دلیل کی سالگرہ --- محمد مبین امجد

خالق ارض وسما نے انسان کو پیدا کیا اور پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ میری اس تخلیق کو سجدہ کرو۔
وجہ۔۔؟
صرف اور صرف یہ کہ ہر تخلیق کار چاہتا ہے کہ اس کی تخلیق کو سراہا جائے، اس کی مدحت کی جائے، اس کی اس تخلیق کی بدولت اسے پہچانا جائے۔

ممکن ہے آپ کہیں کہ چونکہ انسان کو اللہ نے علم دیا اس لیے فرشتوں کو حکم دیا کہ انسان کو سجدہ کریں۔۔ آپ کی بات بالکل بجا ہے اور ایسا ہی قرآن میں مذکور ہے۔ مگر احباب کیا آپ کو نہیں لگتا کہ انسان کو اللہ نے علم دیا جس سے وہ ایک شاہکار تخلیق کا درجہ پا گیا۔

اور چونکہ انسان اللہ پاک کا ماسٹر پیس تھا اسی لیے اللہ نے چاہا کہ میری اس تخلیق کو سراہا جائے۔ اسی طرح لیکھت کار بھی تو ایک تخلیق کار ہوتا ہے جو چاہتا ہے کہ اسی کی تحریروں کو چاہا جائے، سراہا جائے، اور اس سے اسے ایک پہچان ملے۔ اسی وجہ سے وہ اپنی تحریروں کی مختلف طریقوں سے اشاعت کا اہتمام کرتا ہے۔ کبھی وہ اخبار چھاپتا ہے، کبھی کتاب اور کبھی پمفلٹ یا چھوٹے چھوٹے بروشر۔۔۔

مگر آج کا دور ایک جدید دور ہے۔ اب اپنی بات یا تحریر کے ابلاغ کے لیے نئے نئے طریقے وضع ہو چکے ہیں۔ علم و ادب کا وسیع و عریض ذخیرہ اب ہم سے محض ایک کلک کی دوری پہ ہے۔ اب ہماری بات یا تحریر سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے تک چلی جاتی ہے۔ اور اس قسم کے تیز ابلاغ میں مختلف بلاگنگ سائٹس نے اپنا بہت زیادہ کردار ادا کیا ہے۔

انہی سائٹس میں سے ایک Daleel.pk کی آج سالگرہ ہے۔ آج سے ایک سال قبل اس سائٹ کا رمضان المبارک کی ستائیسویں شب آغاز کیا گیا۔ جب آغاز کا دن اس قدر مبارک ہے تو اندازہ کر لیجیے کہ اس کے منتظمین کا وژن اور مقصد کس قدر عظیم اور نیک ہوگا۔ یہ سائیٹ ہر ہر لمحہ اور ہر ہر لحظہ لبرل اور اسلام مخالف جماعتوں اور بیانیے کے خلاف محاذ پہ ڈٹی رہی۔ اور اس کے مدیر جناب عامر خاکوانی صاحب نے اپنے اصولوں پہ سمجھوتہ نہیں کیا۔ یوں اپنے آغاز سے ہی اس سائیٹ نے دائیں بازو کی سائیٹ کی پہچان قائم کر لی۔ اور میرے خیال میں اس قسم کا ٹیگ مناسب نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   خوشگوار ازدواجی زندگی کے دعویدار - محمودفیاض

اس سائٹ کا یہ بھی اعزاز ہے کہ اسے کئی نامور لیکھت کاروں کا قلمی تعاون اور سرپرستی حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سائٹ نے سوشل میڈیا کو کئی نئے لکھاری فراہم کیے۔ اور آج وہ سب کے سب نئے لکھاری اپنا ایک حلقہ اثر رکھتے ہیں۔ مجھے فخر اس بات کا ہے کہ سوشل میڈیا پہ مجھے متعارف کروانے والی سائٹ یہی ہے۔ گو کہ میں اپنا ایک حلقہ اثر رکھتا تھا، مگر وہ اس قدر محدود اور چھوٹا تھا کہ اس پہ کنوئیں کے مینڈک والی مثال صادق آتی تھی۔ مگر اس سائٹ نے مجھے ایک پہچان دی، ایک نام دیا اور مجھ پر ویورشپ کا ایک جہان کھول دیا۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ مجھ ایسے نالائق کی تحریریں اس سائٹ پہ ہزاروں کی تعداد میں پڑھی گئیں۔ اور میری ایک ایک تحریر نے 25، 25 ہزار کا ہندسہ عبور کیا۔

میں اس ضمن میں اس سائٹ کا ممنون احسان ہوں کہ اس نے مجھے اس قدر نیک نامی اور شہرت عطا کی کہ اس کے بعد پھر مجھے دیگر سائٹس پہ شائع ہونے میں چنداں مشکل نہ رہی۔ اور میری ہر قسم کی تحریر نے یہاں جگہ پائی، نہ صرف جگہ پائی بلکہ عزت کی جگہ پائی۔

میری طرف سے دلیل منتظمین کو بہت بہت مبارک ہو۔ دعا ہے کہ اللہ پاک دلیل کی کامیابیوں کا یہ سفر جاری و ساری رکھے۔ اور اپنے آغاز سے ہی اس نے بلندیوں کا جو سفر شروع کیا تھا وہ جاری رہے، اسے زوال نہ آئے۔

آخر پہ چند ایک گذارشات پیش کرنا چاہوں گا۔۔گر قبول افتد، زہے عزّ و شرف
٭ پہلے نمبر پہ یہ کہ دلیل پہ موجود پرانی تحریروں میں (متن میں) انگریزی کے سپیلنگ آ چکے ہیں پلیز ان پہ غور کیجیے۔ اور ان کو حذف کروائیے۔ کہ ان سے بہت کوفت ہوتی ہے۔
٭ دوسرے نمبر پہ فونٹ کا مسئلہ ہے کہ اس نئے فونٹ سے سائیٹ اگرچہ موبائل فرینڈلی ہو گئی ہے مگر وہ پہلے کا سا مزہ۔۔ اب نہیں رہا۔ اس پہ بھی غور کیجیے گا۔

Comments

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ مختلف اخبارات میں ہفتہ وار کالم اور فیچر لکھتے ہیں۔اسلامی و معاشرتی موضوعات میں خاص دلچسپی ہے۔ کہانی و افسانہ نگاری کا شوق رکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.