عید کیسے منائیں؟ - محمد مبشر بدر

عید جب بھی آتی ہے خوشی کا سماں پیدا کردیتی ہے۔ہر طرف گہما گہمی ہوتی ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر اور عالمی خوشی کی نوید ہوتی ہے۔ تمام مسلمان اس الٰہی انعام پر خوش ہوتے ہیں۔ اسلام ایک عالمی دین ہے اس لیے اس کے اصول بھی عالمی ہیں، اسی لیے مسلمانوں کے دو تہوار عید الفطر اور عید الاضحیٰ تمام عالم کے مسلمان مشترکہ طور پر مناتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہر امت کے لیے کوئی نہ کوئی عید ہوتی ہے اور ہماری یہ عید ہے۔‘‘ ایک اور روایت کا مفہوم ہے کہ ’’ اللہ نے ہمارے لیے دو عیدیں مقرر کی ہیں۔ ‘‘

فضائلِ اعمال میں شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ نے یہ حدیث پاک درج کی ہے کہ ’’ جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو آسمانوں پر اس کا نام لیلۃ الجائزہ کے نام سے لیا جاتا ہے۔اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں۔ وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں، راستوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو جن و انسان کے سوا سبھی مخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں کہ اے محمد ﷺ کی امت! اس کریم رب کی درگاہ کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف کرنے والا ہے۔ پھر جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتا ہے: کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکاہو ؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ ہمارے معبود اور ہمارے مالک اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ اے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کردی اور بندوں سے خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہےکہ اے میرے بندو! مجھ سے مانگو۔ میری عزت کی قسم اور میرے جلال کی قسم ! میں تمہیں مجرموں کے سامنے رسوا و فضیحت نہیں کروں گا۔بس اب بخشے بخشائے گھروں کو لوٹ جاؤ، تم نے مجھے راضی کردیا اور میں تم سے راضی ہوگیا۔ پس فرشتے اس اجر و ثواب کو دیکھ کر جو اس امت کا افطار کے دن ملتا ہے خوشیاں مناتے ہیں۔‘‘

عید کے دن ہمیں چندآداب و سنن کا لحاظ کرنا چاہیے تاکہ ہم پاکیزگی اور عمدگی کے ساتھ اس تہوار کو منا سکیں اور ہمارا عمل نبی کریم ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقے پر ہو۔ ان میں سے سب سے اول صدقہ فطر کی ادائیگی ہے جو عید کے دن طلوعِ شمس سےہی واجب ہوجاتی ہے۔ بہتر ہے کہ اسے عید سے چند دن پہلے ہی ادا کردیا جائے تاکہ مستحقین اسے عید کی تیاری کے لیے استعمال کرسکیں۔اگر ادئیگی میں دیر ہوگئی اور عید کا دن گزر گیا تو بعد میں بھی ادا کیا جاسکتا ہے۔پھر جب عید کا دن آجائے تو غسل کرلینا چاہیے۔یہ تمام صحابہ کرام ؓ کا عمل ہے چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے غسل کے بارے دریافت کیا۔تو انہوں نے فرمایا: ’’ اگر چاہو تو روزانہ غسل کرو۔‘‘ اس آدمی نے کہا نہیں جسے غسل کہا جاتا ہے اس کی بابت سوال ہے۔تو سیدنا علی ؓ نے فرمایا: وہ غسل جمعہ کے دن، یوم عرفہ کے دن، عید الاضحیٰ اور عید الفطر کے دن ہوتا ہے۔

اس کے بعد نئے کپڑے زیب تن کرناچاہییں چنانچہ بیہقی نے صحیح سند کیساتھ نافع سے بیان کیا ہے کہ ’’ ابن عمر رضی اللہ عنہما عیدین کے موقع پر اچھے سے اچھا لباس زیب تن کرتے تھے‘‘اچھی خوشبو لگانا چاہیے، سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح روایت سے مروی ہے کہ وہ عید الفطر کے دن خوشبو لگایا کرتے تھے۔ایک جگہ مروی ہے کہ: ’’ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ : میں نے اہل علم کو عیدین کے دن زیب و زینت اور خوشبو لگانے کو مستحب کہتے ہوئے سنا ہے‘‘، اسی طرح امام شافعی نے بھی اسے مستحب کہا ہے۔’’ فتح الباری‘‘ از: ابن رجب ( ۶۸: ۶)

تکبیرات کہنا: عید الفطر کے موقع پر چاند نظر آتے ہی تکبیرات کہنا مسنون ہے۔ تکبیرات کہتے ہوئے عید گاہ جانا چاہیے۔اس کا وقت امام کے خطبے کے لیے آنے تک کا ہے جب کہ عید الاضحیٰ پر یوم عرفہ کی صبح سے تکبیرات شروع ہوکر ذوالحجہ کی ۱۳ تاریخ کی عصر تک ختم ہوجاتی ہیں۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’ ولتکملو العدۃ ولتکبروا اللہ علیٰ ما ھداکم (البقرہ: ۱۸۵) یعنی ’’ تاکہ تم روزوں کی تعداد مکمل کرو اورتاکہ تم اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو اس طور جیسے اس نے تمہیں رہنمائی فرمائی ہے۔ ‘‘

میٹھی چیز مثلا کھجور کھانا: ’’ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب تک چند کھجوریں نہ کھا لیتے تب تک عید الفطر کے لیے نہیں نکلتے تھے، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے دوبارہ یہی حدیث بیان کی کہ آپ علیہ السلام طاق عدد کھجوریں کھاتے تھے۔‘‘ (بخاری) جب کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر آپ علیہ السلام عید نماز کے بعد آکر ہی قربانی کے گوشت سے ابتداء فرماتے تھے۔اس سے قبل کچھ تناول نہیں فرماتے تھے۔

عید کے دن آپ علیہ السلام نمازِ فجر کے بعد صرف عید کی دو رکعتوں کے علاوہ کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ اشراق کی نماز بھی اس دن ترک فرماتے۔ سورج نکلنے کے بعد صرف عید کی دورکعت ہی ادا فرماتے۔ اس لیے عید والے دن طلوع آفتاب کے بعد نوافل مشروع نہیں ہیں۔چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : نبی کریم ﷺ عید الفطر والے دن نکلے اور ( عید گاہ ) میں دو رکعت نمازِ عید پڑھی۔ آپ ﷺ نے نہ اس سے پہلے نفل نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔ سیدنا بلال ؓ بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ تھے۔ ‘‘( بخاری ) عید کی نماز خطبۂ عید سے پہلے پڑھنا مسنون ہے چنانچہ حدیث پاک میں ہے کہ ’’ نبی کرم ﷺ، سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمر ؓ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔‘‘ (بخاری)

اس دن رشتہ داروں سے ملاقاتیں کرنا مسنون ہے چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ : ’’ رسول اللہ ﷺ عید کے دن آتے جاتے راستہ تبدیل کرتے تھے۔‘‘ (بخاری) اس کی حکمت علامہ ابن حجر ؒ یہ بیان کرتے ہیں کہ : ’’ یہ کہا گیا ہے کہ تاکہ آپ زندہ یا فوت شدہ رشتہ داروں کے اہلِ خانہ سے ملیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ صلہ رحمی کے لیے راستہ تبدیل کرتے تھے۔‘‘

عید کے دن مبارک باد دینے کے لیے افضل کلمات جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہیں یہ ہیں تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا وَ مِنْکُمْ چنانچہ جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب عید کے موقع پر جب آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو کہتے: تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا وَ مِنْکَ (فتح الباری)

عید کا دن اللہ کے انعام کا اور کھانے پینے کا دن ہوتا ہے اس لیے اس دن روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔ گھر میں اچھے اچھے کھانے پکانے کا بھی جواز ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اس دن صلہ رحمی کریں اور خود کو عبادت میں لگائیں۔ گناہوں سے خود کو ازحد بچائیں۔ مبادہ اللہ کی رحمت کے بجائے کہیں غضب کا شکار نہ ہوجائیں۔ اس دن غریبوں اور مسکینوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شریک کرنا چاہیے۔ ان سے اعراض نہیں برتنا چاہیے۔