وزیر دفاع سے ولی عہد تک - علی عبداللہ

سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ نے اپنے سامنے کھڑے اس نوجوان کو دیکھا جو وزیر مملکت کے عہدے کا حلف اٹھا رہا تھا۔ اس غیر معمولی نوجوان سے حلف لینے کے بعد شاہ عبداللہ نے مبارک باد دی اور کہا کہ "اللہ آپ کو اپنے دین، وطن، عرب اور عالم اسلام کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ نے چاہا تو آپ اپنی سرزمین پر حکمرانی کریں گے ۔" کسے معلوم تھا کہ شاہ عبداللہ کی دی ہوئی اس وقت کی دعا صرف چار سال کے اندر ہی مقبول ہو جائے گی اور یہ نوجوان مملکت سعودیہ کا ولی عہد بن جائے گا۔ یہ نوجوان موجودہ بادشاہ سلمان کا بیٹا محمد بن سلمان تھا۔ دنیا کا کم عمر ترین وزیر دفاع بننا اور پھر اب ولی عہد کا عہدہ پا لینا اس نوجوان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ 32 سالہ محمد بن سلمان کو یہ اہم ترین عہدہ ملنا ان کے کئی کامیاب فیصلوں کا نتیجہ ہے۔

محمد بن سلمان اگست 1985ء میں پیدا ہوئے اور ان کی والدہ فہدہ بنت فلاح عجمان قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں۔ 2008ء میں ان کی شادی سارہ بنت مشہور بن عبدالعزیز سے ہوئی جن سے ان کے تین بچے بھی ہیں۔ کنگ سعود یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی جس میں ان کی دوسری پوزیشن تھی۔ نوجوانوں میں مقبول ولی عہد محمد بن سلمان وزیر دفاع بننے سے پہلے کنگ عبدالعزیز فاؤنڈیشن کے چیئرمین کے مشیر رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ البیر سوسائٹی فار ڈیویلپمنٹ کے بورڈ آف ٹرسٹی کے ممبر بھی رہے ہیں۔ محمد بن سلمان نے MiSK فاؤنڈیشن کی بنیاد بھی رکھی جس کا مقصد سعودی نوجوانوں میں جدید تعلیم کی آگاہی اور لیڈرشپ پیدا کرنا ہے۔ "فوربز مڈل ایسٹ" کی جانب سے محمد بن سلمان کو 2013 میں سال کی بہترین شخصیت کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

2009ء میں گورنر ریاض کا خصوصی مشیر اور پھر سعودی کابینہ میں جز وقتی کنسلٹنٹ رہنے کے بعد ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں 2015ء میں وزیر دفاع بنانے کے ساتھ ساتھ نائب ولی عہد بھی نامزد کر دیا گیا تھا۔ وزیر دفاع مقرر ہوتے ہی ان کا نمایاں کارنامہ سعودی قیادت میں دیگر عرب ممالک کے ساتھ مل کر یمن آپریشن کا آغاز تھا۔ یہ آپریشن ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف شروع کیا گیا تھا تاکہ خطہ میں ایرانی اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے۔ بظاہر کم عمر دکھائی دینے والا یہ نیا سعودی ولی عہد اعلیٰ قوت فیصلہ رکھنے کے ساتھ ساتھ دیگر انتظامی معاملات کا ماہر بھی ہے۔ یہ اپنے والد شاہ سلمان کا کئی سال خصوصی مشیر بھی رہ چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رائل کورٹ کا صدر بھی رہا ہے۔ اکنامک افئیرز اینڈ ڈیویلپمنٹ کونسل کی سربراہی کرنے والے محمد بن سلمان کو ماضی کے بادشاہوں کی نسبت زیادہ جارہانہ اور فیصلہ کن پالیسیاں مرتب کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔

اپریل 2016ء میں محمد بن سلمان نے ویژن 2030ء کے نام سے سعودی عرب کی مستقبل کی پالیسیوں کو واضح کیا۔ ویژن 2030ء کی اہم پالیسی میں سعودی عرب کو تیل پر کم سے کم انحصار کرنے والا ملک بنانا اور ملک میں مزید ایسی سرمایہ کاری کرنا جس سے سعودی عرب اسلای دنیا کا اہم ترین ترقی یافتہ ملک بن سکے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ محمد بن سلمان نے تفریح کے مواقع کو بڑھانے پر زور دیتے ہوئے سعودی مذہبی پولیس کے اختیارات میں کمی کر کے مئی 2016ء میں ایک انٹرٹینمنٹ اتھارٹی قائم کی۔ اس کا مقصد ملک میں نوجوانوں کے لیے تفریح کے زیادہ سے زیادہ مواقع مہیا کرنا ہے۔ سابقہ رواج کے برعکس نئے ولی عہد نے ان نوجوان سعودی سکالرز کو مملکت کی کونسل آف سینئر سکالرز کے لیے منتخب کیا جو نوجوانوں میں زیادہ مقبول اور سوشل میڈیا پر زیادہ ایکٹو تھے۔ اس کونسل کا مقصد ملک میں سرکاری سطح پر مذہبی پالیسیاں متعارف کروانا اور مذہبی مشاورت کرنا ہے۔

ان سب باتوں سے قطع نظر دیکھنا یہ ہے کہ 32 سال کی عمر میں وزیر دفاع اور پھر اب ولی عہد بننے والا یہ نوجوان عرب دنیا اور بیرونی دنیا سے متوازن تعلقات کیسے قائم کر پاتا ہے ؟ سعودی اسرائیل تعلقات کی بڑھتی ہوئی افواہوں پر قابو پانا اور مسئلہ فلسطین کو ٹھوس طریقے سے پیش کرنا محمد بن سلمان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کی عرب دنیا میں مداخلت کو روکنا اور سعودی عرب کو مغرب کے ساتھ اسطرح ہم آہنگ کرنا کہ اسلامی تہذیب و ثقافت کو نقصان نہ پہنچے جیسے مشکل ترین معاملات کو کامیابی سے حل کرنا اب نئے ولی عہد کی ذمہ داری ہے۔ اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ ولی عہد بنانے کا یہ فیصلہ اسلامی دنیا کے ہم آہنگ تھا یا نہیں لیکن محمد بن سلمان کی سابقہ کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے ان سے چند نئے اور بہترین فیصلوں کی توقع ضرور کی جا سکتی ہے۔