سعودی عرب میں ایک اور تبدیلی - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

العربیہ نیٹ ورک کی خبر کے مطابق آج صبح جاری شاہی فرمان کے ذریعہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کو برطرف کر کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو نیا ولی عہد مقرر کر دیا ہے. رپورٹ کے مطابق شاہی Succession Council نے 35 میں سے 31 ووٹوں سے اس تبدیلی کی منظوری دے دی.

بادشاہی نظام میں ولی عہد کا عہدہ نہایت اہم ہوتا ہے، اور اس میں ہنگامی تبدیلیاں نہیں کی جاتیں کیونکہ وہ تسلسل کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ نظام پر تمام اسٹیک ہولڈر کے اعتماد کو بھی برقرار رکھتا ہے. اگر ولی عہد کا عہدہ دستبرد سے محفوظ نہیں تو اسے عدم استحکام اور محلاتی سازشوں کی علامت سمجھا جاتا ہے جس سے سب سے زیادہ بےچینی خود ان منصب داروں میں پھیل جانے کا خدشہ ہوتا ہے جو منصب کے عوض اپنی وفاداری بادشاہ کو پیش کرتے ہیں.

خود سعودی نظام میں موجودہ بادشاہ سے پہلے یہ مثال نہیں ملتی کہ ولی عہد کو اس کے عہدے سے ہٹایا گیا ہو، جبکہ محمد بن نائف کی برطرفی سے یہ اس دورِ حکومت میں دوسرا ایسا واقعہ ہے. اس سے قبل شاہ سلمان اپنے دور حکومت کے اوائل میں شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کو اس عہدے سے معزول کر چکے ہیں. شہزادہ مقرن کے مستقبل سے متعلق پہلے سے شکوک و شبہات چلے آتے تھے کیونکہ شاہی خاندان میں ان کو کچھ خاص پذیرائی حاصل نہیں تھی، جبکہ محمد بن نائف کا معاملہ مختلف ہے. وہ سابق ولی عہد شہزادہ نائف بن عبدالعزیز کے صاحبزادے اور شاہ سلمان کے سگے بھتیجے ہیں. شاہ سلمان اور محمد بن نائف کے والد برادران سدیری میں شامل ہیں. یہ وہ بھائی ہیں جو شاہ عبدالعزیز کی زوجہ بنت امام احمد سدیری کے بطن سے پیدا ہوئے اور یہ شاہی خاندان میں سب سے مضبوط گروپ سمجھے جاتے تھے.

اس حوالہ سے موجودہ تبدیلی معمولی نہیں. سکسیشن کونسل سے بھاری اکثریت سے منظوری کے باوجود شاہی خاندان اس ارتعاش سے محفوظ نہیں رہ سکے گا کیونکہ اب اس کے سب سے مضبوط دھڑے میں بھی دراڑیں نظر آنے لگی ہیں.

دوسری جانب شہزادہ محمد بن سلمان کی ولی عہد کے عہدے پر اس عجلت میں ترقی کچھ اور ”انہونیوں“ کا باعث بن سکتی ہے. شہزادہ محمد کی امریکہ کے ساتھ قربت ڈھکی چھپی نہیں اور نہ ہی ان کا جنگوں میں کودنے کا شوق کوئی راز ہے. شاہ سلمان ضعیف بھی ہیں اور ان کی صحت بھی اچھی نہیں رہتی. اب اگر کسی طبی و دیگر وجہ سے شاہ سلمان بھی اپنے عہدے پر کام جاری نہیں رکھ پاتے تو محمد بن سلمان آل سعود کی تیسری نسل سے پہلے بادشاہ ہوں گے، اور لگ بھگ ایسے بادشاہ جو پراسیس کی کڑیاں توڑ کر شارٹ کٹ سے اقتدار میں آئے. یہ بات انھیں مستقل طور پر کسی بیرونی سہارے کا محتاج بنا کر رکھے گی.

ممکنہ اندرونی مزاحمت کے خلاف اور بیرونی محاذ پر ان سے خاصے جارحانہ طرز عمل کی توقع کی جا سکتی ہے. آنے والے چند ہفتے بہت اہم ہوں گے. پاکستان کے لیے بھی ان دنوں روز کی بنیاد پر ابھرنے والے خارجہ پالیسی چیلنجز میں ایک اور چیلنج کا اضافہ سمجھیے.

اس وقت اس کثیرالملکی فوجی اتحاد کے حوالہ سے ایک مرتبہ پھر بہت سے سوالات اٹھ سکتے ہیں جو کہ شہزادہ محمد بن سلمان کے ایماء اور کوششوں سے وجود میں آیا. تاہم اس بار یہ سوال اس اتحاد کے سعودی عرب کے داخلی معاملات میں استعمال سے متعلق ہوگا.

ان حالات میں جنرل راحیل شریف صاحب کو ایک ہی مشورہ دیا جا سکتا ہے. جس طرح ہمارے ہاں معاملات مشکل ہونے لگتے ہیں تو لیڈر حضرات عمرہ کے لیے سعودی عرب تشریف لے جاتے ہیں، جنرل صاحب عید کرنے پاکستان آ جائیں!

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com