رؤیتِ ہلال، آخرمسئلہ کیا، حل کیا ہے؟ عاطف الیاس

ہر سال رمضان اور عیدین کے موقع پر ہمارے ہاں رؤیتِ ہلال اور ایک سے زیادہ عیدوں کا مسئلہ اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ بحث و مباحثہ ہوتا ہے، دلائل دیے جاتے ہیں، اور اپنی اپنی آرا کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ چیز مثبت بھی ہے لیکن اس دفعہ تو جبراَ منوانے کی روایت کا بھی آغاز ہوچکا ہے۔

بہرحال اس مسئلے کو آسان انداز میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:
1۔ ہجرتِ مدینہ سے ہجری کیلنڈر کا آغاز ہوتا ہے جو کئی صدیوں تک نہ صرف ماہ و سال کے آغاز و انجام بلکہ حج، رمضان اور عیدین جیسی عبادات کے لیے استعمال ہوتا رہا۔

2۔ امتِ مسلمہ کے زوال اور مغربی بالادستی سے شمسی کیلنڈر کا رواج پڑا جس کے بعد قمری کیلنڈر صرف حج، رمضان اور عیدین جیسی عبادات تک ہی محدود ہو کر رہ گیا۔

3۔ کیونکہ ان عبادات کا تعلق قمری کیلنڈر سے ہے، اس لیے مسئلہ بھی انھی مواقع پر ہوتا ہے، باقی سارا سال کہاں چاند نظر آیا، کہاں نہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

4۔ خصوصا رمضان کے آغاز اور عیدین کے لیے چونکہ رؤیتِ ہلال بنیادی شرعی شرائط میں سے ہے، اس لیے اسے نظر انداز کرنا بالکل بھی ممکن نہیں۔

5۔ یہی وجہ ہے کہ ان عبادات کو سائنسی اندازوں کی بنیاد پر بھی شروع یا ختم نہیں کیا جا سکتا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چاند کے دیکھے جانے پر روزہ رکھا اور چاند کے دیکھے جانے پر افطار(عید) کرو۔

6۔ اب مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ ہی میں ایسا ہوا کہ چند واقعات میں کچھ لوگ، مسافر اور بدو مدینہ میں باہر سے آئے اور انھوں نے اپنے مسلمان ہونے کی شہادت دے کر، کہیں دور چاند دیکھے جانے کی اطلاع دی۔ جس پر رسول اللہ ﷺ نے رمضان اور عید شروع ہونے کے اعلان کیا، بلکہ دو واقعات میں تو آپﷺ نے روزہ ختم کروا کر عید ہونے کا اعلان کیا.

7۔ پھر جب آنے والے ادوار میں اسلامی ریاست مشرق و مغرب کے طول و عرض میں پھیل گئی تو اطلاع پہنچنا اور پہنچنا مشکل تر ہوگیا۔ گویا ایک نئے مسئلے نے جنم لیا جس کے حل کے لیے اجتہاد کی ضرورت محسوس ہوئی۔

8۔ چنانچہ مجتہدین نے اس نئے مسئلے کو سامنے رکھ کر قرآن و سنت کی روشنی میں اجتہاد کیا۔ جس کے نتیجے میں دو اختلافی آرا سامنے آئیں۔ ایک وحدتِ مسئلہ کی اور دوسری اختلافِ مطلع کی.

9۔ پہلی رائے وحدتِ مطلع کی ہے، یعنی مشرق و مغرب کے لیے ایک ہی مطلع شمار کیا جائے گا اور جہاں تک خبر پہنچ جائے، وہاں تک ایک ہی رؤیت کی بنیاد پر رمضان اور عیدین شروع کیے جائیں گے۔ اس رائے کے دلائل میں وہ احادیث ہیں جن میں آپ ﷺ نے خبر پہنچ جانے کے بعد رمضان اور عیدین کا اعلان کیا۔
اس رائے کے صائب ہونے میں یہ چیز بڑی نمایاں ہے کہ اس پر عمل کرنے سے جغرافیائی حدود، فاصلوں اور طول و عرض کا کوئی مسئلہ نہیں رہتا۔ یہ اس ضمن میں سب سے زیادہ سادہ، آسان فہم اور مؤثر رائے ہے کہ جہاں تک خبر پہنچ جائے وہاں تک لوگ ایک ہی رؤیت کا اعتبار کریں اور جہاں خبر نہ پہنچ سکے، وہاں لوگ اپنی اپنی رویت پر انحصار کریں۔ اسلامی ریاستِ خلافت کی تاریخ میں اسی رائے کے مطابق عمل کیا جاتا رہا ہے۔

آج کے اس جدید دور میں جبکہ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے، اس رائے کے مطابق عمل کرنا تو بہت زیادہ آسان ہوچکا ہے. یعنی دنیا میں جہاں کہیں بھی چاند نظر آجائے تو اس کی خبر بجلی کی رفتار سے پوری دنیا تک پہنچائی جا سکتی ہے. بلکہ لاہور میں بیٹھ کر ملائشیا میں نظر آنے والے چاند کو لائیو دیکھا جاسکتا ہے. اور اس رؤیت پر انحصار کرتے ہوئے ساری امت کے لیے ایک ہی دن رمضان اور عیدین کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ گویا جدید دور کی سائنسی ترقی نے اس رائے پر عمل کرنا آسان ترین بنا دیا ہے جو آج سے پہلے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا۔ پھر سائنسی لحاظ سے بھی دنیا میں کہیں بھی چاند کی پیدائش اور اس کے نظر آجانے کے بعد اگلے چوبیس گھنٹے ایک ہی تاریخ میں شمار کیے جاسکتے ہیں۔ پھر آخری بات کہ اس رائے کے حق میں اتنے قوی شرعی دلائل موجود ہیں کہ انھیں رد کرنے کے لیے بھی حوصلہ چاہیے۔

10۔ دوسری رائے اختلافِ مطلع کی سامنے آتی ہے کہ ہر بستی، قریہ اور شہر کے لوگ اپنی اپنی رؤیت پر اعتبار کر کے رمضان اور عیدین کا آغاز کریں گے۔
اب اس رائے پر دو ہی صورتوں پر عمل ممکن ہے:
اول یہ کہ ہر شہر کے لوگ اپنی اپنی رؤیت پر اعتبار کریں، مثلا لاہور والے لاہور کی اور کراچی والے کراچی کی رؤیت پر انحصار کریں. جیسا کہ حضرت عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے، جس میں حضرت کریب نے شام سے مدینہ واپس آ کر سوال کیا تھا کہ کیا شام والوں کو چاند نظر آجانا ہمارے لیے حجت نہیں؟ جس کے جواب میں جناب ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: نہیں، ہمیں چاند دیکھ کر رمضان اور عید کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

دوم یہ کہ شمالا جنوبا اور مشرقا مغربا ایک مطلع کی حدود طے کرلی جائے، مثلا یہ کہ سو میل تک ایک مطلع ہوگا، پھر اس کے بعد دوسرا مطلع، علی ھذا القیاس. جیسے کہ امام شافعی رح نے کوشش بھی کی تھی لیکن یہ ناممکن حد تک پیچیدہ اور گنجلک ہے کیونکہ ہر شخص اگر اپنا مطلع پہلے پوائنٹ سے شروع کرے تو اس کے سو میل الگ ہوں گے اور دوسرے شخص کے سو میل علیحدہ، اسی لیے بعد میں آنے والے شافعی فقہا نے اس حل کو کمزور قرار دیا ہے۔

اب اگر اس رائے پر من و عن بھی عمل کیا جائے تو لاہور، کراچی، سکردو، گوادر، حب والوں کو اپنی اپنی رؤیت کے اعتبار سے رمضان اور عیدین کرنی چاہیے ورنہ تو اس رائے پر عمل محال ہے۔

اب اگر کوئی یہ کہے کہ اس رائے کا اطلاق ایک جغرافیائی حد یعنی ملک یا ریاست پر ہوگا تو پھر اسے یاد رکھنا چاہیے کہ مدینہ اور شام ایک ہی ملک کے دو صوبے تھے جیسے پنجاب اور سندھ، اگر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے پر من و عن عمل کرنا ہے تو پھر تو ایک ہی ملک کے اندر دو کیا چار چار عیدیں منائی جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اور مسجد قاسم خان والوں کو بھی آزادی دے دینی چاہیے کہ وہ اپنی رؤیت پر انحصار کریں۔ لیکن یہاں تو یہ حال ہے کہ آج مفتی پوپلزئی صاحب کو زبردستی ملک بدرکیا جا چکا ہے۔

پھر اگر کوئی یہ کہے کہ مدینہ اور شام کا درمیانی فاصلہ بہت زیادہ تھا تو یہ استدلال بھی بےجا اور بودا ہے کیونکہ سکردو اور کراچی کے درمیان اس سے بھی زیادہ فاصلہ ہے تو پھر ان دونوں جگہ پر ایک ہی رؤیت پر انحصار کیوں کیا جاتا ہے۔

اب اگر ایک شخص پھر بھی یہ کہے کہ نہیں، ہمیں آج کی نیشن سٹیٹ کے نظریے کے مطابق، ان جغرافیائی حد بندیوں کے مطابق جنھیں انسانوں نے کھینچا ہے، الگ الگ رؤیت پر انحصار کرنا چاہیے، مثلا واہگہ بارڈر سے اِدھر رؤیت پاکستانی ہو اور اُدھر ہندوستانی، چمن بارڈر پر اُدھر رؤیت افغانی ہو اور اِدھر ایرانی، اسی طرح عربی رؤیت، مشرقِ بعید کی رؤیت وغیرہ الگ الگ ہوں، تو یہ واضح طور پر ایک نئی تیسری رائے ہے، جسے آپ ”وطنی مطع“ کی رائے کہ سکتے ہیں۔
اب اس شخص کو لازما اپنی اس نئی ”اجتہادی“ رائے کے لیے دلیل قرآن و سنت سے دینی پڑے گی کہ کیا رؤیتِ ہلال کو انسانوں کی بنائی ہوئی حدود، جو چاہے چھوٹی ہوں یا بڑی، طویل ہوں یا عریض، کا پابند کیا جاسکتا ہے؟ جواب نفی میں ہے. امکان صرف دو ہی ہیں یا تو ہر علاقے کے لوگ اپنی رؤیت پر انحصار کریں یا مطلع کی حدود کا تعین کیا جائے. اور یہ دونوں آراء ہمارے ہاں موجود نہیں ہیں.
اگر ہاں تو پھر اس کے لیے شرعی دلیل کیا ہے کیونکہ یہ رائے جسے آپ تیسری رائے یا وطنی مطلع کی رائے کا نام دے سکتے ہیں، مندرجہ بالا دونوں آرا کے مطابق درست نہیں ہے۔ گویا یہ ایک نیا ”اجتہادؤ ہے جس کے لیے شرعی دلائل کی بجائے نیشن اسٹیٹ کی دلیل استعمال کی جائے گی۔ اسی لیے ایک پروگرام میں جب مفتی منیب الرحمن صاحب دلیل نہ دے سکے تھے تو انھوں نے غصے سے کہا تھا کہ ہمیں پھر ملکوں کی سرحدیں ختم کردینی چاہییں۔ گویا ان کے نزدیک انسانوں کی بنائی ہوئیں ملکی سرحدیں اس نئے ”اجتہاد“ کی بنیاد ہیں۔

اب ان تمام باتوں کو مدِنظر رکھ کر سوچیے کہ کس رائے پر عمل کرنا شرعی حکم کے عین مطابق، قابلِ عمل، وحدتِ امت کی علامت اور تمام مسائل کا حل ہے؟

Comments

عاطف الیاس

عاطف الیاس

عاطف الیاس ایک نجی کالج میں پڑھاتے ہیں. لکھنے پڑھنے، پھرنے پھرانے اور ٹریکنگ کے شوقین ہیں. عالم، فاضل یا دانشور جیسے الفاظ انھیں زیب نہیں دیتے اس لیے محض اپنی طالب علمانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں، لیکن بالیقین نظریاتی طور پر عالم اسلام اور تمام انسانیت کے مسائل کا حل اسلام کے عملی نفاز میں دیکھتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.