دعا اور صلہ رحمی - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

اسلامی عقائد میں سے ایک اہم عقیدہ ’’تقدیر‘‘ کا ہے. وہ یہ کہ اللہ تعالٰی نے کائنات کے وجود میں آنے سے لے کر اس کے فنا ہونے (قیامت) تک ہر چیز کے بارے میں طے کر دیا ہے کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا؟ اور ہر فرد کے بارے میں طے کر دیا ہے کہ وہ کس صورتِ حال سے دوچار ہوگا ؟ اسی طرح ہر شخص اس دنیا میں ایک متعین عمر لے کر آتا ہے، نہ اس سے ایک لمحہ پہلے اس کی موت آسکتی ہے اور نہ ایک لمحہ بعد.

لیکن بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں دو چیزوں کا استثناء ہے : ایک ہے دعا اور دوسری صلہ رحمی، دعا سے تقدیر بدل سکتی ہے اور صلہ رحمی سے عمر میں اضافہ ہوسکتا ہے.
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لاَ يَرُدُّ القَضَاءَ إلاّ الدُّعَاءُ وَ لاَ يَزيدُ فِي العُمْرِ إلاّ البِر (ترمذی : 2139)
’’تقدیر کو کوئی چیز نہیں ٹال سکتی، سوائے دعا کے اور عمر میں کسی چیز سے اضافہ نہیں ہوسکتا، سوائے صلہ رحمی کے.‘‘

شارحینِ حدیث نے بتایا ہے کہ اس حدیث میں تقدیر کا ٹل جانا اور عمر میں اضافہ ہونا دونوں مجازی معنی میں ہوسکتے ہیں اور ان کا حقیقی مفہوم بھی مراد لیا جا سکتا ہے. جامع ترمذی کی شرح ’تحفۃ الاحوذی‘ میں اس حدیث کی درج ذیل تشریح کی گئی ہے:
’’اس حدیث میں ’تقدیر‘ مجازی معنی میں ہے. اس سے مراد وہ تکالیف، مصائب اور پریشانیاں ہیں جن میں مبتلا ہونے کا آدمی کو اندیشہ رہتا ہے. مثلاً وہ بیمار ہوگا یا نہیں؟ اور بیمار ہونے کی صورت میں اسے شفا ملے گی یا نہیں؟ یہ اللہ تعالی کی طرف سے طے شدہ ہے، لیکن پھر بھی اسے علاج معالجہ کرنے اور اللہ سے صحت کی دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے. مشہور واقعہ ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں شام میں طاعون پھیلا. حضرت عمر وہاں جا رہے تھے، راستے میں انھیں اس کی خبر ملی تو واپس ہونے کا فیصلہ کرلیا. اس موقع پر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’اے امیر المومنین! کیا اللہ کی تقدیر سے فرار اختیار کر رہے ہیں؟‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا بڑا حکیمانہ جواب دیا. انھوں نے فرمایا: ’اے ابو عبیدہ! ہاں، ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف جا رہے ہیں.‘ یا اس حدیث میں ’تقدیر‘ کا حقیقی معنی بھی مراد لیا جا سکتا ہے. اس صورت میں تقدیر کو ٹالنے سے مراد اسے برداشت کرنا، اسے گوارا کرنا اور اس پر راضی بہ رضا رہنا ہوگا. اسی طرح اس حدیث میں عمر میں اضافہ یا تو حقیقی معنی میں ہے. ایسا ’تقدیر معلّق‘ کی صورت میں ہوتا ہے، مثلاً اگر اس شخص نے فلاں کام نہیں کیا تو اس کی اتنی عمر ہوگی اور اگر فلاں کام کیا تو اس کی عمر میں اتنا اضافہ ہوجائے گا. یا عمر میں اضافہ اس حدیث میں مجازی معنی میں ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ متعیّن عمر ہی میں اللہ تعالٰی برکت عطا فرمائے گا اور اس میں آدمی کو اتنے نیک اعمال کی توفیق ہوگی جتنے دوسرے لوگ اس سے زیادہ عمر میں کر سکیں گے.‘‘

یہ بھی پڑھیں:   تربیتِ اولاد اور دعا - نسیمہ ابوبکر

بہ ہر حال اس حدیث کی رو سے ہمیں دو چیزوں کا اہتمام کرنا چاہیے: ایک دعا اور دوسرے رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سلوک. ہم میں سے کون ہوگا جس کی یہ خواہش نہ ہو کہ اسے تکالیف اور پریشانیوں سے نجات مل جائے اور اس کی عمر میں اضافہ ہو، پھر اسے ان کاموں کا التزام کرنا چاہیے جن سے اس کی یہ توقعات پوری ہوں اور یہ مرادیں بَر آئیں.

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.