دلیل کے ساتھ میرا تجربہ، تاثر، خصوصیات - ثمینہ رشید

اردو بلاگنگ ویب سائٹس سے میرا تعارف زیادہ پرانا نہیں۔ تقریبا ایک سال پہلے کچھ اردو ویب سائٹس کے مضامین پڑھے اور اسی دوران مکالمہ کے ساتھ کچھ عرصہ وابستگی رہی اور وہیں دلیل سے پہلا تعارف ہوا۔

اس وقت دلیل کے بارے میں پہلا تاثر یہی تھا کہ لبرلز کی ویب سائٹ کے مقابلے میں رائٹسٹ کی ایک اردو بلاگنگ ویب سائٹ کہ جس نے بہت جلد صف اوّل کی ویب سائٹس میں اپنی جگہ بنائی۔ دلیل پہلی ویب سائٹ تھی جس کو باقاعدہ ایک نظریاتی مقصد یعنی رائٹ ونگ کی نمائندہ سائٹ کے طور پہ بنایا گیا تھا۔ شروع میں یہ تاثر بھی بہت گہرا تھا کہ دلیل پہ شاید رائٹ ونگ کی روایتی اجارہ داری ہوگی لیکن دلیل نے بہت جلد اس تاثر کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔

دلیل خان جو اب دانیال احمد کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں، دلیل کی ادارتی ٹیم کے ایکٹو ممبر ہیں۔ بلکہ مجھے لگتا ہے عملی طور پہ دلیل بلاشبہ ان ہی کے سہارے چلتی محسوس ہوتی ہے۔ دانیال صاحب سے میرا تعارف محمود فیاض صاحب کے ذریعے اس سال فروری کے آخر میں ہوا۔ مجھے یاد ہے کہ میرا بھیجا ہوا پہلا آرٹیکل دلیل پہ پہلی مارچ کو پبلش ہوا تھا۔ دانیال صاحب کو میں نے ہمیشہ انتہائی پروفیشنل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بااخلاق اور مہذب انسان پایا۔ میں کیونکہ سیاست اور کرنٹ افئیرز پہ ہی زیادہ لکھتی ہوں تو کہیں اختلاف رائے کا موقع بھی آیا تو انتہائی خوش اسلوبی سے ایشو کو سمجھا اور سمجھایا گیا۔ یعنی ایک خوشگوار اور باوقار طریقے اور دلیل کے ساتھ۔

میرے نزدیک دلیل کی دو نمایاں خصوصیات ہیں۔
اوّل اس پہ رائٹ ونگ کی مناسب نمائندگی کے باوجود دوسرا نقطۂ نظر رکھنے والوں کو ہمیشہ جگہ دی جاتی ہے بلکہ حقیقتاً ادارتی بورڈ اس معاملے میں مجھے لبرلز سے زیادہ لبرل محسوس ہوا، کیونکہ موجودہ پاکستانی پالیٹیکس پہ میرا ایک ایسا آرٹیکل جس کو شاید لبرل بھی نہ چھاپتے، اسے دلیل نے نہ صرف شائع کیا بلکہ تحریر کو ایڈیٹر کی غیر ضروری روایتی کانٹ چھانٹ سے بھی محفوظ رکھا گیا۔

دلیل کی دوسری اہم خصوصیت نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں اپنی ویب سائٹ پہ جگہ دینا ہے، جس سے بہت سا نیا ٹیلنٹ دریافت ہوا۔ اس سلسلے میں دلیل کو کئی دوسری ویب سائٹ سے بہتر سمجھتی ہوں۔

عامر خاکوانی صاحب، بانی دلیل کے بارے میں پڑھنے اور جاننے کا اتفاق بھی دلیل پر لکھنے سے کچھ عرصہ قبل ہی ہوا۔ جب سیک سیمینار میں آپ کی شرکت کی تفصیلات پبلش ہوئیں۔ اس کے بعد میں نے باقاعدگی سے ان کے کالم اور پوسٹس پڑھیں۔ خود کو رائٹسٹ کہنے والے خاکوانی صاحب کی مدلل لیکن انتہائی دھیمے انداز کی تحاریر آپ کو ان کا فین بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ نظریاتی اختلاف کے باوجود آپ ان کے متوازن مؤقف سے صرفِ نظر نہیں کرسکتے۔ سو چند ایسے ہی معاملات پر نظریاتی اختلاف کے باوجود میں نے عامر خاکوانی صاحب کو عموماً بہت متوازن شخصیت پایا ہے۔ خصوصا آج کل رؤف کلاسرہ کی کردار کشی کی مہم کے معاملے میں آپ کا کُھل کر انہیں سپورٹ کرنا یقینا ایک قابلِ احترام عمل ہے۔ ان کے رائٹسٹ ہونے کے باوجود لیفٹ ونگ کے صحافی کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر اٹھائی جانے والی آواز ان کا حق کا ساتھ دینے کی اپروچ کا مظہر ہے۔

ویسے تو بہتری کی گنجائش ہمیشہ ہر کام میں ہی رہتی ہے، اس لیے مجھے امید ہے کہ دلیل ٹیم اس پر کام کر رہی ہوگی. اسی طرح امید ہے کہ دلیل مستقبل میں بھی اپنی متوازن پالیسی کو جاری رکھے گی تاکہ ایسے لوگ جو رائٹ اور لبرلز کے درمیان میں ہیں ان کو ہمیشہ دلیل پہ اپنا موقف پیش کرنے میں آسانی محسوس ہو۔

میں دلیل کی پہلی سالگرہ کے موقع پر اپنی اور شاہکار ڈاٹ کام کی پوری ٹیم کی طرف سے دلیل کی ٹیم کو دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ میری دعا ہے کہ دلیل کی کامیابیوں کا سفر اسی طرح جاری و ساری رہے۔ آمین

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.