احمد پور شرقیہ کا حادثہ : اتفاق، لالچ یا غیر ذمہ داری؟ محمد زاہد صدیق مغل

نتیجے کا اتفاق دو طرح کا ہوتا ہے، ایک وہ نتائج جنھیں فرد روک نہیں سکتا یا جن پر وہ اثرانداز نہیں ہوسکتا (اسے brute luck کہتے ہیں)۔ مثلا میں کس کے گھر پیدا ہوا، یہ میرے لیے brute luck ہے۔ ایک لک وہ کہ جو ہمارے فیصلوں و انتخابات کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوتا ہے، بایں معنی کہ اگر ہم نے وہ فیصلہ نہ کیا ہوتا تو وہ اتفاق نہ ہوتا (اسے option luck کہتے ہیں)۔ مثلا میں سکے کے ’’ہیڈ اینڈ ٹیل‘‘ میں سے کسی ایک کے ظاہر ہونے کی شرط پر اپنی ساری دولت ہار جاؤں تو یہ میرے لیے option luck ہے۔ ماہرین علم اس تقسیم کو کچھ خاص مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں جس میں جانا یہاں مقصود نہیں، البتہ یہ تقسیم یہاں متعلق ہے۔ بالفرض میں ہائی وے پر گاڑی چلا رہا ہوں اور میرے سامنے چلنے والا ٹرک اچانک الٹ گیا اور میں اس حادثے میں جاں بحق ہوگیا۔ یہ میرے لیے brute luck ہے۔ اب حادثے کے بعد کچھ لوگ جائے حادثہ پر جمع ہوگئے (کسی بھی وجہ سے) اور وہاں اچانک دھماکہ ہونے سے وہ سب بھی مرگئے، یہ option luck ہے، ان معنی میں کہ اگر وہ وہاں نہ آنے کا فیصلہ کرتے تو ان کے ساتھ یہ حادثہ نہ ہوتا۔

جو لوگ اس حادثے میں جھلس کر جاں بحق ہونے والوں کی لالچ کی بات کر رہے ہیں، وہ دراصل یہ کہہ رہے ہیں کہ ان لوگوں کے ساتھ یہ اتفاقی واقعہ بہرحال ان کے اپنے انتخاب کی بنا پر تھا (اور جو متعلقہ صورت حال میں غیر عقلی بھی تھا)، یعنی یہ ان کے لیے option luck تھا۔ مگر آگے بڑھنے سے قبل یہاں یہ کہنا چاہیے کہ ٹرک حادثے میں جھلس کر مرنے والوں کو ذمہ دار قرار دینا ان معنی میں حیرت انگیز ہے کہ اتنے سارے لوگ ایک ساتھ اس بری طرح فوت ہوگئے اور ہم ایسے تبصرے کریں۔ عام حالات میں ایک سیدھا سادہ شخص بھی اگر اپنی غلطی سے فوت ہوجائے تو ہم اس کی میت پر ایسے تبصرے نہیں کرتے۔ اسی قسم کا دوسرا افسوس ناک رویہ اس واقعے کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا ذریعہ بنانا ہے۔ چنانچہ جن سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اور ان کے ورکرز اس واقعے کی آڑ میں حکومت کے لتے لے رہے ہیں (’’کہ دیکھو جی کوئی برن سینٹر کیوں نہیں بنایا وہاں‘‘) ان کی اصل دلچسپی حکومت کو ڈس کریڈٹ کرنے میں ہے، فی الحقیقت انھیں اس امر سے دلچسپی نہیں کہ لوگوں کے ساتھ ایسا نہ ہو اور اس کی واضح ترین دلیل یہ ہے کہ کے پی کے میں شاید ایک بھی برن سینٹر نہیں بنایا گیا حالانکہ اس صوبے میں بم دھماکوں میں جھلسنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی ہے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ بجائے پنجاب حکومت پر تنقید کرنے کے اپنے صوبے کی خبر لی جاتی کہ اس میں برن سینٹرز کہاں کہاں بنا لیے گئے، اور اگر نہیں بنائے گئے تو اس کے بندو بست کی فکر کی جائے۔ مگر افسوس! خیر۔

یہ واقعہ ان افراد کے لیے ان معنی میں یقینا option luck ہے کہ اگر وہ اس مقام پر نہ جاتے تو یہ واقعہ نہ ہوتا۔ مگر یہ پوری صورت حال نہیں۔ اس کا آپشن لک ہونا بتا رہا ہے کہ اس واقعے پر چند فیصلوں سے اثر انداز ہونا ممکن بھی تھا۔ مثلا ایسی کسی صورت حال میں ہونا یہ چاہیے کہ اگر اس قسم کا کوئی حادثہ ہو تو کچھ ’’ایس او پیز‘‘ کو فوری طور پر فالو کیا جائے (مثلا جائے حادثہ کے مقام کو کچھ میٹرز تک سب کے لیے بند کردیا جائے وغیرہ) تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔ چنانچہ یہ بات گمان غالب کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اگر ٹرک الٹنے کا یہ واقعہ موٹروے پر ہوتا اور اس کے آس پاس کوئی گاؤں بھی آباد ہوتا تو اس قدر انسانی جانوں کا نقصان نہ ہوتا کیونکہ موٹروے پولیس پروفیشنل ذمہ داری کے ساتھ کام کرتی ہے۔ تو اگر متعلقہ ادارہ اپنا کام کرتا تو شاید یہ نقصان نہ ہوتا۔

اس ملک میں 2005ء میں بدترین زلزلہ آیا جس کے بعد ڈیزاسٹر مینیجمنٹ سیل کا قیام عمل میں لایا گیا مگر وہ حکومتی ترجیحات میں ابھی خاصا نیچے ہے، اور اس کے تحت شاید اب تک کچھ ’’قبرستان‘‘ بنانے کے انتظام کیا گیا ہے تاکہ ایسی کسی صورت میں لاشوں کو ٹھکانے لگایا جاسکے (اسلام آباد ایچ 11 قبرستان کے ساتھ لگی اس ادارے کی تختی سے اس کی جھلکی ملاحظہ کی جاسکتی ہے)۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں تقریبا ہر انڈسٹری سے متعلقہ اچھے اچھے ایس او پیز کو ڈاؤن لوڈ کرکے کمپیوٹر کی یادداشت میں بس محفوظ کرلیا جاتا ہے اور کسی ناقد کے سوال پوچھنے پر اس کا ’’منہ بند کروانے‘‘ کے لیے ادے پیش کر دیا جاتا ہے کہ ’’جی قانون تو موجود ہے‘‘ مگر ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جاتے۔ اگر آپ کسی بڑے شہر کے شاپنگ پلازہ میں جائیں تو اس کی چھت پر کھلی لٹکنے والی خطرناک بجلی کی تاریں آپ کو یہ بتا رہی ہوں گی کہ کتنی انسانی جانیں ہمہ وقت خطرے سے دوچار ہیں اور جنھیں موثر اقدامات سے بچانا ممکن ہے۔ حکومت آج لواحقین میں چیک تقسیم کرکے شاید خود کو اپنی مقدم ذمہ داری سے سبکدوش سمجھنے والی ہے حالانکہ اس کی مقدم ذمہ داری نقصان کا ازالہ نہیں بلکہ اس سے بچاؤ کے ان اقدامات کو یقینی بنانا ہے جن کے ذریعے لوگوں کو اس قسم کے option luck کے نقصانات سے بچانا ممکن ہو۔ اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ آمین

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.