’کلبھوشن‘ رحم چاہتا ہے - ابو انصار علی

بھارتی ایجنٹ ’کلبھوشن یادیو‘ ایک نام نہیں، سزا یافتہ تو ہے، لیکن ساتھ ہی ایک پس منظر اور ایک بڑی کہانی سناتا بڑا کردار بھی ہے، جو پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر رچی گئی سازش کو بےنقاب کرتا ہے، عینی شاہد اور وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار پھانسی گھاٹ پر کھڑا مجرم، جب بیان کرتا ہے کہ ’بھارت نے پاکستان توڑنے کے لیے بلوچستان اور کراچی میں علیحدگی پسندوں کی معاونت کی‘۔ تو پھر مجھے سیکولر بھارت کا چہرہ، سیکولرازم کے دعویدار دانشوروں کے لکھے خوش کن مضامین کے باوجود ’روشن‘ نہیں ’تاریک‘ نظر آتا ہے۔

کلبھوشن یادیو جب اعتراف کرتا ہے کہ وہ بھارتی جاسوس ہے، ایک مقصد کےتحت کراچی کا دو بار دورہ کیا، پاک بحریہ کے اثاثوں کی معلومات حاصل کی، اپنے ایجنٹ دوست کی مدد سے مہران بیس پر حملہ کرایا اور پاکستان کو بڑا نقصان پہنچایا، جو خود بتاتا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں صرف بلوچ علیحدگی پسندوں سے ہی نہیں، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور کراچی میں بھی اپنے کارندوں کے ذریعے دہشت گردی کی وارداتیں کراتی اور انہیں اسپانسر کرتی ہیں، تو سوچ میں پڑجاتا ہوں کہ ’سیکولر بھارت کے زخم 70 برس بعد بھی ہرے کے ہرے ہیں، اور پھر سیکولرازم تو ’وسعت قلبی‘، دوسرے کو برداشت کرنے اور راستہ دینے کا نام قرار دینے والوں کا یہ دعویٰ خام سا نظر آنے لگتا ہے۔

Commander Kulbushan Sudhir Jadhav, the serving Indian Naval Officer who has been sentenced to death on charges of espionage, sabotage and terrorism has made a mercy petition to the Chief of Army Staff. In his plea, Commander Jadhav has admitted his involvement in espionage, terrorist and subversive activities in Pakistan and expressed remorse at the resultant loss of many precious innocent lives and extensive damage to property due to his actions. Seeking forgiveness for his actions he has requested the Chief of Army Staff to spare his life on compassionate grounds. Commander Jhadev had earlier appealed to the Military Appellate Court which was rejected. Under the law he is eligible to appeal for clemency to the COAS (which he has done)and if rejected, subsequently to the President of Pakistan. His second confessional video, in which he can be seen accepting his acts of terrorism and espionage is also released so that the world should know what India has done and continues to do against Pakistan.

Posted by Maj Gen Asif Ghafoor on Thursday, June 22, 2017

پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا پھانسی کا منتظرایجنٹ جب بیان کرتا ہے کہ ’بھارت کا مقصد پاک چین اکنامک کوریڈور کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ کراچی اور بلوچستان کے حالات کو خراب کرنا ہے‘ ایرانی ساحلی شہر چاہ بہار میں کاروبار کے بہانے سے بیٹھا ہونے کا اعتراف کرنے والا کلبھوشن خود بھی اس مقصد کے تحت ہی مکران کی ساحلی پٹی سے منسلک علاقوں میں دہشت گردوں سے رابطہ کاری رکھنے، انہیں رقم فراہم کرنے، انہیں اہداف کی ہدایت دیتا تھا، وہ بتاتا ہے کہ ان شدت پسندوں کو افغانستان کے شہروں میں قائم بھارتی قونصل خانوں سے بھی بھرپور مدد فراہم کی جاتی ہے، تو ذہن میں خیال آتا ہے کہ ’پڑوسی اسلامی ممالک‘ بھارتی معیشت کی چالبازیوں کا کیسے نشانہ بن گئے، تو ’معذرت کے ساتھ‘ یاد آتا ہے کہ ’دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف‘ اپنی دوستی کے دعویداروں سے ملاقات ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا پاکستان اسلامی بھی ہے اور جمہوری بھی؟ حبیب الرحمن

ایسے میں’ امریکا بہادر‘ جس کا دعویٰ ہی یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد وہ تو دنیا میں زندہ ہی ’دہشت گردی کا خاتمہ‘ کرنے کے لیے ہیں، اس کی خفیہ ایجنسیاں خطے میں دہشت گردی کی جنگ کے اس کے سب سے بڑے اتحادی ملک پاکستان کی جڑوں کو بھارت، ایران اور افغانستان کا گٹھ جوڑ کھوکھلا کرتے رہے اور وہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہیں؟ کیوں؟ یہ ایک سوال سیکولرازم کے پورے فلسفے کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے، اس کے دوغلے چہرے سے نقاب اٹھانے کے بھی شاید یہ سوال بہت ٹھہرے، اور ملک میں بسے سیکولر دانشوروں اور سیاست دانوں کے لمحہ فکر بن جائے۔

امید خام ہی صحیح، شاید انہیں احساس ہو جائے کہ سیکولر اور لبرل ازم کو اپنا تمغہ امتیاز سمجھنے والے بہادر ترین سابق صدر نے کس طرح ایک امریکی ٹیلی فون پر گھٹنے ٹیک دیے تھے، جس کے بعد ملک کو پرائی جنگ میں کئی ہزار انسانی جانوں کا ضیاع برداشت کرنا پڑا، معیشت کو کئی کچوکے لگے، اسے بڑے بڑے بحرانوں سے گزرنا پڑا، امریکی ایما پر نااہل اور کرپٹ قیادت برداشت کرنی پڑی، ملک اخلاقی لحاظ سے ایک نئی پستی سے روشناس ہوا، لیکن اس کے باوجود اس کی نظر عنایت ہے تو بھارت پر، دوستی کا پینگیں بڑھائی جاتی ہیں تو نئی دہلی سے، اس سے معاہدے ہوتے ہیں، اس کے لیے عالمی فورمز میں راہ ہموار کی جاتی ہے، اس صورتحال میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث بھارت کا اسے شریک جرم کیوں نہ مانا جائے؟

کلبھوشن کی سامنے آئی تازہ رام لیلا سننے کے بعد بھی اگر کوئی آنکھوں والا اندھا، کہے کہ سیکولر بھارت امن کا داعی ہے، دنیا بھر کو اسلحہ فروخت کرنے کا خواہشمند سیکولر امریکا ’پیس‘ چاہتا ہے۔ ایسے میں دنیا بھر میں موجود تنازعات کو کھاد اور پانی فراہم کرنے پر بھی امریکہ کے لیے واہ وا ہ کرنے والے سیکولر دانشوروں کی سوچ کے لیے اکیس توپوں کی سلامی تو بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لال لال لہرائے گا تو ہوش ٹھکانے ہی آئے گا - ڈاکٹر راحت جبین

پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق ’ کلبھوشن نے پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے آرمی چیف سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رحم کی اپیل کی ہے، وہ اس سے پہلے فوجی کورٹ میں بھی معافی کی اپیل کرچکا ہے، جو مستر د کردی گئی، اب اگر ’جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی پاکستانیوں کے قتل میں ملوث، اس کی معاشی، سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانے والے بھارتی ایجنٹ کی اپیل مسترد کر دی تو پھر معاملہ صدر پاکستان کے کورٹ میں پہنچ جائےگا، اس سارے عمل میں ہم نہیں خیال کرتے ہیں کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی اس رحم کی اپیل کی قبولیت کو سراہےگا۔

کلبھوشن کا تازہ اعترافی بیان عالمی ادارہ انصاف میں اس کی رہائی کے لیے کھڑے بھارت کو بھرپور جواب ہے، جس کےبعد امید کی جاسکتی ہے کہ سزائے موت کے قریب موجود ’بھارتی ایجنٹ‘ کی پھانسی کی راہ کھڑی یہ رکاوٹ بھی بس دور ہوا چاہتی ہے.