خون رنگ عید - خدیجہ افضل مبشرہ

"امی! آپ کو پتہ ہے میری سب دوستوں نے عید کے کپڑے لے لیے ہیں ؟ " ننھی علینہ نے اسکول سے گھر آتے ہی اسکول بیگ اتارتے ہوئے ماں کو مخاطب کیا۔

"اور علیشبہ کے بابا تو کل اس کے لیے میچنگ چوڑیاں اور جوتے بھی لے آئے ہیں" اب وہ ماں کے سامنے کھڑی شکوہ بھرے لہجے میں بولی۔

"ارے واہ۔ یہ تو پھر بہت اچھی بات ہے" علینہ کہ ماں عافیہ نے پیار سے اس کے بال سنوارے

"کیا اچھی بات ہے امی؟ میری سب دوستوں نے عید کی ساری تیاریاں کر لیں اور مجھے ابھی تک عید کے کپڑے بھی نہیں ملے" اب کی بار علینہ کی روشن آنکھوں میں آنسو مچل رہے تھے۔

" ارے میرا بچہ، کیوں اداس ہوتی ہو میری جان؟ آپ کے بابا نے وعدہ کیا ہے۔ آج وہ شام کو آئیں گے تو علینہ کو ساتھ لے کر جائیں گے۔ پھر آپ بھی اپنی پسند کے کپڑے جوتے اور چوڑیاں خرید لینا" عافیہ نے علینہ کو پچکارا۔

" آپ سچ کہہ رہی ہیں امی ؟۔ کیا واقعی بابا آج جلدی واپس آ جائیں گے کام سے؟" علینہ کے چہرے پر دھنک سی بکھر گئی تھی۔

" ہاں میرا بچہ، بابا نے وعدہ کیا ہے۔ جلدی تو آنا ہی پڑے گا" عافیہ کے لہجے میں بیٹی کے لیے بے پنا پیار تھا۔

" امی میں مہندی بھی لوں گی۔ آپ کو یاد ہے نا صبا باجی نے شائستہ آپی کی شادی پر جو مہندی لگائی تھی؟ آپ مجھے بالکل ویسی مہندی لگائیں گی نا" علینہ بہت پر جوش لہجے میں ماں کو اپنی ایک بڑی کزن کا مہندی ڈیزائن یاد کراتے ہوئے بولی۔

" اچھا اچھا!لگا دوں گی۔ اب آپ جلدی سے یونیفارم بدل کر آئیں تو میں آپ کو کھانا دوں" عافیہ نے اسے کپڑے بدلنے بھیجا اور اس کے لیے کھانا گرم کرنے لگی۔

عافیہ اور اویس کی ایک ہی بیٹی تھی۔ دونوں اپنی بیٹی پر جان چھڑکتے اور محدود آمدنی کے باوجود علینہ کی ہر خواہش پوری کرنے کی بھرپور کوشش کرتے۔

اب کی بار بھی علینہ دوسرے عشرے سے ہی باپ کے پیچھے پڑی تھی کہ اسے عید کے کپڑے جوتے اور چوڑیاں لینی ہیں۔ اویس اسے بہانے سے ٹال دیتا کہ ابھی ہاتھ کافی تنگ تھا۔ اسے انتظار تھا کہ مہینے کے آخر پر تنخواہ ملے تو وہ علینہ کی فرمائش پوری کر سکے۔ آج وہ صبح جاتے ہوئے عافیہ کو تاکید کر کے گیا تھا کہ شام میں وہ اور علینہ تیار رہیں تا کہ وہ علینہ کو عید کی شاپنگ کرا دے۔

علینہ نے کھانا کھایا اور ہوم ورک وغیرہ سے فارغ ہو کر باپ کا انتظار کرنے لگی۔عافیہ نے بھی افطاری کا انتظام مکمل کیا اور باقی چھوٹے موٹے کام نمٹا کر فارغ ہو گئی۔ دونوں ماں بیٹی اب اویس کا انتظار کر رہی تھیں۔ کافی دیر گزر گئی مگر اویس کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ عافیہ نے اس کے موبائل پر بھی بہت بار کال کی مگر اویس فون نہیں اٹھا رہا تھا۔

علینہ بار بار ماں سے بابا کے آنے کا پوچھتی کہ بابا کیوں نہیں آ رہے اور کب آئیں گے۔ عافیہ اسے دلاسے دیتی رہی کہ بس ابھی آتے ہوں گے۔ تھوڑا سا انتظار اور کر لو۔

اب تو اس کا دل گھبرا رہا تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کرے تو کیا کرے؟ افطاری کا وقت بھی ہونے ہی والا تھا۔ اس نے ایک بار پھر اویس کا موبائل نمبر ڈائل کیا۔ مگر کوئی جواب نہ پا کر تھک کر بند کر دیا۔ اسی اثنا میں بیرونی دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ وہ جلدی سے چادر سر پر ڈالتی دروازے کی جانب لپکی۔ سامنے ہمسایوں کا راشد کھڑا تھا۔

" باجی، دھماکہ ہو گیا ہے بازار میں! اویس بھائی بھی وہیں تھے اس وقت۔ ابھی چاچا کریم نے فون کر کے بتایا ہے۔ آپ جلدی سے میرے ساتھ چلیں ہسپتال۔ " راشد کی آواز نے عافیہ کی دنیا میں بھونچال ہی تو برپا کر دیا تھا۔

" یہ کیا کہہ رہے ہو راشد؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟" وہ زرد اور وحشت زدہ چہرے کے ساتھ راشد کو دیکھ رہی تھی۔

" باجی آپ جلدی چلیں میرے ساتھ۔ علینہ کو میری اماں اور بہنیں سنبھال لیں گی " وہ عجلت میں تھا۔ عافیہ نے چادر اوڑھی اور اس کے ساتھ چل پڑی۔ گھر کی دہلیز پار کرتے ہی اس نے مغرب کی اذان کی آواز سنی۔ مگر آج کی افطاری میں یہ صدمہ ہی کافی تھا اس کے لیے۔ وہ دل ہی دل میں اویس کی خیریت کی دعا کرتی راشد کے ہمراہ ہسپتال پہنچی تو ہر طرف افراتفری مچی ہوئی تھی۔ خون اور لاشوں کے ساتھ ساتھ زخمیوں کی بھی بہتات تھی۔ وہ ہر زخمی کو غور سے دیکھتی اس میں اویس کو تلاشتی جا رہی تھی۔ بالآخر اس کی تلاش ختم ہو گئی جب راشد نے اس کے ہاتھ میں ایک پرچی تھمائی جس پر دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کی لسٹ درج تھی۔ اور ان میں سےایک اویس بھی تھا اور پرچی پر اس کا نام بھی درج تھا۔

عافیہ چکرا کہ ہسپتال کے ٹھنڈے اور خون آلود فرش پر گر پڑی تھی۔


وہ سوجی آنکھوں اور اجڑے حلیے میں زمین پر بچھی چٹائی پر بیٹھی تھی۔ آج عید کا دن تھا مگر اس کے گھر کے مختصر سے صحن میں آج بھی صف ماتم بچھی تھی۔

" امی آپ بابا کو کہیں کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے، کپڑے جوتے چوڑیاں کچھ بھی نہیں۔ بس بابا واپس آ جائیں۔ آج عید ہے نا امی؟ آپ بابا کو گھر لے آئیں نا امی!" علینہ ماں سے لپٹ کر ہچکیاں لے رہی تھی۔

عافیہ کی آنکھوں سے پھر سے برسات جاری ہو گئی تھی۔

کتنی رنگین عید اتری تھی اس کے آنگن میں؟ لال سرخ!خونی لال عید۔ اس رنگ نے اس کی زندگی کی باقی ماندہ دنوں اور عیدوں کو بے رنگ کر دیا تھا۔وہ علینہ کو خود سے لپٹا کر ایک بار پھر سے رونے لگی۔


نجانے علینہ جیسے کتنے ہی معصوم پھول باپ کے شفیق سائے سے محروم کر کہ یتیمی کی دھوپ میں کھڑے کر دیئے گئے؟ کتنی ہی عافیاؤں کے سہاگ اجڑے؟ کتنے گھروں کے واحد کمانے والے کفیل اس بارودی دہشت کی بھینٹ چڑھ گئے؟ ایسے گھروں میں ایک فرد کی موت اپنے پیچھے پورے خاندان کو موت کے دہانے پر کھڑا کر دیتی ہے۔

اس بار پھر سے عید خون کے رنگ میں رنگی گئی ہے۔ ہلال عید خون کی سرخی لیے کربلا کے رنگ میں طلوع ہونے والا ہے۔

اے مالک! اے میرے پروردگار! جو چلے گئے ان کی مغفرت اور لواحقین کو صبر عطا کر دے۔ مولا کوئی ایسا "کن" کہہ دے کہ میرے دیس میں آنے والی ہر عید اور طلوع ہونے والا ہر دن امن اور محبت کی روشنی لے کر آئے۔ کوئی چاند خون کی لالی میں لپٹا نہ طلوع ہو۔

اب رحم کر دے مالک، رحم!