اور اب آن لائن عید……!! - افشاں نوید

بڑی اہمیت تھی ہماری زندگی میں اس عید کارڈ کی جو ماموں جان ہر سال عید پر راولپنڈی سے امی کے نام بھیجا کرتے تھے۔ ہر سال دو سطروں پر مشتمل ایک سادہ سی عبارت کہ…… قدسیہ تمہیں اور اہل خانہ کو ہم سب کی طرف سے عید مبارک فقط والسلام تمہارا بھائی فہیم…… یہ اٹھارہ لفظی عبارت جس میں بظاہر کوئی جذبات اور احساسات امڈتے ہوئے نظر نہیں آرہے نہ دل و دماغ کو متاثر کرنے والا کوئی پیغام۔ مگر امی جان کے لیے اس پوسٹ کارڈ کی کیا اہمیت ہوتی تھی جس پر یہ عید کا پیغام درج ہوتا تھا کہ آخری عشرہ رمضان کا شروع ہوتا تھا اور ان کی نظریں دروازے پر لگ جاتی تھیں کہ ڈاکیا آیا ہو گا……!! اور 27 رمضان کے بعد وہ بے چین ہو جاتیں کہ چھوٹے بھائی کا عید کارڈ اب تک کیوں نہیں آیا؟ ایک بہن کے لیے یہ کتنی بڑی بات ہے کہ اس کے بھائی نے میلوں دور بیٹھ کر خوشی کے اس موقع پر نہ صرف اسے یاد کیا بلکہ اپنے جذبات کا اظہار بھی ضروری سمجھا…… وہ عید کارڈوں کی دنیا تھی۔ نہ صرف اسے یاد کیا بلکہ اپنے جذبات کا اظہار بھی ضروری سمجھا۔ سال بھر کے روٹھے ہوئے ایک دوسرے کو منا لیتے تھے۔ محکمۂ ڈاک عید پر پوسٹ کارڈ جاری کرتا تھا۔ یوں ’’عید مبارک‘‘ کا تبادلہ اور کم خرچ ہوجاتا تھا۔ گلی، محلوں، چوک چوراہوں پر عید کارڈوں کی بہار ہوتی۔ جو خریدنے کا حوصلہ نہ بھی رکھتے تھے وہ بچے اور نوجوان بھی دل بہلانے کے لیے عید کارڈوں کی زیارت کو ضرور جاتے۔ اسکولوں، کالجوں میں پڑھنے والے نوجوان ہر طرح کی دکانوں کے آگے عید کارڈ کے اسٹال لگا لیتے جس کے لیے ایک یا دو میزیں درکار ہوتیں اور تار میں جھولتا ہوا ایک روشن بلب۔ محلے بھر کے بچوں کے لیے وہ عید کارڈز کے اسٹالز بڑی توجہ کا مرکز ہوتے……! ہم نے بھی سینکڑوں عید کارڈ اپنی بچپن کی سہیلیوں کو بدست اور بذریعہ ڈاک ارسال کیے۔ اسکول میں ہماری امور خانہ داری کی ٹیچر گھر پر عید کارڈ بنانے کے ایسے طریقے سکھاتیں کہ بازار سے بھی اچھے کارڈ ذراسی محنت سے کم خرچ بالا نشین گھر پر تیار۔ بس اس کے لیے سادہ مختلف رنگوں کی شیٹس، مارکر اور ربن وغیرہ درکار ہوتے۔ وہ کارڈ سلیقہ مندی کے بھی عکاس سمجھے جاتے تھے۔ اور ہماری عید کی سرگرمیوں کا ایک بڑا دلچسپ عنوان۔

سوچیے آج سے تین یا چار دہائی قبل آپ عید کا انتظار کیوں کرتے تھے؟ شاید آج کی نسل سوچ بھی نہ پائے کہ اس وقت کے بچے عید کا انتظار کیوں کرتے تھے۔ اس لیے کہ اس وقت نئے کپڑے اور جوتے بس عید پر ہی آتے تھے۔ اور عید کا جوڑا ’’ہماری زندگیوں میں بہت اہمیت رکھتا تھا اس لیے کہ سال بھر کی تقریبات میں ہمیں عید اور بقر عید کے کپڑے ہی پہننا ہوتے تھے، سال کے دوران کپڑے بنانے کا نہ رواج تھا نہ ضرورت۔ دوسرے یہ کہ عید پر ایک ذاتی اکاؤنٹ تشکیل پاتا تھا۔ جو بڑے فخر اور اعزاز کی بات ہوتی تھی۔ اتنی بڑی رقم سال میں ایک بار ہی ذاتی ملکیت بنتی تھی جو شاید ہی کبھی تین کے فیگر (یعنی سینکڑوں) تک پہنچ پائی ہو۔ کیوں کہ سب سے بڑی عیدی ماموں دیتے تھے جو دس روپے پر مشتمل ہوتی تھی۔ اڑوس پڑوس کی خالائیں اور دور کے رشتہ دار تو بڑی بہن یا بھائی کے ہاتھ میں دس یا بیس روپے دے کر کہہ دیتے تھے کہ تم سب بہن بھائیوں کی عیدی۔ عیدی کتنی جمع ہوتی ہے؟ یہ عید کا سب کا بڑا سوال ہوتا تھا……؟ وہ عیدی ایک خواب ہوتی تھی جو ملنے کی امید ہوتی تھی۔ پھر بار بار پیسہ پیسہ جوڑ کر اہتمام سے کسی بٹوے میں رکھ کر اس کو مدفون خزانہ بنانے کی خواہش ہوتی کہ کسی دوسرے کے ہاتھ لگ گئے یہ پیسے تو کیا ہو گا۔ سب ہی اپنی عیدی کی حفاظت جان سے زیادہ کرتے۔ اور کسی کے ذہن میں عیدی خرچ کرنے کا تصور نہ ہوتا کہ ایک ہی شام میں کسی پیزا پوائنٹ یا جنک فوڈ سینٹر سے خریداری پر اڑا دی جائے گی بلکہ اکثر و بیشتر وہ عیدی بطور قرض حسنہ گھر کے کسی کام میں ہی استعمال ہو جاتی جو بچے رضا کارانہ پیش کر دیتے۔ گھر کے لڑکے بھی اپنا کوئی پیسہ امی جان سے پوچھے بنا خرچ کریں گے اس کا کوئی تصور نہ تھا…… نہ کھانے پینے کے لمبے چوڑے سلسلے تھے۔ وہ عیدیاں اپنی ضرورت کی اشیا خریدنے، دوستوں سہیلیوں کو تحفے تحائف دینے کے کام آتی تھیں۔

کوئی صدیوں پرانی باتیں بھی نہیں۔ مگر سب کچھ بالکل ہی بدل گیا۔ اگر چالیس برس قبل ماموں جان کو پتا ہوتا کہ ٹچ اسکرین پر ایک ٹچ سے سب کچھ ہو سکتا ہے تو کیوں وہ کسی دن دور سے جا کر پوسٹ کارڈ خرید کر لاتے…… گھر آکر لکھتے پھر ٹکٹ لگا کر دوبارہ پوسٹ آفس جا کر حوالۂ ڈاک کرتے…… پھر دن گنتے کہ آج تک تو مل جانا چاہیے۔ پھر فون کر کے پوچھتے اور نہ ملنے کی افسوسناک اطلاع پا کر دوبارہ پوسٹ آفس جاتے اور معلوم کرتے کہ اس تاریخ کا ارسال کردہ اس تاریخ تک موصول کیوں نہیں ہوا……؟؟

کیسی عذاب تھی زندگی۔ اب کون تصور کرسکتا ہے اس زندگی کی طرف پلٹنے کا……! اب تو نہلا دھلا کر نئے کپڑے موبائل فون کو پہنانا چاہئیں، عطر لگانا چاہیے عید پر گلے اس کو لگانا اس سے معانقہ کرنا چاہیے کہ اب عید اسی کے سنگ گزارنا ہے۔ رمضان بھی اسی کے ساتھ گزارنے ہیں۔ ایک دوسرے کو لمبی لمبی تذکیری تحریریں فارورڈ کرتے قرآن و حدیث کی نصیحت آموز باتیں ارسال کرتے کرتے مہینہ گزر گیا۔

ہم ایسے ’’آن لائن‘‘ ہوئے کہ اپنی لائن سے ہی بچھڑ گئے۔ اب تو خریداری بھی آن لائن ہے منٹوں میں درجنوں بازاروں کا چکر لگا لیجیے جو پسند آئے حکم کیجیے آپ کے دروازے پر حاضر۔ کس نے کیسے کپڑے بنائے ہیں پہن کر جانے کی ضرورت ہی نہیں، آپ کا لباس کیسا ہے ملک اور بیرون ملک آپ کے عزیزوں اور دوستوں کو لمحوں میں تصاویر کے ذریعے پتا چل چکا ہے۔ رنگ اور ڈیزائن نہیں اصل اہمیت اس لباس کے برانڈ اور قیمت کی ہے۔ خواتین جیولری، میک اپ سب کچھ دھڑا دھڑ آن لائن خرید رہی ہیں، بلکہ مرد حضرات بھی ان سے پیچھے نہیں۔ وہ الیکٹرانکس کی اشیا ہوں یا گارمنٹس حتیٰ کہ مہینہ کا راشن بھی اب آن لائن ہی گھر کے دروازے تک آنے لگا ہے۔

عید کارڈ نہ چھاپ کر پریس مالکان کا جو بھی نقصان ہو مگر ان گنت ویب سائٹس پر ایک کلک کے ذریعے آپ سینکڑوں طرح کے عید کارڈ اور عید پیغامات میں سے جو چاہیں منتخب کریں اور جس کو چاہیں بھیجیں۔ آپ کو سینکڑوں عید مبارک کے پیغامات موصول ہوتے ہیں اپنے موبائل پر آپ جو موصول کنندہ ہیں بخوبی جانتے ہیں کہ یہی پیغام اور درجنوں لوگوں کو بھی منتقل کیا گیا ہے۔ آپ کے پاس بھی ویسا ہی ایک رنگ برنگا بلکہ متحرک پیغام ہے جو آپ اپنی ٹچ اسکرین کے ذریعے سینکڑوں لوگوں کو منتقل کریں گے۔ عید کی صبح کی تیاری سے دن کے اختتام تک ہر ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ ہر لمحے کو اپنے کیمرے میں نہ صرف محفوظ رکھے بلکہ اسے وسیع حلقے میں شیئر کیا جائے۔ اب سارا دن سب لوگ عید اپنے موبائل کے ساتھ منانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جو آپ سے عید ملنے آیا ہے یا آپ جس کے گھر گئے ہیں آپ اس کی نظر التفات کے منتظر ہی رہتے ہیں اس لیے کہ ہر ایک کی مکمل توجہ اپنے اسکرین پر ہوتی ہے جس کو بار بار ٹچ کرنے سے خوشیاں امڈ امڈ کر یوں آپ کو اپنے حصار میں لے لیتی ہیں کہ آپ حاضر و موجود سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ عید کے دن کی ہزاروں خوشیاں ہیں ہزاروں پیغامات، بے شمار رنگ جو اس اسکرین کی دنیا تک محدود ہیں۔ ہمیں رشتہ داروں کے ہاں جانا دوبھر لگتا ہے اور کوئی آجائے تو اس سے زیادہ دوبھر۔ ہم سامنے بیٹھے فرد سے نظریں چراتے ہیں اور اپنے ٹچ اسکرین پر نظریں گاڑے رہتے ہیں۔ جہاں خود ستائی بھی ہے اور خود نمائی بھی۔ مثلاً اگر آپ کو عید پرڈنر شہر کے کسی مشہور ریسٹورینٹ میں کرنا ہے تو کیا ضرورت ہے اس کی تشہیر کی اور وہاں بیٹھ کر میز پر موجود لوازمات کی تصاویر شیئر کرنے کی……!

ہاں ایک اور قدر جو سماج میں بدلی ہے اس تہوار کے موقع پر کہ پہلے عید ایک دوسرے کے گھر آنے جانے کا نام تھی۔ اب لوگ سوچتے ہیں کہ عید کے ایام میں ڈنر کہاں کیا جائے اور آپ شہر بھر کے چھوٹے بڑے ریسٹورینٹس کا سروے کریں تو اندازہ ہوگا۔ یوں لگتا ہے کہ آج گھروں میں چولہے ہی نہیں جلے، عوام کے جم غفیر گھنٹوں ان جگہوں پر محض کھانے کے لیے اپنے آرڈر کی وصولی کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں جب کہ عید کے دن یہی وقت اہلِ خانہ اور بزرگوں، بیماروں اور پڑوسیوں کو دیا جاسکتا تھا۔ اس وقت یہ سوال اہم نہیں ہے کہ آپ کس سے ملے بلکہ اہمیت یہ سوال اختیار کرگیا ہے کہ آپ نے کیا کھایا اور کہاں کھایا…… اللہ نے آپ کو خوش حالی نصیب کی ہے تو ضرور اچھا کھائیں اور پیئں مگر قرآن کلو و اشربو کے ساتھ والا تفسدو فی الارض کا حکم بھی دیتا ہے۔ آپ کی یہ خود نمائی کہیں کسی کی دل آزاری کا باعث نہ بن جائے۔ کہیں کسی کو احساس محرومی میں مبتلا نہ کردے اس کا دھیان رہے تو اچھا ہے……!

سماجی رابطوں کی اس دنیا میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ عید مناتے، ان کی تصاویر سے لطف اندوز ہوتے اپنے کمنٹس لکھتے، اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ذرا سا خیال اس بات کا رہے کہ یہ بڑھتے ہوئے سماجی رابطے کہیں حقیقی رشتوں میں تو دراڑیں ڈالنے کا سبب نہیں بن رہے۔ سنیے سماجی رابطوں کی اس دنیا سے ذرا پرے آپ کے کچھ اپنے بھی آپ کی راہ دیکھ رہے ہیں، آپ سے رابطے کے منتظر ہیں…… اور رمضان تو آیا ہی اس لیے تھا کہ کچھ وقت کھانے پینے کی فکروں سے آزاد ہوں تو محسوسات کی نئی دنیا میں داخل ہو سکیں۔ بھوک بہت سے حجاب ہٹا دیتی ہے، کچھ نیا سوچنا سکھاتی ہے، رمضان تو خود ایک احساس کا نام ہے جو تمہیں حساس بنانے آیا تھا کہ اپنے اطراف کی دنیا کے لوگوں کے غموں کو محسوس کرنا سیکھو اسی لیے عید کی نماز سے قبل فطرے کی ادائی لازم تھی کہ اس کے بندوں کے حقوق مقدم رہیں۔

اس حساس بنانے والے رمضان نے اس عید پر کیا نیا احساس دیا ہے آپ کو……! ہلالِ عید آپ سے سوال کر رہا ہے۔