اسلامی طریق زندگی اور آئین پاکستان - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

آئین پاکستان کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اسلام کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کے لیے سہولتیں مہیا کرے۔ حکومت پر آئین کے مطابق لازم ہے کہ وہ قرآن مجید کی تعلیم کو لازم قرار دیتے ہوئے قرآن مجید کو سیکھنے کے ساتھ ساتھ عربی زبان سکھانے کا بھی اہتمام کرے۔ وہ سیکولر لبرلز یا مغرب زدہ افراد جنھیں سورہ اخلاص پڑھنا نہیں آتی، اور قرآن مجید کی تعلیم کو لازم قرار دینے پر انھیں اعتراض ہے، ان کو چاہیے کہ کم از کم اپنے قائم کردہ اصولوں کے مطابق ہی آئین کے نفاذ کی بات کر لیں۔ اس مقام پر ہمارے معاشرے کی منافقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ ان رویوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اصل مسئلہ آئین یا جمہوری طریقے سے اسلام کا نفاذ نہیں بلکہ نفس اسلام ہے۔

آرٹیکل 31​
اسلامی طریق زندگی

1 - پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کے لیے اور انہیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جن کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔

2 - پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں مملکت مندرجہ ذیل کے لیے کوشش کرے گی:
(الف) قرآن پاک اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دینا ، عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اس کے لیے سہولت بہم پہنچانا اور قرآن پاک کی صحیح اور من و عن طباعت اور اشاعت کا اہتمام کرنا؛

وہ قوم جو توحید، رسالت اور قرآن مجید پر ایمان رکھتی ہو، دنیا کو آخرت کی کھیتی اور انسان کو عبد اور اللہ کا خلیفہ سمجھتی ہو اور خیر و شر کا تعین وحی الہٰی کی روشنی میں کرنے پر ایمان رکھتی ہو، اس کا نظام تعلیم اس قوم سے یکسر مختلف ہوگا جو وجود خدا کی منکر ہو، خیر و شر کا تعین عقل و خواہشات نفسانی کی بنیاد پر کرتی ہو اور حیات بعد الممات کی منکر ہو، کیونکہ ہمارے عناصر ترکیبی اقوام مغرب سے مختلف ہیں، اس لیے قوم رسول ہاشمی ﷺ کی امت کے نظام تعلیم کو ان پر ہرگز قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ اسلام کے اصولِ تعلیم طلبہ کی تعلیم و تربیت، تادیب اور تزکیہ پر زور دیتے ہیں جو طلبہ کی اخلاقی، روحانی، جسمانی، عقلی اور جمالیاتی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تعلیم کا مقصد اصلاح انسان اور اپنے عبد اور خلیفۃ اللہ ہونے کو معلوم کرنا ہے نہ کہ ریاست کی ترقی، پیداوار، مادی قوت کا حصول اور نفسانی خواہشات کی پیروی۔

قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور اس پر عمل پیرا ہونا فرض عین ہے، نبی کریم ﷺ کے فرائض نبوت میں سے تلاوت کتاب اور تعلیم کتاب کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو قرآن مجید کے سوا کسی اور شے میں ہدایت حاصل کرے گا، اللہ اس کو گمراہ کر دے گا اور جس نے اسے کسی جابر کے خوف سے ترک کیا، اللہ اسے توڑ دے۔ اہل پاکستان کو چاہیے کہ غیر ملکی طاقتوں سے بچنے کے بجائے اللہ سے لیے ہوئے وعدے کو پورا کریں۔

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */