سانحہ احمد پور شرقیہ، ایک سوال ایک سبق - بشارت حمید

عید الفطر سے ایک دن پہلے آخری روزے کو پیش آنے والے حادثے نے قوم کو بہت افسردہ کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کی خطاوں سے درگزر فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے۔ اس سانحے کا تجزیہ کیا جائے تو اخلاقی تباہی ہی اصل وجہ نظر آتی ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ اس قوم کی اخلاقی تربیت ہی نہیں ہو سکی۔ ہمارا مقصد اب یہ ہی رہ گیا ہے کہ دوسروں کے مال کو جب موقع ملے لوٹ لو۔ ہر بندہ حکومتی عہدیداروں کو کوستا ہے کہ وہ ملک لوٹ کر کھا گئے لیکن جتنا جہاں کسی کا بس چلتا ہے کم کوئی بھی نہیں۔

بہت سے احباب غربت کو اس کا سبب قرار دیتے ہیں لیکن میرے خیال میں یہ رائے درست نہیں ہے۔ غریب ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہر غریب چوری کرنا جائز سمجھ لے۔ بہت سے غریب بےانتہا ایماندار بھی ہیں۔ مسئلہ ہمارے معاشرے میں مجموعی اخلاقی زوال اور تباہی کا ہے۔ پھر ہمارے لوگ ایک واقعہ سے سبق نہیں سیکھتے۔

مجھے کئی سال پہلے بالکل اسی طرح کا حادثہ یاد آگیا جو شاید روڈو سلطان میں پیش آیا تھا وہاں بھی بہت سے لوگ بہتے ہوئے پٹرول کو اکٹھا کرتے ہوئے آگ لگنے سے جاں بحق ہوئے تھے۔ لیکن ہم اگلی بار پھر بھول جاتے ہیں

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اللہ کے بندو تیل کا ٹینکر الٹ کر بہہ گیا ہے تو کیا اب اس پر لوٹ مچانا حلال ہو گیا ہے کہ گھر سے برتن لا لا کر اکٹھا کرنے لگ جاو۔ یہ تو سوچو کہ اگر اکٹھا کر بھی لو گے تو زیادہ سے زیادہ کتنا؟ 2 لٹر 4 چار لٹر ۔۔۔۔ کتنے کا ہو گا 200 کا یا 300 کا۔۔۔۔۔۔؟

کیا یہ چوری کرنا جائز ہے۔؟ کس نے حق دیا کسی کے مال سے چرانے کا چاہے وہ ضائع ہی ہو رہا ہو؟

اگر ہم یہ بات ذہنوں میں بٹھا لیں کہ دوسرے کے مال میں میرا کوئی حق نہیں ہے نہ اخلاقی لحاظ سے اور نہ دینی لحاظ سے تو اس جیسے سانحات جنم ہی نہ لیں۔ لیکن اس بدقسمت قوم کو لیڈر ہی چور ملے تو دیکھا دیکھی قوم بھی اسی راستے پر ہے کہ جو کچھ جہاں سے لوٹ سکتے ہیں لوٹ لیں۔

چند ماہ پہلے لاہور میں کولڈ ڈرنکس کی بھری گاڑی الٹ گئی تو اردگرد کے لوگ گھروں سے بھاگے بھاگے آئے اور بوتلوں کے کریٹ لوٹنے لگے۔ یہ کونسی اخلاقیات ہیں کہ کسی کا مال اس طرح لوٹا جائے۔ ایک تو پہلے اس مالک کا نقصان ہوا کہ گاڑی الٹ گئی اوپر سے لوگ اسکی مدد کرنے کی بجائے بچ جانے والی بوتلیں لوٹ کر لے گئے۔ افسوس صد افسوس۔

پھر عوام الناس کو اتنا شعور بھی نہیں ہے کہ تیل آگ کے سلسلے میں بہت حساس ہوتا ہے اس کو آگ لگ سکتی ہے اس کے قریب بھی نہ جائیں۔ کون اس ہجوم کی تربیت کرے گا۔ ہر نان ایشو پر بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والا سو کالڈ آزاد میڈیا یہ ذمہ داری کیوں نہیں لیتا؟

اس طرح کے تربیتی پروگرام تیار کرکے نشر کیوں نہیں کیے جاتے کہ جس سے لوگوں میں حقیقی شعور پیدا کیا جائے؟

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم میں سے ہر بندہ اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے اس ہجوم کو ایک قوم بنانے میں اور اسے کم سے کم انسانیت کا شعور دینے میں اپنا اپنا کردار ادا کرے۔

ٹی وی پر مختلف شعبوں کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جا سکتی ہے،اسی طرح اخبارات سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر ہر بندہ جو حصہ ڈال سکتا ہے وہ ڈالے اور اپنے مشاہدات کی بنیاد پر لوگوں کو شعور دینے کی کوشش کرے۔ شاید کہ کبھی ہم ایک سمجھدار قوم بن ہی جائیں۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.