دلیل کے ساتھ ایک سال - داؤد ظفر ندیم

وقت اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ پتہ نہیں چلتا، ابھی 2008ء کل کی بات ہے جب میں نے فیس بک جوائن کی اور یہاں عامر خاکوانی کے صفحے پر نئے دوستوں سے ملاقات ہوئی جو فیس بک میں بہترین دوست بنے۔ اور ان سے سماجی، مذہبی اور لسانی حوالوں سے طویل مباحثوں کا آغاز ہوا۔

اس وقت عامر خاکوانی کی بعض باتیں ایسی تھیں جو دل کو بھا گئیں، ایک ان کا پر امید رہنا، دوسرا ان کے لوگوں میں حوصلے کو بڑھانے کی کوشش، اس کے علاوہ اعتدال اور دلیل کے ساتھ گفتگو کہ فکری مخالف بھی بات کر سکے اور سب سے بڑھ کر پاکستان سے غیر مشروط محبت۔
چنانچہ جب عامر خاکوانی نے ایک ویب سائٹ کی بات کی تو دل کو اپیل کر گئی۔ میرا خیال ہے کہ کسی ویب سائٹ کی مضبوطی یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی فکری سمت پر چلے۔ کسی دوسرے کی مخالفت یا ردعمل پر مبنی رویہ کسی کی مضبوطی نہیں ہوتا۔ اس وقت واقعی خوشی ہوئی جب یہ ویب سائٹ اردو کی سرفہرسٹ سائٹس میں شمار ہونے لگی۔

میرا تجربہ یہی بتلاتا ہے کہ دلیل نے کبھی فکری اختلاف کی حوصلہ شکنی نہیں کی۔ بات دلیل اور سلیقے سے کہی ہو تو اس تحریر کا ہمیشہ خیر مقدم کیا ہے۔
دلیل نے ہی مجھے ڈاکٹر عاصم اللہ بخش جیسی شخصیت سے متعارف کروایا۔ یہ حقیقت ہے کہ میں نے فیس بک پر جن لوگوں سے کچھ سیکھا ہے تو ان میں ڈاکٹر صاحب ایک نمایاں نام ہیں بات کو سلیقے سے اور دلیل سے کہنے کا ہنر، ان سے اختلاف ہوتا ہے مگر ان کی بات کا وزن بھی محسوس ہوتا ہے

دلیل میں دانیال کا وجود بھی ایک غنیمت ہے، ایک محنتی اور بااعتماد ساتھی ایک سرمایہ ہوتا ہے۔اور دانیال سچ مچ ایسا ہی فرد ہے، ہمیشہ رابطے میں رہتا ہے اور دلیل کے بارے اپ ڈیٹ کرتا رہتا ہے۔

میں عامر خاکوانی کو ایک اسلامسٹ کے بجائے ایک ایسا غیر جانبدار شخص سمجھتا ہوں جو فکری اعتبار سے ایک معتدل اور مدلل شخص ہے اور مخالف کی دلیل سننے کا عادی ہے، جو ایک موٹیویشنل لکھاری ہونے کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، اور ہر مکتبہ فکر میں اپنی معتدل اور مدلل تحریروں کی وجہ سے قابل قبول سمجھا جاتا ہے۔ میں دلیل کو بھی ایک ایسے پلیٹ فارم کی حیثیث سے دیکھنا چاہتا ہوں جو پاکستان کے سب مکاتب فکر کی تحاریر اور دلائل کو جگہ دے، پاکستان سے محبت اور مثبت طرز فکر کو فروغ دے، غیر حقیقی دلائل اور جنگجو قسم کے اسلامسٹ کے بجائے ایسے لوگوں کو اپنا ترجمان بنائے جو معتدل بیانیے اور اقلیتوں سمیت سب پاکستانیوں سے حسن سلوک اور امن کے پرچارک ہوں، دوسرے ممالک سے نفرت کے بجائے امن کی بات کرتے ہوں اور کسی فوجہ مہم جوئی کے بجائے اپنے سیاسی ہم خیال اور دوست تلاش کرنے کی بات کرتے ہوں۔
میں اپنے آپ کو دلیل کا حصہ سمجھتا ہوں، اس لیے دلیل کی سالگرہ کو اپنے فکری اور تخلیقی سفر کا ایک اہم پڑاؤ سمجھتا ہوں۔

Comments

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم تاریخ، عالمی اور مقامی سیاست، صوفی فکر اور دیسی حکمت میں دلچسپی رکھتے ہیں، سیاسیات اور اسلامیات میں ماسٹر کیا ہے۔ دلیل کے لیے باقاعدہ لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.