ایسا کیوں ہے؟ - محمد عرفان ندیم

وہ پچھلے ہفتے انتقال کر گیا۔ بڑا نیک انسان تھا، اللہ مغفرت کرے۔ اللہ نے اسے بہت نوازا تھا، انتہائی شریف اور سلجھا ہوا، کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کیا، کسی کو گالی نہیں دی۔ محلے میں سب کا احترام کرتا تھا، کسی کے سامنے اونچی آواز میں بات کی نہ کبھی کسی کو برا بھلا کہا، بچوں کے ساتھ بھی نرمی سے پیش آتا تھا۔ بڑوں کے سامنے کبھی اف تک نہیں کہا، چھوٹوں پر رعب جھاڑناتو اسے آتا ہی نہیں تھا۔ والدین کے سامنے بچھتا چلا جاتا تھا، کئی بار ابو نے سخت سست کہا لیکن اس اللہ کے بندے نے آنکھیں اوپرنہیں اٹھائیں، امی نے بھی ایک بار غصے میں اسے خوب ڈانٹا تھا لیکن اس نے برا نہیں منایا بلکہ اگلے ہی دن امی کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگ لی تھی۔ نماز کا پابند، جیسے ہی نماز کا وقت ہوتا فوراً مسجد پہنچ جاتا۔ نماز پر تو وہ کمپرومائز کر ہی نہیں سکتا تھا۔ روزانہ قرآن کی تلاوت اس کا معمول تھا۔ بہت نیک انسان تھا، چوری چھپے صدقہ خیرات بھی کرتا رہتا تھا۔ کبھی دوستوں اور ہمسایوں کی مدد بھی کردیتا تھا۔ محلے کے غریب اور یتیم بچوں کا بہت خیال رکھتا تھا۔ اپنی تنخواہ کا پانچ فیصد حصہ مسجد کو دیتا تھا۔ غصہ تو اسے آتا ہی نہیں تھا، بہت میٹھی زبان تھی اس کی، بڑے چھوٹے سب کو محترم کہہ کے پکارتا تھا۔ جھوٹ سے اسے شدید نفرت تھی، جھوٹ بولنے اور دھوکا دینے والوں کو بالکل پسند نہیں کرتا تھا۔ غیبت اور چغلی سے اسے بہت ڈر لگتا تھا اور موسیقی، فلمیں اورڈرامے دیکھنے سے تو انتہائی نفرت کرتا تھا۔ بڑا اچھا انسان تھا اللہ مغفرت کرے۔

یہ ساری گفتگو وہ ہے جو ہم کسی کے مرنے اور وفات پاجانے کے بعد کرتے ہیں، ہمارا کوئی عزیز،دوست یا رشتہ دار فوت ہو جائے تو ہم اچھے، نیک، رحمدل اور خوش اخلاق انسان جیسی صفات کے علاوہ اس کا تذکرہ نہیں کرتے۔ وفات پانے والا خواہ کیسا ہی ہو اس کے مرنے کے بعد اس کے بارے میں ہمارا وریہ بدل جاتا ہے، مرنے کے بعد ہماری نظروں میں اس کے سارے عیب چھپ جاتے ہیں، وہ نیک بھی ہو جاتا ہے، اس کے اخلاق بھی اچھے ہوجاتے ہیں، وہ نماز روزے کا پابند بھی ہو جاتا ہے، اسے معاشرت بھی آجاتی ہے، وہ صدقہ خیرات بھی کرنے لگتا ہے، اسے بڑے چھوٹوں سے بات کرنے کا سلیقہ بھی آجاتا ہے، اسے زندگی گزارنے کاڈھنگ بھی آجاتا ہے اور وفات پاجانے کے بعد اس میں ایک اچھے، نیک اور رحمدل انسان والی ساری خوبیاں بھی آ جاتی ہیں اور مرنے کے بعد ہم اسے ’’انٹر نیشنل بزرگ‘‘ ڈکلیئر کرنے کے لیے بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ دکھ اور افسوس مگر یہ ہے کہ اگر ہمارا یہی عزیز، دوست یا رشتہ دار زندہ ہوتا تو ہم اسے انسان ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ جب تک ہمارا کوئی عزیز، دوست یا رشتہ دار زندہ ہوتا ہے ہمیں وہ بالکل نکما، نکھٹو، آوارہ، کام چور، لاپرواہ، بد اخلاق اور زبان دراز دکھائی دیتاہے، اسے بڑوں سے بات کرنی آتی ہے نہ وہ چھوٹوں پر شفقت کرنا جانتا ہے، محلے اور گھر کا ہر فرد اس سے تنگ نظر آتا ہے، بہن بھائی اس سے نالاں دکھائی دیتے ہیں، آفس کے سب لوگوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے، وہ ہمیشہ گلا پھاڑ کر با ت کرتا ہے، اسے زندگی گزارنے کا ڈھنگ بھی نہیں آتا اور وہ ہماری نظروں میں انتہا درجے کا بد اخلاق او ر خود غرض انسان ہوتا ہے۔

ہماری یہ نفسیات ثابت کرتی ہیں کہ ہم ایک مردہ پرست قوم ہیں، ہمیں زندہ انسان اچھے نہیں لگتے، جب تک ہمارے عزیز، دوست اور رشتہ دار زندہ ہوتے ہیں ہمیں ان کے اچھے کام بھی برے دکھائی دیتے ہیں اورہماری کوشش ہوتی ہے کہ حتی الامکان اس میں کیڑے نکالے جائیں، ہم میں اتنی اخلاقی جرات نہیں ہوتی کہ ان کے اچھے کاموں پر ان کی تحسین کر سکیں لیکن جیسے ہی ان کی وفات ہوتی ہے ہماری ساری ہمدردیاں جاگ اٹھتی ہیں اور ہمیں ان کو فرشتہ ڈکلیئر کرنے میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔

مجھے نہیں معلوم یہ ہماری منافقت ہے یا ہماری اخلاقی پستی، لیکن بہر حال کچھ ہے ضرور۔ ہمیں یہ زندہ انسان باالکل اچھے نہیں لگتے لیکن جب یہ چھ فٹ زمین کے اندر چلے جاتے ہیں تب ہماری منافقت جاگ اٹھتی ہے۔ یقین کریں ہم جن کی قبروں پر جا کر دو دو گھنٹے روتے ہیں اگر وہ زندہ ہو جائیں تو ہم انہیں ایک لمحے کے لیے جینے نہ دیں۔

یہ ہمارے سماج کا ایک مجموعی رویہ ہے جو ہماری تنگ نظری،اخلاقی پستی، تہذیبی زوال اور پست معیار زندگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہمارا یہ رویہ صرف ذاتی زندگی تک محدود نہیں بلکہ ہم نے اپنے قومی ہیروز کے ساتھ بھی یہی کیا، ارفع کریم سے ڈاکٹر عبدالقدیر تک یہی داستان پھیلی ہوئی ہے۔ ہم جیتے جی لوگوں کی قدر نہیں کرتے اور جب وہ مر جاتے ہیں ہم ان کی قبروں پر قبے اور مزار بنا کر انہیں پوجنا شروع کردیتے ہیں، اگر میں غلط نہیں کہہ رہاتو ہم ایک مردہ پرست قوم ہیں۔ اگر مرنے والا واقعی اچھا انسان ہے تو آپ اس کی زندگی میں اسے یہ مقام کیوں نہیں دیتے؟ اس کی تعریف میں دو لفظ کہتے ہوئے آپ کی زبان کیوں دکھتی ہے اور آپ کے الفاظ کیوں خاموش ہو جاتے ہیں؟ کیا یہاں نیک اور شریف ہونے کے لیے بھی مرنا ضروری ہے؟

مردہ پرستی کو چھوڑیں اور زندوں کی تعریف کرنا سیکھیں، مرنے کے بعد ہر کوئی تعریف کرتا ہے لیکن سامنے کھڑے عزیز، دوست، کولیگ اور رشتہ دار کی تعریف کرنا بڑے دل گردے اور بڑے ظرف والوں کا کام ہے۔ بڑوں کو بڑا ہونے کا حق دیں، چھوٹوں کی مسلسل حوصلہ افزائی کریں، زندگی میں کامیابی کے لیے حوصلہ افزائی کے لیے کہا گیا کسی کا ایک جملہ کافی ہوتا ہے۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */