چاند کی بحث یوں بھی ہے - محمد زاہد صدیق مغل

چاند کی بحث میں ایک استدلال یہ کیا جا رہا ہے کہ چونکہ چاند کی پیدائش قمری ماہ کی 29 کو ہوتی ہے اور اگر 29 کو نظر نہ آئے تو پھر 30 کا مہینہ مکمل کیا جاتا ہے جبکہ فلکیات والوں کی رو سے آج 28 کو چاند پیدا ہو چکا تو معلوم ہوا کہ رمضان کی ابتداء میں ایک روزہ کھا لیا گیا۔ یہ استدلال اس مفروضے پر مبنی ہے کہ 28 کو چاند کی پیدائش نہیں ہو سکتی جو کہ غلط ہے، کیونکہ فلکیات والوں کی رو سے چاند کے قابل رؤیت ہونے کے لیے لگ بھگ 30 گھنٹے (یعنی ایک دن سے زیادہ) کی عمر درکار ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے 29 کا مہینہ تب ہی ممکن ہے جب چاند کی پیدائش 28 کو ہو۔ دلچسپ صورت حال یہ پیش آئی کہ گزرے کل کو پوپلزئی صاحب کے گواہوں نے 12 گھنٹے کا چاند بھی خوردبین لگا کر دیکھ لیا۔

دراصل چاند کے معاملے میں زیادہ تر اختلاف رؤیت کے قابل اعتبار ہونے کے مختلف معیارات و فارمولے کی وجہ سے ہے۔ مثلا ایک فارمولا یہ ہے کہ چاند کی پیدائش کے بعد اس کی عمر اور مطلع پر اس کی ڈگری کو نظر انداز کیا جائے، پیدائش کے بعد اگر مستور الحال شخص کی گواہی بھی میسر آگئی تو رؤیت کو معتبر مان لیا جائے گا۔ بعض ملک والوں نے اسی طرح کے فارمولے بنا کر عملا کیلنڈر کو فکس کر رکھا ہے کہ چاند کی پیدائش کے بعد جب اس کی عمر ایک خاص حد سے زیادہ ہوگی تو یہی رؤیت ہے (بعض ممالک والے اس معاملے میں سرکاری طور پر غلط بیانی سے بھی کام لیتے ہیں، یعنی عمل فارمولے پر کرتے ہیں مگر بتاتے رؤیت کا ہیں)۔ بہت سے ممالک (مثلا افغاستان و یورپی ممالک وغیرہ) اس معاملے میں نہ کسی حساب کتاب میں پڑتے ہیں اور نہ ہی رؤیت کے، وہ سیدھا سیدھا سعودی عرب کو دیکھ کر اعلان کر دیتے ہیں (یہ بھی ایک فارمولا ہی ہے)۔ بعض ممالک (مثلا پاکستان) میں چاند کی پیدائش، اس کی عمر اور مطلع پر اس کی ڈگری کے حساب کتاب وغیرہ کے ساتھ ساتھ شرعی رؤیت کو بھی مدار مانا جاتا ہے۔

اب ہوتا یہ ہے کہ بہت سے ممالک تو اپنے فارمولے کے مطابق سعودی عرب کو دیکھ کر ہی اعلان کر دیتے ہیں، انھیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ سعودی عرب کا فارمولہ فقہی لحاظ سے درست بھی ہے یا نہیں، (بہت سی مرتبہ ایسا ہوا کہ سعودی عرب کا اعلان ٹیکنیکلی غلط تھا)۔ کچھ ممالک والے اپنے کسی فارمولے کی رو سے اعلان کر دیتے ہیں جو پاکستان کے اختیار کردہ فارمولے سے مختلف ہوتا ہے، یا ہمارے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ یوں شور مچ جاتا ہے گویا ساری دنیا نے تو ”اپنی آنکھوں سے“ چاند دیکھ لیا ہے، بس مفتی منیب صاحب نے یا تو پاکستانیوں کے چاند پر پردہ ڈال دیا ہے اور یا پھر ان کی آنکھوں پر۔

بھائی یہ چاند کا رولا کوئی پچھلے دس پندرہ سال سے ہر سال میں دو سے تین مرتبہ پڑتا ہے۔ آج تک ایسا نہیں ہوا کہ مجھے (یا میرے کسی معتبر جاننے والے کو) کوئی ایسا معتبر شخص ملا ہو جو یہ کہے کہ اس نے چاند دیکھا مگر مفتی منیب صاحب کی کمیٹی نے نہیں مانا۔ میں پچھلے چار سال سے فیس بک پر ہوں، میری فرینڈ شپ لسٹ میں تقریبا ہر صوبے و علاقے کے لوگ موجود ہیں، آج تک ایسا نہیں ہوا کہ ان میں سے میرے جاننے والے کسی معتبر شخص نے یہ گواہی دی ہو کہ اس نے خود چاند دیکھا۔ ہر مرتبہ تھرڈ پرسن والے مجہول گواہان ہی ہوتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے؟

گواہوں کی بحث ایک طرف، علمی طور پر اس امر کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جس علاقے سے چاند دیکھے جانے کی گواہیوں کا دعوی کیا جاتا ہے، وہاں کا مطلع پاکستان کے دیگر علاقوں کے مطلع سے کس قدر مختلف ہے؟ نیز کیا واقعی وہاں چاند دکھائی دیے جانے کا امکان دیگر علاقوں سے زیادہ ہوتا ہے؟ یہ ایک خالصتا علمی چیز ہے جس سے شاید مسئلے کو حل کرنے میں مدد مل سکے۔ کیونکہ اگر مطلع ایک جیسا ہے تو یہ نہیں مانا جا سکتا کہ ہر سال اسی مخصوص علاقے سے گواہیاں ملیں۔ ظاہر ہے یہ چاند کسی کے برآمدے میں تو طلوع نہیں ہوتا کہ ہر سال کچھ خاص لوگ ہی اسے دیکھ پائیں اور باقی سب کے ہاتھ میں صرف گواہوں کی لسٹ ہو، آخر آج بھی تو ان شاء اللہ سب اسے دیکھ سکیں گے۔

تجربہ یہ بتاتا ہے کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی اور پوپلزئی صاحب کے چاند کے اعلان میں ایک دن کا فرق ہوتا ہے۔ یہاں پوپلزئی صاحب ایک دن قبل چاند کا اعلان کرتے ہیں۔ اس صورت میں مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پر گویا ہر مرتبہ یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ابتدائے رمضان میں ایک روزہ ”کھا لیا“ گیا۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے تاخیری اعلان میں ہر سال یہ رسک موجود ہوتا ہے کہ اگر رمضان کا مہینہ واقعی پوپلزئی صاحب کے حساب کتاب سے شروع ہوا اور وہ فی الحقیقت 29 دنوں کا ہی ہو گیا تو پاکستان میں 28 رمضان کو چاند طلوع ہوجائے گا (دھیان رہے، پوپلزئی صاحب کے چاند میں یہ رسک موجود نہیں کیونکہ وہ ایک دن پہلے دیکھا جاتا ہے)۔

کیا پچھلے پندرہ سالوں میں کبھی ایسا ہوا کہ 28 رمضان کو چاند پاکستان کے بےشمار شہر کے باسیوں کے سامنے سینہ تانے آن کھڑا ہوا؟ کیا اس صورت میں بھلا مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے پاس غلطی مان لینے کے سوا کوئی صورت رہ جائے گی؟ آخر پندرہ سال میں کبھی ایسا کیوں نہیں ہوا، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ سعودی عرب میں اس کی مثالیں ملتی ہیں کہ ان کا سرکاری چاند غلط ثابت ہوا؟ آخر ہمارے یہاں ایسی کوئی مثال کیوں نہیں ہوتی؟ پوپلزئی صاحب کا 29 ویں اور مرکزی رؤیت ہلال کے 28 ویں رمضان کا چاند ہر بار پاکستانیوں سے شرما کیوں جاتا ہے؟

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • سلام
    جناب آپ ذرا اس "زمین ساکن ہے" پر بھی کچھ لکھ دیں۔۔۔
    اس کتاب میں سائنسی اور قرآن دونوں حوالے سے مواد موجود ہے
    FAUZ-E-MUBEEN
    DAR RADD-EHARKAT-
    E- ZAMEEN
    A FAIR SUCCESS
    REFUTING
    MOTION OF EARTH
    A’la Hazrat Imam Ahmad Reza Brailvi
    (Mercy of Allah be upon him)
    English Rendering
    Abdul Hamid Maiskar
    (M.A. Urdu-English)
    Co-operated By
    Muhammad Iqbal Noori
    Masjid Habibia Silani, Bareily (India)
    Published by
    Idara-e-tahqiqat-e-Imam-Ahmad Reza
    Reg. International, Karachi.
    http://www.imamahmadraza.net
    E-mail: mail@imamahmadraza.net