اِنعام والی رات - صبور فاطمہ

شوّال کا چاند نظر آنے کے بعد جسے برصغیر پاک و ہند میں چاند رات کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، درحقیقت وہ ’’لیلۃ الجائزہ‘‘ کہلاتی ہے۔ جائزہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’’انعام و اکرام ‘‘کے ہیں۔اس اعتبار سے اس رات کے معنیٰ ’’انعام و اکرام والی رات ‘‘کے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس نوعیت کے انعام و اکرام؟ تو حدیثِ مبارکہ میں ارشاد ہواہے کہ: ’’روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔‘‘

جس طرح مزدور کو کام مکمل ہونے پر اُجرت دی جاتی ہے اور وہ مزدوری لینے کے لیے حاضر بھی ہوتا ہے،با لکل اسی طرح سے لیلۃ الجائزہ ان مسلمانوں کے لیے جنہوں نے رمضان کو ایمان اور احتساب کے ساتھ گزارنے کے علاوہ گناہوں سے بھی اپنے آپ کو بچایا تو ان لوگوں کے لیے ’’ لیلۃ الجائزہ، لیلۃالفطر،چاند رات ‘‘اچھے اعمال کا معاوضہ، اجر، انعام، بخشش، مغفرت اوررضائے الٰہی ملنے کی رات ہے اور جب اجر دینے کی ذاتِ مبارکہ اللہ تعالیٰ کی ہو تو پھر کیا کہنے،جس کا ایک اظہار خود قرآنِ پاک کی آیت سے ہوتا ہے۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے:

وَ اللہ ُ يرْزُقُ مَنْ يَّشَآء ُ بِغَیْرِ حِسَابِِ ترجمہ: اور اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرما تا ہے۔ (سورۃ البقرۃ،آیت۲۱۲)

رزق کا مطلب صرف کھانے پینے تک ہی محدود نہیں بلکہ اس سے مراد اللہ تعالٰی کی ہر نعمت ہے۔ لیلۃ الجائزہ کے حوالے سے کئی احادیث ملتی ہیں جو اس رات کی فضیلت وبرکات کے حوالے سے ثبوت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جیسے: عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ رَضی ِ اللہ ُ عَنْہ عَنِ النَّبِیِّﷺقَالَ مَنْ قَامَ لَیْلَتَی الْعِیْدَیْنِ مُحْتَسِباً لَمْ يَمُتْ قَلْبَہ يَوْمَ تَمُوْتُ الْقُلُوبُ (رواہ ابن ماجہ) ترجمہ: حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرما یاجس شخص نے دونوں عیدوں (عید الفطر اور عید الا ضحی) کی راتوں کو ثواب کا یقین رکھتے ہوئے زندہ رکھا تو اس کا دل اس دن نہ مرے گا جس دن لوگوں کے دل مردہ ہو جائیں گے۔‘‘

۲) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَل رَضی ِ اللہ ُ عَنْہ عَنِ النَّبِیِّﷺقَالَ رَسُوْل اللہ ﷺ مَنْ اَحْیاَ اللَّيَالی ِ الْخَمْسَ وَجَبَتْ لَہ الْجَنَّۃ لَیلَۃ َ التَّزْوِیَۃِ وَ لَیْلَۃ َ عَرَفَۃَ وَ وَلَیْلَۃَالنَّحْرِوَ لَیْلَۃَ الفِطْرِ وَلَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ (رواہ الاصبہانی) ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرما یا:جس شخص نے (ذکرو عبادت کے ذریعہ) پانچ راتیں زندہ رکھیں، اس کے لیے جنّت واجب ہو گئی ( وہ پانچ یہ ہیں) آٹھ ذوالحجہ کی رات، عرفہ کی رات، بقر عید کی رات، عید الفطر کی رات اورپندرہویں شعبان کی رات۔

۳) قال عبد الرزاق و اَخبرنی من سمع البیلمانی یحدث عن ابیہ عن عمر قال :خمس لیال لا ترد فیھن الدعاء لیلۃ الجمعہ و اؤل لیلۃمن رجب و لیلۃالنصف من شعبان ولیلتی العیدین (مصنف عبد الرزاق 4/317ومن طریقۃ البیقھی فی الشعب3/342وفضائل الاؤقات) ترجمہ ومفہوم: پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتی 1)جمعہ کی رات یعنی جمعرات2)رجب کی پہلی رات 3)شعبان کی پندرہویں شب4) عید الفطرکی رات (چاند رات)5)عید الا ضحیٰ کی رات۔

۴)قال الشافعی: وبلغنا أنّہ کان یقال : اِن الدعا ء یستجاب فی خمس لیال : فی لیلۃ الجمعۃ، ولیلۃ ا لأضحی، ولیلۃ الفطر،واؤل لیلۃ من رجب،ولیلۃ النصف من شعبان ( فی الأم للامام الشافعی 1/384) ترجمہ و مفہوم: پانچ راتوں میں دعا ئیں قبول ہوتی ہیں:۱)جمعہ کی رات یعنی جمعرات۲) ۱۰ ذوالحجہ کی رات۳) عید الفطر کی رات (چاند رات)۴) رجب کی پہلی رات۵) شعبان کی پندررہوں شب

اگر ہم اس مقدس رات کو گزارنے کے حوالے سے اپنے معاشرے کے عمومی رویہ کا جائزہ لیں تو اس رات کوبازاروں میں گھومنے پھرنے اور خریداری کرنے کی ایسی تہذیب بنالیا ہے جو سراسر لہو لعب ہے۔جبکہ بازاروں کے متعلق حدیثِ مبارکہ ہے کہ: أحَبُّ الْبِلَادِ اِلٰی اللہ ِ مَسا جِدُھَا وَأَبْغَضُ الْبِلَادِ اِلٰی اللہ ِ أَسْوَقُھَا (باب المساجد ومواضع الصلوۃ، مشکٰوۃ المصابیح) ترجمہ: ’’اللہ کے نزدیک محبوب ترین جگہ شہروں میں ان کی مسجدیں ہیں اور اللہ کے نزدیک شہروں کی بد ترین جگہ ان کے بازار ہیں۔‘‘

تو وہ اجر جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مزدوروں(مسلمانوں) میں تقسیم کیا جارہا ہے اس کو حاصل کرنے کے لیے مزدوراجرت لینے جھولی پھیلائے مصلّے پر موجود ہی نہ ہو تو پھروہ کیسے اجر حاصل کرے گا؟

ان تمام تر احادیث سے اس رات کو عبادت (رمضان کی روح کو برقرار رکھنے )کی تاکید کے ساتھ ساتھ لغویات سے گریز کرنے کی ہدایت ہے۔ رات کو زندہ کرنے سے مراد آخرت کے لیے اس رات کو گواہ بناناہے تاکہ جب تمام انسانوں کے قلوب نفسی نفسی کہہ رہے ہوں گے تو اس کا دل اللہ کی رحمت سے آباد ہوگا۔ نصرانیوں کی عید منا نے کا الگ پسِ منظر ہے،ہندووں کی عید منانے کا الگ پسِ منظر ہے گو کہ ہر مذہب کی عید و تہوار کا الگ پسِ منظر ہے جس کی بنیاد پر اس مذہب کے پیرو کار خوشی مناتے ہیں۔ لیکن عام طور سے مسلمانوں میں لیلۃ الجائزہ کے حوالے جورویہ سامنے آتا ہے وہ روزوں سے پیدا ہونے والی روح سے با لکل متصادم ہے جو خدانخواستہ اس محنت، اجر، تربیت کے حصول کو یکلخت گنواں دینے والا رویہ ہے۔جیسا کہ ارشادِ باری تعا لٰی ہے کہ: وَلَا تَکُوْنُوْ ا کَالَّتِی نَقَضَتْ غَزْ لَھَا مِنْ بَعْدِ قُوَّۃِِِِ اَنْکَاثََا ترجمہ: اور اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے سوت کاتا پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ (سورۃ النحل،آیت:۹۲)

رمضان کا مہینہ مسلمانوں کی تربیت اور مزدوری کا مہینہ ہے اور لیلۃ الجائزہ مزدوری ملنے کی رات۔ لہٰذاسب کو اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم لیلۃ الجائزہ،لیلۃ الفطر،اپنے تہوار کو صبغۃ اللہ کے رنگ میں منارہے ہیں یااپنی اس محنت کو جس پر انعام واجر ہے اس کوضائع کرہے ہیں۔ ضروری ہے کہ مسلمان عید گزارنے کے تصور کو از سر نو تازہ کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ لیلۃ الجائزہ کے قیام کے ساتھ ہماری مہینہ بھر کی مزدوری کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں۔ آمین!