میں ”دلیل“ کا خیر خواہ ہوں - ظفر عمران

بھائی عامر ہاشم خاکوانی میرے ان دوستوں میں سے ہیں، جن سے اختلاف کے باوجود احترام کا رشتہ قائم ہے۔ میں نے اختلاف کو ”نظریاتی“ اس لیے نہیں لکھا کہ اس سے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ اس تعلق میں ان کی کشادہ دلی، اعلا ظرفی کا کمال ہے، ورنہ مجھ سا غیر محتاط شخص کب کسی کو دوست رکھتا ہے۔ گزشتہ سال انھی دنوں ”دلیل“ کا سفر شروع ہوا تو انھوں نے مجھ کو لکھنے کی دعوت دی۔ میں نے اپنے تئیں کچھ کوشش کی، لیکن تسلسل برقرار نہ رکھ سکا۔ اس کی بہت سی وجوہ ہیں، ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں، کہ مجھے ”دلیل“ کا خیر خواہ نہ سمجھا جائے۔

دلیل نے ایک سال کا سفر کام یابی سے طے کیا، اس کے لیے میری طرف سے مبارک باد۔ ”دلیل“ ہو یا دیگر اردو مضامین کی ویب سایٹس؛ یہ سب احباب اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔ سبھی کے لیے نیک تمنائیں ہیں۔ شوبز انڈسٹری میں کام کرتے میں دعا گو رہتا ہوں کہ ہر ٹیلے ویژن پروگرام، ہر ٹی وی چینل، ہر فلم کام یاب ٹھیرے۔ کیوں کہ ایک فلم کی کام یابی تمام ہنر مندوں کی کا یابی ہے، انڈسٹری کی کام یابی ہے۔ انڈسٹری قائم رہے گی، تو پرانوں کے ساتھ نئے لوگوں کو مواقع ملتے رہیں گے، تربیت ہوتی رہے گی۔ اسی طرح اردو ویب سایٹس بھی ہیں جو ہمارا آیندہ کل ہیں۔ انھیں مزید نکھرنا ہے، مزید اوپر جانا ہے۔ کبھی انسان پتھروں پر، ہڈیوں پر، پتوں پر کھالوں پر لکھا کرتا تھا، پھر کاغذ ایجاد ہوا، کاغذ کا معیار بہ تر سے بہ ترین ہوا۔ آج کا قرطاس کمپیوٹر اسکرینیں ہیں۔ سو میں یہ سمجھا ہوں کہ یہی ہمارا کل ہے۔

میرا ماننا ہے کہ سال دو سال میں جو ایسی سایٹس نمودار ہوئیں، انھیں سوشل میڈیا پر بہت سراہا گیا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ایسے لکھنے والے سامنے آئے، جو باصلاحیت تو تھے لیکن پروفیشنل نہ تھے، یہ بلاگر روایتی اردو کالم نگاروں سے ہٹ کے تھے۔ بہت سے لکھنے والے ایسے تھے، جو سوشل میڈیا پر کچھ بھی لکھ دیا کرتے تھے، ان سایٹس سے انھوں نے سیکھا کہ محتاط ہو کے لکھنا کسے کہتے ہیں۔ پھر یوں‌ ہوا کہ ان سایٹس کے مدیر ممتاز کالم نگاروں کی تحریرں شائع کرنے لگے۔ وجوہات بہت سی ہوں گی، سب سے بڑی وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ نئے لکھنے والے اپنی من مرضی سے لکھتے ہیں، جنھیں لکھنے کا معاوضہ بھی نہیں ملتا، لہاذا انھیں مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ روزانہ یا ہفتے دو ہفتے بعد تحریر دیں۔ جب کہ ان سایٹس کو روزانہ کی بنیاد پر مضامین درکار ہوتے ہیں۔ مدیر کو نئے لکھنے والے پر محنت بھی بہت کرنا پڑتی ہے، اس محنت کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، اگر انھیں جیسے ہے ویسے کی بنیاد پر شائع کر دیا جائے تو وہ بات نہیں بنتی جو مطلوب ہے۔ میں کوئی نجومی نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ مدیر کی مجبوری کوئی بھی رہی ہو، اخباروں میں شائع شدہ کالم ان ویب سایٹس پر نقل ہوتے رہے تو ان سایٹس کا انجام قریب ہے۔ جس کو وسعت اللہ، سلیم صافی، نصرت جاوید، حامد میر، خورشید ندیم، ہارون رشید، اوریا مقبول جان اور دوسروں کو پڑھنا ہے، وہ قاری انھیں پڑھنے بطور خاص ان سایٹس پر کیوں آئے گا۔

”دلیل“ ہو یا دیگر سایٹس، ان سب کو بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان سایٹس کے مدیروں کے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ نئے لکھنے والوں کو تلاش کریں، ان پر محنت کریں۔ کچھ مستقل لکھنے والے، جو پینل کا حصہ ہوں بہت ضروری ہیں۔ ہر وقت ایک ہی طرح کے موضوع پر ایک سی تحریروں کی بہتات بے زار کر دیتی ہے۔ یہ پینل رایٹر اس یک سانیت کو توڑنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مدیر ان پینل رایٹرز کو ان کے رحجان کے مطابق کوئی موضوع دے کے لکھوائے تو بہ تری کے امکانات ہیں۔

ایک قاری کے طور پہ میں اکتا چکا ہوں، کہ مقابل ویب سایٹ میں کوئی مضمون آیا، تو اس کے رد میں کچھ لکھا جائے۔ گویا مقابل نے جو موقف اپنایا، اس کا مخالف موقف اپنا لیا جائے، یہ صحت مندانہ رحجان نہیں ہے۔ یہ صرف ”دلیل“ کے لیے نہیں کہا، میرا خیال ہے تمام ایسی سایٹس کے کرتا دھرتاوں کو اس پر سوچنا چاہیے۔ ان سایٹس کو ایک دوسرے کا ٹھٹھا اڑانے کے بجائے اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے۔ اگر تو ان کام ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہے تو پھر یہ درست سمت میں ہیں۔ اسی طرح ”ریٹنگ“ کی دوڑ بھی کوئی معنی نہیں رکھتی کہ کسی سایٹ نے کیا ریٹنگ حاصل کی ہے کیا نہیں۔ لکھنے والوں کو، مدیر کو تو ”ریٹنگ“ کا سوچنا بھی نہیں چاہیے، یہ سیلز اور مارکیٹنگ ڈپارٹ منٹ کے سوچنے کا کام ہے۔ ایک اچھے مضمون کو ایک قاری بھی میسر ہو، اور ایک برے مضمون کو کروڑوں قارئین دست یاب ہوں، تو بھی اچھا مضمون وہی کہلائے گا، جس کا ایک قاری ہے۔

چوں کہ میرا تجربہ پرنٹ میڈیا کا ہے ہی نہیں تو اوپر جو خیالات پیش کیے ہیں وہ محض ایک قاری کے خیالات ہیں۔ کسی بابائے صحافت کی ہدایات نہیں۔ اس تحریر کا مقصد اتنا گوش گوار کرنا تھا، کہ میں ”دلیل“ کا خیر خواہ ہوں، ہم درد ہوں، اس کی ترقی کا خواہاں ہوں۔