لیلۃ الجائزۃ اور عید الفطر - محمد ریاض علیمی

ہر قوم، نسل اور مذہب میں ان کے اقدار اور ثقافت کے مطابق خوشی منانے کے طریقے مروج رہے ہیں۔ ہر دور کے تقاضوں کے مطابق ان کے طورطریقوں میں نمایاں تبدیلی آتی رہی۔ ان میں سے زیادہ تر انسانی فطرت کے خلاف ہیں اور اخلاقی قدروں کے مطابق نہیں ہیں۔خوشی منانا انسانی فطرت میں ہے۔ اسلام نے فطرت کے عین مطابق اخلاقی اور معاشرتی اقدار کا لحاظ رکھتے ہوئے مسلمانوں کو خوشیاں منانے کے تہوار مقرر کیے ہیں۔ عرب میں زمانہ جاہلیت میں بھی خوشیوں کے ایام مقرر تھے جن میں عرب اپنی ثقافت کے مطابق خوشیاں منایا کرتے تھے۔ وہ لوگ میں شراب نوشی اور بدکاری کے ساتھ ساتھ کھیل کود بھی کیا کر تے تھے۔

طلوعِ اسلام کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ ہجرت کے بعد جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ مدینہ شریف میں عرب کے قبیلوں نے کھیل کود کے دو تہوار مقرر کیے ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ تمہارے نزدیک ا ن کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسلام سے پہلے بھی ہم اسی طرح یہ تہوار خوشی و مسرت کے ساتھ منایا کرتے تھے۔ حضور ﷺ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا:اللہ رب العزت نے تمہارے ان د و تہواروں کے بد لے میں دو بہترین تہوار مقرر کردیے ہیں جن میں سے ایک عید الفطر ہے اور دوسرا عید الاضحیٰ ہے۔ (ابو داؤد)گویا کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے زمانہ ٔ جاہلیت کے لایعنی اور بے مقصد تہواروں سے منع کرکے اسلام کے عظیم تہوار انعام و اکرام کے طور پر عیدوں کی صورت میں مقرر فرماد یے۔

عید الفطر مسلمانوں کا ایک عظیم مذہبی تہوار ہے۔ یہ تہوار مسلمانوں کو ان کی جزاء میں عطاکیا گیا ہے۔ مسلمان جب رمضان المبارک میں پورے مہینے اپنے رب کی رضا کی خاطر اپنے آپ کو خواہش نفسانیہ کے ساتھ ساتھ دن میں کھانے پینے سے روکے رکھتے ہیں اور اس کی راتوں میں قیام کرتے ہیں تو اللہ رب العزت اس کے بدلے میں اپنے بندوں کی بخشش فرماتے ہو ئے انہیں اعزاز و اکرام سے نوازتا ہے۔ عید کا دن مسلمان کے لیے بہت بڑی خوشی کا دن ہوتا ہے کیونکہ عید کے دن جو خوشیاں ملنے والی ہوتی ہیں ‘اللہ رب العزت کی جانب سے رات سے ہی ا نعامات کی نوازشات اور رحمتوں کی بارشیں شروع ہوجاتی ہیں۔ اس رات کو ’’ لیلۃ الجائزۃ ‘‘ یعنی ’’انعامات والی رات ‘‘ بھی کہاجا تا ہے۔ اس رات کی فضیلت اور اہمیت کے متعلق حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے عید الفطر اور عید الاضحی کی راتوں کو (ثواب کی نیت سے جاگ کر عبادت کرتے ہوئے ) زندہ کیا تو اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہوگا جس دن لوگوں کے دل مردہ ہوں گے۔ (المعجم الاوسط) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺنے رمضان المبارک میں امت کوعطا کی گئی پانچ خصو صیات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: جب (رمضان ) کی آخری رات ہوتی ہے روزہ داروں کوبخش دیا جاتا ہے۔ ایک صحابی نے عرض کی: کیا یہ (آخری رات)شبِ قدر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ جب مزدور اپنے کام سے فارغ ہو جاتا ہے تو اسے مکمل مزدوری دی جاتی ہے۔ (مسند احمد)اسی طرح ایک اور روایت کے مطابق جب عید کا دن ہوتا ہے تو اللہ رب العزت اپنے بندوں پر فخر کرتے ہوئے فرشتوں سے فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! اس مزدور کی اجرت کیا ہونی چاہیے جو اپنا کام پوراکردے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: الٰہی اس کی اجرت یہ ہے کہ اسے پورا اجر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: اے فرشتو! میرے بندے اور بندیوں نے میرا وہ فریضہ پورا کردیا جو ان پر ضروری تھا۔۔۔۔۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتاہے: لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا۔ (بیہقی) یہی وہ حقیقی خوشیاں ہیں جو مسلمان کو نصیب ہوتی ہیں۔ عید الفطر کے دن مسلمانوں پر ہونے والی انعامات کی بارشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب عید الفطر کا دن ہوتا ہے تو ملائکہ راستے کے کنارے کھڑے ہوجاتے ہیں اور آواز دیتے ہیں، اے مسلمانو! اس رب کریم کی طرف چلو جو بہت خیر کی توفیق دیتا ہے اور اس پر بہت زیادہ ثواب دیتا ہے۔ اے بندو! تمہیں قیام اللیل کا حکم دیا گیااور تم نے قیام کیا، تمہیں دن میں روزے کا حکم دیا گیاتو تم نے روزے رکھے اور تم نے اپنے رب کی اطاعت کی۔ لہٰذا آج تم اپنے انعامات لے لو۔ پھر جب لوگ نماز سے فارغ ہوجاتے ہیں تو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے: تمہارے رب نے تمہاری مغفرت کردی۔ اپنے گھروں کی طرف ہدایت لے کر لوٹ جاؤ۔ یہ یوم جائزہ (انعام کا دن) ہے۔ (معجم الکبیر)

عید کا دن چونکہ ایک بہت عظیم دن ہے۔ احادیث مبارکہ میں اس دن کو خصوصیت کے ساتھ مخصو ص اعمال و افعال کے ساتھ گزارنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عید کے د ن سنت یہ ہے کہ عید کی نماز کے لیے پیدل چل کر جائے اور جانے سے پہلے کچھ کھالے۔ (ابن ماجہ) حضور نبی اکرم ﷺ کا معمول مبارک بھی یہی تھا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن جب تک چند چھوہارے نہ کھا لیتے، عید گاہ کی طرف نہ جاتے اور آپ ﷺ چھوہارے طاق عدد میں کھاتے تھے۔( بخاری) اسی طرح حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عید کا دن ہوتا تو نبی کریم ﷺ واپسی پر راستہ بدل لیتے تھے۔ (بخاری)

عید سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو اپنے روزوں کا صدقہ نکالنے کا بھی حکم دیا ہے جسے شریعت کی اصطلاح میں ’’صدقۂ فطر ‘‘ کہا جاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقۂ فطر کو فرض فرمایا جو روزہ داروں کی لغویات اور بیہودہ باتو ں سے پاکی ہے اور غریبوں کی پرورش کے لیے ہے۔ (ابو داؤد) اسی طرح آ پ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صدقۂ فطر کو نماز عید کے لیے جانے سے پہلے ادا کردیا جائے۔الغرض عید کا دن بھی قرب الہٰی حاصل کرنے کا دن ہوتا ہے۔ لہٰذاس عظیم دن کو بھی رمضان المبارک کی طرح خرافات اور و اہیات سے بچتے ہوئے سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق گزارنا چاہیے۔ عید کادن ایک نعمت ہے۔ اس نعمت پر رب کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ عید کا اصل مقصد اور حقیقی خوشی سنت نبوی ﷺ کی اتباع میں مضمر ہے۔