دلیل سحر - محمود فیاض

پاکستان میں اگر سوشل میڈیا کی کہانی لکھی جائے گی تو اس میں شاید بہت سے گمنام سپاہیوں کے نام نہ آ سکیں کہ وہ بارش کے وہ اولین قطرے تھے جو زمین کی حدت سے جھلس کر بخارات بن جاتے ہیں۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ پچھلے دو تین سالوں میں بےشمار اردو ویب سائیٹس وجود میں آئیں، اور رفتہ رفتہ اپنے انجام کو پہنچ گئیں۔

سوشل میڈیا ایک مختلف دنیا ہے۔ یہاں سروائیو کرنے کے بھی مختلف طریقے ہیں۔ اردو صحافت کا نام لے کر جو اولین ویب سائیٹس وجود میں آئیں، وہ کچھ عرصے بعد توجہ، تربیت، اور محنت کی کمی کی وجہ سے بند ہوتی چلی گئیں۔ کچھ نے کانٹینٹ مارکیٹنگ کا روپ دھار لیا اور ہر طرح کا مواد اکٹھا کر کے کلک اور ویوز پر ناچنے لگیں۔

مگر صحافت اور اردو کی آبرو اگر کوئی ویب سائٹس بن سکیں تو عامر خاکوانی کی ”دلیل“ اور وجاہت مسعود کی ”ہم سب“ ہی بن سکیں۔ وجہ بھی ظاہر ہے کہ دونوں شخصیات صحافتی تجربے کے ساتھ اپنی ٹیم کو لیڈ کر رہے ہیں۔ ویب سائٹس میں چونکہ صحافتی تجربے کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا تجربہ بھی بہت ضروری ہے، اس لیے دونوں ویب سائٹس کے معاونین میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی جاننے والے لوگ بھی موجود ہیں اور ویب سائٹس کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔

”دلیل ڈاٹ پی کے“ اجرا کے موقع پر ہی عامر خاکوانی نے ببانگ دہل یہ اعلان کر دیا تھا کہ یہ رائٹسٹ کی نمائندہ ویب سائٹ ہوگی جو لیفٹیسٹ کے بیانیہ کا مسکت جواب دینے کے لیے بنائی گئی ہے۔ انھوں نے اس کو ایک مقدس مشن کے طور پر لیا اور مجھے یقین ہے کہ ان کے جذبے کا خلوص دنیا و آخرت میں قبولیت کے مدارج میں ہے۔ البتہ عامر خاکوانی صاحب کے اس اعلانیہ اقرار سے میرے جیسے بہت سے لکھنے والے جو اپنے آپ کو بوجوہ نہ لیفٹ سمجھتے ہیں اور نہ رائٹ، ایک مخمصے کا شکار ہو گئے۔ ہمیں لگا کہ یہ ایک ایسی ویب سائٹ ہوگی جہاں کٹر مذہبی سوچ پر مبنی مضامین ہی شائع ہو سکیں گے اور تحقیق و تنقید کو ”دنیاوی شے“ سمجھ کر اس سے حقارت کا رویہ اختیار کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   تیری جنت میں آئیں گے اک دن - ڈاکٹرمیمونہ حمزہ

ایسے میں دلیل خانؔ جو بعد میں مارک زکر برگ کے ”مشورے“ پر دانیال احمد بن گئے، ابن صفی کے ”ایکسٹو“ کی طرح ایک پراسرار کردار بن کر ”دلیل ڈاٹ پی کے“ کے منتظم کے روپ میں سامنے آ ئے، اور انہوں نے میرے جیسے گوشہ نشینوں اور سہمے ہوئے لوگوں کو حوصلہ دیا کہ ”دلیل“ اگرچہ اسلامی بیانیے کی ویب سائٹ ہے مگر اہل تنقید کی مہذب انداز میں لکھی گئی تحریروں کی پذیرائی کی جائے گی۔ سچ بات تو یہ ہے کہ دانیال احمد نے اس بات کو واقعی سچ ثابت کر دکھایا اور ہم نے گاہے دلیل پر ایسی تحاریر دیکھیں جو دلیل کے آؤٹ فٹ سے میچ نہیں کرتی تھیں مگر ان کو شائع کیا گیا۔

عامر خاکوانی صاحب کی شخصیت ایک معتدل، انصاف پسند اور حق لکھنے والے صحافی کے طور پر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے دلیل کی پالیسی میں اگر واضح طور پر مذہبی ہونے کے باوصف یک گونہ آزادی فکر کو برقرار رکھا ہے تو میرے نزدیک یہ ایک اور طرح کی کامیابی ہے۔ ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر دلیل کا سامنے آنا جو اسلامی ذہن رکھتے ہوئے بھی کٹر اسلامی سوچ پر نقد کا حوصلہ رکھتی ہے، ایک قومی خدمت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

پاکستان میں حال ہی میں عجیب کایا کلپ ہوئی ہے۔ جو لوگ سکہ بند لبرل کہلاتے تھے، وہ انسانی آزادیوں کے حوالے سے نہایت بودے رویوں پر اتر آئے اور کئی جگہ پر مذہبی شدت پسندوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ جبکہ مذہبی بیانیہ رکھنے والے کئی حلقوں میں نقد و جرح کو جس طرح آزادی رائے کے طور پر لیا گیا، وہ چشم حیران کے لیے خیرہ کن تھا۔ اس کایا کلپ میں دلیل اور عامر خاکوانی صاحب کا ایک بنیادی کردار سمجھ میں آتا ہے۔

”دلیل ڈاٹ پی کے“ کا پہلا سال کامیابیوں کا سال تھا۔ ایک نئی ویب سائٹ سے پاکستان کی دوسرے اور پھر حال ہی میں پہلے نمبر پر آ جانے والی صحافتی ویب سائٹ تک کا سفر یقیناً آسان نہیں ہوگا۔ اس کے لیے جس شبانہ روز محنت اور عرق ریزی کی ضرورت ہوتی ہے، اس کا راقم کو بھی کچھ اندازہ ہے۔ میری طرف سے اس خوشی کے موقع پر عامر خاکوانی، دانیال احمد اور ان کی ساری ٹیم کو بہت بہت مبارک قبول ہو۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو مزید کامیابیاں عطا کرے اور آپ کے جذبوں کے خلوص کو نبی پاکﷺ کے دربار میں سند قبولیت ہو۔ آمین ثم آمین۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.