کچھ ہوش رُبا کہانیاں، اک جادوگر قوم کی - حافظ یوسف سراج

کیا قوم ہے یہ! ہر میدان میں دنیا کو دنگ کردینے والی ناقابلِ یقین قوم! مرنے کے لمحات میں جی اٹھنے اور مشکلات کی بھٹی سے سونے کی طرح دمک اٹھنے والی قوم۔ ستائیس رمضان کوالگ ملک کے حصول کامرحلہ ہو، بیس رمضان میں بانوے کے ورلڈ کپ کی جیت ہو یا پچیس سال بعد تیئسویں شبِ رمضان میں چیمپینز ٹرافی کی تاریخی فتح کا معاملہ۔ اس قوم کی یہی کہانی ہے۔ یہ تو خیر کھیل کی اک عارضی خوشی اور علامتی جیت تھی۔ اس قوم کی کامرانی کے حتمی رہنما نبی آخرالزماں کے نقشِ قدم بھی یہی ہیں۔ اپنی تاریخ کی پہلی جنگ میں آپ اترے تو کہانی مختلف نہ تھی۔ رمضان کا مہینہ اور ادھر ابو جہل سا کمینہ۔ جو آلات ِناؤ نوش، سامانِ رقص و سرود اور فتح کے ترانوں پر تھرکنے والیاں ساتھ لایا تھا۔ اس کو اپنی فتح کا ایسا ہی یقینی نشہ تھا، اور کیوں نہ ہوتا؟ ادھر کل دو گھوڑے، ستر اونٹ اور غرقِ آہن ہزار سورماؤں کے مقابل محض تین سو تیرہ نہتے اور بےوطن لوگ تھے، جن کے پاس اگر کچھ تھا تو لبوں پر دعا اور دلوں میں ایمان کا بس اک دیا جلتا تھا۔ نتیجہ پھر یہ نکلا کہ تکبر قبر میں دفن ہوا اور ایمان کی واشگاف فتح ہمیشہ رہنے والی قرآنی آیات کی دائمی تلاوت ہوگئی۔

ٹورنامنٹ میں ٹیم اتری تو کرکٹ کے ناخداؤں کے نزدیک یہ آٹھویں درجے کی ٹیم تھی۔ انڈیا تمسخر اڑاتا تھا کہ وہ فائنل انگلینڈ سے کھیلنا چاہے گا کہ پاکستان جیسی کمتر ٹیم سے کھیلنا اس کے شایانِ شان ہی نہیں۔ تاریخ مگر اب یہ ہے کہ کرکٹ کے سورما تاریخی زخم چاٹتے ہیں اور آٹھویں درجے کی ٹیم اجتماعی سجدے سے اٹھتی ہے تو چیمپئنز ٹرافی اس کے ہاتھوں میں لہراتی ہے۔ کرکٹ ہی کیوں، اخلاص و جدجہد سے یہ قوم جس میدان میں بھی اتری، کامیابی کے اس نے جھنڈے گاڑے اور دنیا کو اپنے بارے یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ پاکستانی قوم ناقابلِ یقین اور ناقابلِ پیشین گوئی قوم ہے، یعنی unpredictable!

کوٹ رادھا کشن سے بھٹے میں جلتے غیر مسلم کنبے کی خبر نے تو پوری دنیا کو متوجہ کر لیا تھا۔ اب مگر یہ عاجز خبر دیتا ہے کہ دنیا کو اسی کوٹ رادھا کشن سے اک پاکستانی طالب علم کی حیران کن جیت کا استقبال بھی کرنا ہوگا۔ یہیں کے سکول کے استاد اور مسجد کے امام کے عینک لگے نوعمر بیٹے نے لاہور یونیورسٹی کے اساتذہ کی زیرِنگرانی دنیا میں اپنی طرز کا پہلا بےمثل کارنامہ کر دکھایا ہے۔ دنیا میں آج تک جتنے روبوٹ تیار ہوئے، ان کے ہر جوڑ اور ہر موڑ پر ایک موٹر استعمال کرنا پڑی۔ تاہم حافظ عبدالمنان کے بیٹے عبدالحنان نے ایسا پہلا روبوٹ تیار کر دکھایا ہے، جس میں سرے سے کوئی موٹر استعمال ہی نہیں ہوئی اور جسے ہوا دیتے صرف ایک پمپ کی توانائی ہی کافی ہے۔ انسانی جسم کے قانون پر بنایا گیا یہ روبوٹ انسانی جسم ہی کے مطابق عمل کر سکتا ہے۔ ایک غریب گھرانے نے اپنے بیٹے کے خواب کے لیے پیٹ کاٹ کر جیسے تیسے وسائل مہیا کیے اور یوں یہ نوجوان اپنے دماغ میں پلتے خواب کو چلتا پھرتا وجود دے سکا۔ عدمِ وسائل کی بنا پر البتہ ڈھانچے میں جہاں دھات ہونا چاہیے تھی، وہاں وہ لکڑی استعمال کر سکا ہے۔ دھات سے اگر یہ روبوٹ وجود پا سکا تو سول ہی نہیں فوجی مقاصد کے لیے بھی لاجواب چیز ہو سکنے کا امکان ہے۔ تب انسان اس کی دوڑ کا مقابلہ نہ کر سکے گا اور یہ ہاتھ پکڑ لے تو ہاتھ ٹوٹ جائے، پر اسکی مرضی کے بغیر چھڑایا نہ جا سکے۔ عبدالحنان نے اسائنمنٹ لی تو کئی ایک نے اس طالبعلم کا تمسخر اڑایا، اب مگر وہ بھی چاہتے ہیں کہ اس اسائنمنٹ کے سپروائزروں میں ان کا نام لکھ دیا جائے۔ عینک کا نمبر بڑھ گیا تھا، وہ بنوانے گھرگیا تو انتظامیہ نے بغیر اطلاع دیے اس کی امتحانی ڈیٹ شیٹ بدل ڈالی ، کوئی عذر نہ سنا گیااوراسے پورا سمیسٹر تازہ فیسیوں کے ساتھ از سرِ نو پڑھنا پڑا۔ اب مگر سنا ہے یونیورسٹی اس کا روبوٹ میوزیم میں رکھنے اور اسے اخراجات کی مد میں کچھ دینے کا بھی سوچ رہی ہے۔

سلیمان احمد کے مقصدِ زندگی، ٹائم لینڈر نامی پاکستانی ادارے نے ویژن کی دنیا میں پاکستان کے تمام قابلِ ذکر سول اور ملٹری اداروں میں اپنی ورکشاپس کی دھوم مچا رکھی ہے۔ یہ زندگی کا دھارا بدل دینے والے لوگ ہیں۔ کامران زاہد اسی ادارے کے ایک ہونہار ٹرینر ہیں۔ کراچی میں وہ اپنا نیچرل اجزا سے لائیو اور ہائی جینیک آئس کریم بنانے کا کامیاب برانڈ متعارف کروا کے میڈیا اور عوام کی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ انھوں نے ڈیٹا سائنس کے عالمی جادوگر اک اور پاکستانی ذیشان الحسن عثمانی کا تعارف کروایا۔ ناول کے انداز میں لکھی جن کی سوانح آدمی کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ یہ نوجوان انٹرنیٹ ڈیٹا کا ایسا سائنٹفک تجزیہ و تحلیل کرتا ہے کہ ماضی کی معلومات کے تناظر میں مستقبل کے دو ٹوک نتائج کسی نجومی کی طرح کاغذ پر لکھ دیتا ہے۔ اس موضوع پر سی این این اس کی رائے حتمی مانتا ہے۔ سی این این پر انٹریو کرنے والی خاتون کو ا س نے چیلنج کیا کہ اگر اس کا ادارہ یہ انٹرویو منگل کے دن نشر کرے تو سوشل میڈیا پر اسے کل کتنے لائکس اور کتنے شئیر ملیں گے۔ منگل ہی کو انٹرویو نشر کیا گیا تو اس پاکستانی کا چیلنج ناقابلِ چیلنج نکلا۔ حیرت انگیز طور پر ایک بھی عدد کم تھا نہ زیادہ ۔آف دی ریکارڈ اس نے خاتون کو بتایا کہ تمھاری وارڈ روب میں فلاں فلاں برانڈ کے کپڑے لٹکے ہونے چاہییں اور یہ سن کر حیرت سے خاتون کا منہ لٹک گیا۔

محترمہ روبی زاہد صاحبہ ہیروں اور زیورات کے ایک نامی انٹرنیشنل برانڈ کی پاکستانی مالکہ ہیں۔ محترمہ نگہت ہاشمی صاحبہ کے ادارے ’النور انٹرنیشنل‘ کے توسط سے انھیں رمضان میں اپنے سٹاف کے لیے فہمِ قرآن کی خاطر عالم درکار تھا۔ ایک نجی ٹی وی کے ساتھ وابستگی کے باعث اس خاکسار سے بھی مشورہ ہوا۔ عرض کی کہ سورہ ٔحجرات مختصر ہے اور معاشرتی مسائل کا احاطہ کرتی ہے، ’’مگر سورۂ آلِ عمران کیوں نہیں، کہ اس میں نیکی کی حقیقت آشکار ہوئی ہے؟‘‘ سونے کی تاجر خاتون سے یہ جواب سن کر اب تک اس قلمکار کی حیرت تازہ ہے۔ ’النور انٹرنیشنل‘ کی کاوش کو سلام پہنچے کہ تفہیم ِقرآن کے میدان کی ٹرافی یہ ادارہ جیت چکا۔ اب یہ لوگ اے لیول اور او لیول سطح کی تعلیم مفت فراہم کرنے کے مشن پر ہیں۔ تجرباتی سکول کام شروع کر چکے ہیں۔ اگر یہ ہوجاتاہے تو سوچیے کیسا شاندار تعلیمی انقلاب یہ قوم دیکھ سکے گی! گویا تعلیمی میدان میں ڈاکٹر امجد ثاقب کی اخوت جتنا بڑا کام ہو سکے گا۔ سود کے خلاف ڈاکٹر امجد ثاقب کے عملی جہاد کو یہ خاکسار پاکستان کے اس عہد کا سب سے بڑا کام سمجھتا ہے۔ خواتین میں فروغِ قرآن کا ایسا ہی ایک ادارہ محترمہ فرحت ہاشمی صاحبہ کا الہدیٰ انٹرنیشنل بھی ہے۔ نجی ٹی وی کی رمضان ٹرانسمیشن میں لاہور کے حفظ القرآن کے ایک ادارے دارالہدیٰ سے بچے آئے۔ حفظ نہیں، انسانی صلاحیت کا کوئی جادو تھا، جو یہ بچے جگا رہے تھے۔ پورے قرآن سے آپ کوئی آیت سوچ لیں۔ دو سے تین ٹپس آپ سے لے کر آپ کی سوچی آیت یہ بچے فرفر سنا دیتے تھے۔ اخوت، کاروان ِ علم فاؤنڈیشن، غزالی ٹرسٹ، الخدمت فاؤنڈیشن اور انڈس ہسپتال وغیرہ کی خدمات پر سجاد میر اور عامر ہاشم خاکوانی صاحبان جیسے جید لکھاری بجا لکھ چکے۔ فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کسی بھی حادثے میں سب سے پہلے پہنچنے کا ریکارڈ اور اعزاز رکھتی ہے۔ قدرتی حادثات میں مرکزی جمعیت اہلِ حدیث نمود کے بجائے چپکے سے کام کرنے کی خو رکھتی ہے۔ لاہور چوبرجی میں موجود اسحاق ہارون ہسپتال کی سستی اور معیاری خدمت کو اس خاکسارنے بچشم ِخود دیکھا اور منو بھائی نے اس پر کالم لکھے۔ لاہور شادباغ میں محمدی آئی ہسپتال ٹرسٹ چند روپے کی پرچی کے عوض دنیا کی جدید ترین مشنیوں پر آنکھوں کے جملہ امراض کے لیے عالمی میعار کی ساری خدمات مفت فراہم کرتا ہے۔

دیکھنے والی آنکھ چاہیے، کرکٹ ہی نہیں، جیت ہر میدان میں اس قوم کا مقدر اور شعار ہے۔ چنانچہ قوم کی نہیں، دراصل اپنی زندگی سے مایوس لوگوں کو کوئی چیخ کے بتائے۔ یہ ہے پاکستان اور یہ ہے پاکستانی قوم۔ یہ قوم ایسی ہی ہے، ہارنے کی پوزیشن میں جیتنے اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے زندگی جینے والی قوم۔ زندہ اور پائندہ قوم!

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.