سانحہ بہاولپور، ذمہ دار کون؟ زبیر منصوری

اور جب کھیت میں جلی ہوئی انسانی لاشوں کا ڈھیر لگ گیا
انسانی جسموں کے جلنے کی بو نے پورے ماحول کو اپنی گرفت میں لے لیا،
آخر انہوں نے جرم ہی کیا کیا تھا؟
وہی نا جو سارے بڑے کر رہے ہیں؟
یہ بیچارے تو بس چند لیٹر پٹرول کے لیے ہی دوڑے تھے نا؟
وہ بھی یوں کہ چلو فصل بیچ کر خریدی گئی بائیک پر عید اچھی گزر جائے گی۔
بچوں کو نانی سے ملوا لاؤں گا
جھولے دلوا لاؤں گا!

آہ اصل ذمہ دار کون؟
یہ سسٹم جو اشرف المخلوقات کو بنیادی انسانی وقار اور اقدار بھی نہیں سکھاتا۔
جو وسائل کے ہوتے ہوئے بھی انھیں جان بوجھ کر اس حال میں رکھتا ہے تا کہ یہ روٹی کے ٹکڑوں اور پٹرول کے ایک لیٹر کی دوڑ سے آگے نہ سوچ سکیں، اور جب حاکم نادرا کارڈ اور بےنظیر سپورٹ پروگرام کے تحت انھیں جانوروں کی طرح بنکوں کےے باہر کھڑا رکھ کر چند سکے اچھالیں تو یہ احسان مند ہو کر ووٹ جیسی بےکار سی چیز ان کے ڈبے میں ڈال دیں۔

ذمہ دار ہیں وہ قوتیں جو ان مظلوموں کی حالت اور ذہنی سطح کو سامنے رکھ کر ان کو شعور فراہم کرنے کا پلان نہیں رکھتیں، معیاری تعلیمی ادارے نہیں بناتیں، دیہاتی اسٹیج تھییٹر، کوئی ڈرامہ، کوئی سوشل میڈیا کا استعمال کر کے انھیں احساس نہیں دلاتیں کہ سسٹم اور اس کے بڑے چوہدری دراصل اس عوام کے کمی اور مزارع ہیں۔

ذمہ دار وہ ہیں جو ان کے باشعور نوجوانوں کو روٹی کی تلاش میں علاقہ چھوڑ دینے یا پھر مراعات یافتہ کلاس سے اپنی قیمت لگوا کر چپ ہو رہنے کی تربیت کرتے ہیں۔

میرے نبی ص کے مظلوم مقتول امتیو!
کل جب آقا کے سامنے پیش ہو تو ان کو اپنے رستے زخم دکھانا، اپنے جلنے کی اذیت بتانا، مجھے یقین ہے آقا آبدیدہ ہو جائیں گے۔ تم انہیں بہت پیارے ہو۔ ان کو بتا دینا آقا ہمیں اس حال تک پہنچانے کے ذمہ دار ہمارے اسپتال کے برنس وارڈ کے پیسوں سے آپ کے مزار کی جالیوں کے بوسے لینے جاتے تھے۔ ان سے عرض کرنا آقا اگر ہدایت ان کے نصیب میں نہیں تو ان سے نجات ہمارے نصیب میں لکھوا دیجییے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا ریاست اپنے شہریوں کو مخصوص لباس کا پابند بنا سکتی ہے؟ حافظ محمد زبیر

تم نے اپنی منزل پا لی، جو ہر انسان کو پانی ہے۔
مجھے یقین ہے!
اللہ تمھارے ساتھ نرمی اور آسانی فرمائے گا۔

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • میرا خیال ہے عوام کو اس حادثے سے بری‌الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جو لوگ تیل لوٹنے آئے تھے اخلاقی ذمہ‌داریاں ان پر بھی ویسے ہی عائد ہوتی ہیں جیسے حکمرانوں پر۔ غربت بے‌ایمانی کی دلیل نہیں ہونی چاہیے۔
    حکومت اور فوج سے لے کر عوام اور صحافت تک، ہم سب اس سب کچھ کے ذمہ‌دار ہیں جو وطنِ عزیز میں ہو رہا ہے۔ جس کا جو کردار ہے وہ اسی سے حسبِ توفیق پہلو تہی کر رہا ہے۔ اللہ میری قوم پر رحم فرمائے۔