پلٹ دیتا ہے جو تن تنہا ایک ہاتھ پہ ان فاسق حکمرانوں سے امت کو نجات دیتا ہے تو دوسری طرف پورے یورپ کی عیسائی فوجوں کو شکست فاش دے دیتا ہے اور یوں اسلام کو زوال سے نکال کے بلندی پہ لے جاتا ہے۔ تاریخ اس خاص بندے کو آج بھی صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانتی ہے۔

لگتاہے جیسے آج ہم صلاح الدین سے پہلے کے وقت میں زندہ ہیں۔ بالکل ویسے ہی فاسق حکمران ہم پہ قابض ہیں جو اس وقت کے حکمرانوں سے زیادہ یہود و نصاریٰ کے تلوے چاٹنے میں مصروف ہیں۔ آج ہم جن ذلت کی پستیوں میں دفن ہیں اس سے نیچے شاید ہی کوئی پستی ہو۔ اسلامی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ہر دور کے صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں اللہ نے مسلمانوں کو ذلت کے بعد عروج بخشا۔

آثار بتارہے ہیں کہ ذلت کا یہ دورانیہ اب ختم ہونے کو ہے کیونکہ اس ذلت کے بعد اب کوئی ذلت باقی ہی نہیں رہی۔ اس دور کا صلاح الدین اب آنے کو ہے۔ فسق و فجر چھٹنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے شاہ سلمان یا محمد بن سلمان اس سلسلے کا آخری حکمران ثابت ہوں گے کیونکہ محمد بن عبداللہ عرف عام میں جنہیں امام مہدی کہتے ہیں کی بیعت ہونے کو ہے۔ امام مہدی آنے کو ہیں۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مسیحا کےانتظار کیبجائے اپنا رول ادا کریں کہ ہم کسطرح امت کے حالات میں بہتری لاسکتے ہیں۔

  • اس تحریر کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کی یہ تنزلی عارضی ہے انشاءاللہ عروج کا دور شروع ہوا چاہتا ہے۔آپکی بات بالکل بجا ہے۔ہر مسلمان کو امت کی بہتری کیلیئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    • میں یہ جاننے سے قاصر ہوں کہ ہم مسلمانوں میں اس وقت کون سی ایسی بات ہے جس کے بل بوتے پر ہم ایسے خواب دیکھنا پسند کرتے ہیں.؟ یعنی ہم مغرب کے پیسے پر پل رہے ہیں، ان کی دی ہوئی ٹیکنالوجی کہ بغیر ہم نا تو تیل نکال سکتے ہیں، نا ہی جنگ لڑ سکتے ہیں. میڈیا پر ان کا راج، دولت اور فنانس پر ان کا راج، آج وہ اگر اپنے بنائے ہوئے صرف ایک شربت میں ایک ہی دن میں زہر انڈھیل دیں تو لاکھوں کیا کروڑوں مسلمان لقمہ اجل بن جائیں. وہ ایک سافٹویئر بند کریں تو ہمارے کاروباری مراکز اور دفاعی ادارے تک بند ہو جائیں. پھر وہ کونسی ایسی بات ہے جس نے فاضل. مصنف کو یہ کہنے پر مجبور کیا کہ ذلت کا دورانیہ ختم ہونے کو ہے.
      کیا تمام قوانین قدرت بالائے طاق رکھ کر، خدا ہم سے متعصب برتاؤ کرے گا؟ کیا وہ ہماری مدد تب ہی نہیں کرے گا جب اس نے بنی اسرائیل کی مدد کرنا شروع کی یعنی اجتماعی توبہ اور صحیح راستہ پر چلنا،اور پھر مادی اسباب کا بھی مناسب حد تک پاس ہونا. اس کے بغیر یہ خواب بڑے سہانے لگتے ہیں کہ ایک شخص آئے گا جو اغیار کا پیسہ، ان کا جنگی سازوسامان، انہی کا میڈیا استعمال کر کہ انہیں ہی شکست دے دے گا، وہ بھی اُس قوم کہ لیے جو ابھی غفلتوں میں ڈوبی ہوئی ہے، اور اس بحرِ ذلت سے نکلنے کا کوئی ارادہ بھی نہیں رکھتی.

      • سلام!
        اللہ عزوجل قادر ہے ۔۔۔ اور یقینا وہ قادر ہے ۔ عزیز آپ صرف ایک دفعہ رسول محتشم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے اور بعد کے 50 سال کا مطالعہ کر لیں ۔۔۔ آپ کو کیسے کا جواب مل جائے گا؟
        کس طرح اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو قلیل وقت میں اس دور کی سپر پاورز (قیصر و کسرٰی) پر غلبہ دیا ۔۔۔
        بس دعا ہے اللہ عزوجل ہمیں اپنے دین کی مدد کی لیے چن لے۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم

      • ہمیں اگر یقین ہے تو صرف اور صرف قرآن و حدیث. اور یہی ہمارا ایمان بھی ہے. بظاہر جو نظر آرہا ہے ہمیں اسکی پرواہ نہیں بلکہ اس پر یقین ہے جو احادیث میں کہا جاچکا. اسلئے اس بات کو تو بھول جائیں کہ کیسے ہوگا کیوں ہوگا جیسا کہ سوال کرنے والے نے کئے.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com