کمانڈر! تمہارے ساتھ یہی ہونا تھا - زبیر منصوری

کمانڈر!
تمھارے ساتھ یہی ہونا تھا!
مسئلہ بھارت اور امریکہ کا نہیں، ان سے بھلا کس کو بھلائی کی امید؟
مگر تمہارے اپنے بھی تمہارے کتنے اپنے ہیں؟

یہ جنگی محاذوں پر تو خیر تمھارے لوگوں کے لیے کیا لڑتے، انہوں نے سفارت کے عالمی محاذوں پر بھی تمھیں چھوڑے رکھا۔ بھلا بتاؤ مولانا فضل الرحمن بھی تمھارا سفیر ہو سکتا تھا؟
بھلا اس سے بھی امید کی جا سکتی ہے کہ وہ تمہارا مقدمہ لڑ سکتا ہے؟

آہ! جن لوگوں کی آنکھیں وزیر کے اسٹیٹس کی مراعات سے اوپر نہیں اٹھتیں، انھیں امریکہ و بھارت سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا کام سونپ دیا گیا۔

کمانڈر!
آپ اور آپ کے بوڑھے شیر سید علی گیلانی کو بھلا کیسے سمجھاؤں کہ جن پہ تکیہ ہے، وہی پتے تمھیں ہوا دینے لگے ہیں۔
میں کیسے تمھاری نسلوں کو بتاؤں کہ جن کو تم اپنا سمجھتے ہو، یہ کاش تمہارے اپنے ہوتے!

کمانڈر!
میں جانتا ہوں کہ تمہارے پاس بھی اب نہ ’’جائے رفتن ہے نہ پائے ماندن!‘‘

اور ہاں!
جھوٹی امیدوں کے سہارے جینے والو،
میں تمہارا مجرم ہوں!
کھول دو اپنی توپوں کے دھانے،
چھلنی کر ڈالو میرے سینے کو
کہ مجھ سے اب برہان اور سبزار کے نوحے اور نہیں لکھے جاتے۔
میرے کشمیری بھلا تمھاری مدد کے امرت کی دھن میں اور کتنے زہر کے پیالے پیئں گے؟

میں نے فرعون کے دروازے پہ دستک دی ہے
مجھ کو بھی سینہ خنجر پہ نچایا جائے

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.