فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے - احمد سعد

احمد پور شرقیہ میں ٹینکر حادثے اور اس کے بعد پیش آنے والے اندوہناک واقعے کے بعد جتنے منہ، اتنی باتیں ہیں۔ کوئی غربت کو قصوروار ٹھہرا رہا ہے تو کوئی جہالت و لاعلمی کو۔ 'بیڈ گورننس' کی تان اٹھانے والوں کی آواز شاید سب سے بلند ہے۔ حالانکہ دیکھا جائے تو نہ قصور غربت کا ہے، نہ جہالت اور نہ حکومت کا۔ غربت اللہ کی طرف سے آزمائش ہے کہ کون تنگی میں بھی ثابت قدم رہتا ہے۔ جہالت کی بات کریں تو یہ بھی ضمیر کو تو نہیں مارتی۔ نیکی و بدی اور صحیح و غلط کا شعور ہر انسان کے اندر فطری طور پر موجود ہوتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں کئی ان پڑھ لوگ ملتے ہیں جو دیانت دار ہوتے ہیں۔ تیسری جانب یعنی حکومت پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہو رہا ہے کہ قریب میں کوئی برن سینٹر نہیں تھا۔ اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر چند کلومیٹر پر بھی ایک عالمی معیار کا برن سینٹر قائم ہو تو کیا لوٹ مار کی عادت ختم ہو جائے گا؟

جس پہلو پر توجہ نہيں دی جا رہی وہ یہی ہے کہ اللہ چوری چھپے انفرادی گناہ پر تو فوری پکڑ نہیں کرتا بلکہ پردہ پوشی کرتا ہے اور فرد کو سنبھلنے کا موقع دیتا ہے لیکن جب گروہ کا گروہ دن دیہاڑے اجتماعی طور پر گناہ کر رہا ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب شاید ان میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہی۔ یہ اللہ کے غضب کو للکارنے والی حرکت تھی کہ لوگ اتنی بڑی تعداد میں، تربیت کے مہینے کے آخری روز کھلے عام لوٹ مار میں مصروف تھے۔

قوم لوط کا انجام یاد کریں کہ جب حضرت لوط علیہ السلام کے پاس فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں آئے تھے تو قوم نے ان کے گھر پر ہلّا بول دیا تھا کہ اپنے مہمان ہمارے حوالے کرو۔ حالانکہ اللہ نے حجت تمام کرنے کے لیے ہی انہیں اس قوم کے پاس بھیجا تھا۔

پھر یوم سبت والوں کا انجام دیکھیں کہ جب قوم دن دیہاڑے پابندی والے دن بھی مچھلیاں پکڑنے سے باز نہیں آتی تھی۔

داؤد علیہ السلام کے ساتھیوں کا انجام یاد کریں جب انہیں ایک راستے میں آنے والے ایک چشمے سے سیر ہوکر پانی پینے سے منع کیا گیا تھا لیکن ایک قلیل تعداد کے سوا کوئی اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا۔

بالکل ایسے ہی اللہ نے پٹرول کو زمین پر بہا کر ایک گروہ کا امتحان لیا اور اپنا فیصلہ نافذ کردیا۔

فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے

کبھی کرتی نہیں ملّت کے گناہوں کو معاف