چاند کی رؤیت کے مسئلے کا حل - بشارت حمید

ہم جس کرہ ارضی پر رہتے ہیں، اس کی اپنے مدار کے گرد گردش کی وجہ سے مختلف ممالک میں دن اور رات کے آنے جانے کے اوقات بھی مختلف ہیں۔ ہم جس ٹائم زون سسٹم کو فالو کرتے ہیں، اس کے مطابق اگر آسٹریلوی شہر سڈنی میں جون کی 23 تاریخ کو صبح کے 10 بج رہے ہیں تو عین اسی وقت امریکی ریاست ہوائی میں 22 جون کی شام کے 2 بج رہے ہوں گے، یعنی دونوں شہروں میں 20 گھنٹے کا فرق ہے (لیکن دوسری طرف فضائی سفر کا فاصلہ صرف 5000 کلومیٹر ہے) جس کا مطلب یہ ہوا کہ جو سورج آج سڈنی میں طلوع ہوا ہے، وہ 20 گھنٹے بعد ہوائی میں طلوع ہوگا اور تب تک سڈنی میں تاریخ تبدیل ہو چکی ہوگی۔ اگر یہاں تک بات سمجھ آ جائے تو اگلا پوائنٹ باآسانی سمجھ آ جائے گا۔

اب اگر ہم پاکستان اور سعودی عرب کا موازنہ کریں تو مروجہ ٹائم زون کے مطابق ہم سعودی عرب سے 2 گھنٹے آگے ہیں۔ یعنی اس وقت اگر یہاں 23 جون کو صبح کے 10 بج رہے ہیں تو سعودی عرب میں اسی تاریخ کو صبح کے 8 بج رہے ہوں گے۔ لیکن اسے دوسرے زاویے سے دیکھا جائے کہ اگر اسلامی دنیا دن کی شروعات کا تعین جاپان اور آسٹریلیا کی بجائے سعودی عرب سے کرے تو سارا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ اس کے مطابق جو سورج آج سعودی عرب میں طلوع ہوگا وہ پھر 22 گھنٹے بعد پاکستان میں طلوع ہوگا، یعنی اس صورت میں ہم سعودی عرب سے 2 گھنٹے آگے نہیں بلکہ 22 گھنٹے پیچھے ہوں گے۔ اگر آج سعودی عرب میں 23 جون کا سورج طلوع ہوا ہے تو یہ تاریخ ہمارے ہاں 22 گھنٹے بعد شروع ہوگی۔

اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جو چاند آج سعودی عرب میں نظر آئے گا، وہ 22 گھنٹے بعد پاکستان میں طلوع ہوگا۔ اگر آج وہاں قمری مہینے کی یکم تاریخ ہے تو 22 گھنٹے بعد یہاں پاکستان میں یکم تاریخ ہوگی۔ اگر یہ نظام رائج ہو جائے تو ہمارے بہت سارے وہ مسائل حل ہو جائیں گے جن کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت کنفیوژن کا شکار ہوتی ہے کہ وہاں رمضان ایک دن پہلے کیوں اور یہاں ایک دن بعد میں کیوں۔ وہاں آج طاق رات اور شب قدر ہے تو یہاں جفت رات کیوں؟ کون سی اصل شب قدر ہوگی؟ وہاں والی یا یہاں والی۔ اسی طرح عید کے چاند کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب کو دن کا نقطۂ آغاز کیوں مانا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کیونکہ وہاں مکہ مکرمہ ہے جسے اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں ام القری یعنی بستیوں کی ماں قرار دیا ہے اور یہ بابرکت شہر مسلم دنیا کا مرکز ہے لہذا یہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ اس کو سب شہروں پر مقدم رکھا جائے۔

اس ساری تحریر سے اگرچہ عملی کوئی فوری تبدیلی آنے کا امکان تو نہیں لیکن ایک مثبت بحث کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ کیا عجب کہ اللہ تعالٰی کی مدد سے مستقبل میں امت مسلمہ اور بالخصوص پاکستانی معاشرے میں چاند کی رویت کے اختلافات کے حل میں کوئی مثبت پیش رفت ہو جائے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.