جماعت اسلامی کی سیاسی ناکامی کی وجہ - عادل فیاض

اسلام دوسرے مذاہب کے بر عکس محض مذہب ہی نہیں بلکہ ایک دین بھی ہے، جو دیگر مذاہب کی طرح اخلاقیات کا درس بھی دیتا ہے لیکن اس کے علاوہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنے پیروکاروں کی راہنمائی بھی کرتا ہے. اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو الگ سے اپنا پورا ایک نظام رکھتا ہے. دیگر مذاہب میں سے اگر کوئی نظام رکھتا ہے بھی تو اس نے اپنے ادھورے پن کو دور کرنے کے لیے کسی انسانی ذہین کی اختراع سے مدد لی ہے.

نظام سیاست کسی بھی سماج کا بہت اہم شعبہ ہے، اگر اس میں خرابی پیدا ہو جائے تو پورا سماج خرابیوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے. اور اسلام نے اس شعبے کے حوالے سے بھی بےخبری نہیں برتی بلکہ ٹھیک ٹھیک راہنمائی فراہم کی.

اسلام کے نالائق طالب ہونے کے ناطے میری معلومات تک اسلام نے حکومت حاصل کرنے کے لیے چند اصول ہی دیے ہیں. باقی وقت، حالات اور سماج پر چھوڑ دیا ہے، وہ اپنی سہولت کے مطابق فیصلہ کریں کہ حکومت کی مسند تک کیسا پہنچا جائے. چاروں خلفاء راشدین کے مختلف طریقوں سے انتخاب اس کی بہترین مثال ہے.

اب آئیں اس مسلہ کی جانب جس کی وجہ سے اتنی لمبی تمہید لکھنی پڑھی. جماعت اسلامی برصغیر کی پرانی دینی اور سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے لیکن آج تک اس کو سیاسی میدان کے اندر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی. ہر کسی کے نزدیک اس کی مختلف جوہات ہیں. اور ہر ایک نے اس کو بیان بھی کیا ہے.

ہمارے نزدیک مسئلہ ایک ہے جس کے ممکنہ دو حل ہیں. پاکستانی معاشرہ ایک تو مذہبی ہے اور دوسرا ملٹی ڈائی مینشینل. یہاں پر آپ کو مذہب کے حوالے سے ہر ایک تعبیر مل جائے گی اور یہی وجہ ہے کہ جب وہ جماعت اسلامی کی تعبیر کو اپنی مذہبی تعبیر سے کمپیئر کرتے ہیں تو شدید اختلاف پاتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   ریاستِ مدینہ اور قول و فعل - راجہ کاشف علی خان

جب عام آدمی ن لیگ یا پی پی کو ووٹ دیتا ہے تو ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچتا کہ یہ ووٹ مانگنے والا سنی ہے، شیعہ ہے، بریلوی ہے، اہل حدیث ہے، حیاتی ہے، یا پھر مماتی، لیکن وہی عام آدمی جب مذہبی جماعت کو ووٹ کے لیے سوچتا ہے تو یہ سوال اس کے آڑے آجاتے ہیں.

سیاست کے نابالغ طالب علم کی حیثیت سے ہمارا مشورہ ہے کہ جماعت اسلامی اس معاشرہ کی اصلاح کرے جو وہ پہلے سے کر رہی ہے اور پورے معاشرہ کی مذہبی تعبیر اپنی تعبیر سے ہم آہنگ کرے. یا پھر تیونس کی اسلامی تحریک اور طیب اردگان کی طرح کی راہ اختیار کرے اور الگ سیاسی پلیٹ فارم بنا کر عام آدمی کی الجھن دور کرے.

یہ بحث جماعت اسلامی کے اندر بھی جاری ہے کہ ہم کس طرح حکومت کی مسند پر پہنچیں، سوشل میڈیا نے اس بحث کو تیز کر دیا ہے. امید ہے 2018ء کے الیکشن کے بعد یا پھر 2023ء کے الیکشن کے بعد ہمیں نئی جماعت اسلامی نظر آئے گی. بصورت دیگر بہت سے اردگان پیدا ہوں گے.

Comments

عادل فیاض

عادل فیاض

عادل فیاض اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے میڈیا سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیاست، مذہب، کرکٹ، بحث و مباحثہ سے شغف رکھتے ہیں. مستقبل میں میڈیا کو اسلامائز کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.