"پانامہ فوبیا"، حقیقی مسائل پر توجہ کی ضرورت - پروفیسر جمیل چودھری

آج کل سیاستدانوں،دانشوروں،کالم نگاروں اور اینکرز کی توجہ صرف اور صرف 'پانامہ لیکس' پر ہے اور اسی کو قوم کا سب سے اہم مسئلہ بنا لیا گیا ہے۔دن میں جب اس کیس کی معمولی سی پیش رفت ہوتی ہے تورات گئے تک اس پر تبصرے جاری رہتے ہیں۔تحقیقی صحافت کرنے والے ہمارے بہت سے دوستوں کی صلاحیتیں بھی اسی کام میں صرف ہورہی ہیں۔اگر کوئی ایک گواہ جے آئی ٹی میں پیش ہوکر باہر نکلتا ہے تو فوراً صحافی اور اینکر پر سنز قیاس کے گھوڑے دوڑانا شروع کردیتے ہیں۔ٹی وی دفتر میں بیٹھے ہوئے اینکرز باربار اپنے فیلڈ رپورٹرز سے کرید کرید کر نئی بات اگلوانے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔ یہ فقرہ تو اکثر اینکرز بول رہے ہوتے ہیں۔"پھر اور کیا کہا ہوگا؟"

جے آئی ٹی کی تمام تحقیقات مکمل طورپر خفیہ ہیں لیکن اینکرز ان خفیہ تحقیقات سے کچھ نیا معلوم کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔ریٹنگ بڑی مجبوری بن گئی ہے۔ ملک اور قوم کا مفاد اور سچ اس ریٹنگ کی نظر ہورہے ہیں۔پاکستان کے تمام اہم قومی مسائل اس وقت پس پشت ہیں۔یہ کام اس ملک کے اینکرز اور میڈیا پرسنز کررہے ہیں جو اس وقت مشرق اور مغرب دونوں طرف سے دشمنوں سے گھرا ہوا ہے۔حالات دن بہ دن بگڑتے جارہے ہیں۔مشرقی سرحد پر تو ہروقت خون بہتا رہتا ہے۔ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ گزرگیا ہے کہ بھارت لگاتار سرحدی خلاف ورزیاں کررہا ہے اور اب تک سینکڑوں شہری اور فوجی شہید ہوچکے ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارت کسی بڑی کاروائی کے لئے پر تول رہا ہے۔ مغربی سرحد پر گرما گرمی جاری ہے۔ابھی3 دن پہلے کرم اور مہمند ایجنسیوں کے اس پار سے حملے کئے گئے۔ہنگو میں ڈرون حملہ چند دن کی بات ہے اور ایرانی آرمی چیف کا بیان ہم ابھی تک نہیں بھولے۔

لیکن ہم پاکستانی پانامہ کیس میں اتنے گم ہیں کہ سرحدوں پر بگڑتے ہوئے حالات پر کسی کی بھی نظر نہیں ۔ جس ملک کے چار میں سے تین پڑوسی ہروقت مسائل پیدا کریں۔اس ملک کو ان پڑوسیوں سے اچھے تعلقات کی کو ششوں کی طرف سب سے زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ہمارے دانش وروں اور دفاعی ماہرین کو اس پر کھلی بحث کرنی چاہیے کہ ان درپیش چیلنجز سے پاکستان کیسے نپٹے؟

پانامہ کیس یا دیگر مقدمات کو سپریم کورٹ میں چل رہے ہیں۔یہ تمام کے تمام سیاسی معاملات ہیں جن میں ججز اور وکیل اپنا کام کررہے ہیں۔کیس نے جب مکمل ہونا ہے، اس وقت ہی سب کو پتہ چل جانا ہے۔ قیاس کے گھوڑے دوڑانے سے نہ یہ کیس پہلے ختم ہوگا، نہ ہی لکھنے اور بولنے والے کی مرضی فیصلے میں شامل ہوگی۔لہٰذا انہیں زیادہ ہلکان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

2014ء سے وزیر اعظم نواز شریف پر استعفے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان چالوں کا مخالفین سے زیادہ ادراک خود نواز شریف کو ہے ہے۔جمہوریت میں بیان بازی تو جاری رہتی ہے، اس سے رونقیں بھی نظر آتی ہیں۔جلسے، جلوس ریلیاں اور پریس کانفرنسز سے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں ہرایک کو بولنے کی آزادی ہے لیکن جس ملک کی سرحدوں پر دشمن نے ہروقت بندوقیں ہماری طرف سیدھی کی ہوئی ہوں، توپ خانہ گولا باری میں مصروف ہو تو اس طرف توجہ دینا بھی انتہائی ضروری ہے۔

پاکستان دنیامیں واحد ملک ہےجس کے چار میں سے تین پڑوسی ہر وقت کوئی نہ کوئی مخالفانہ کاروائی جاری رکھتے ہیں۔بھارت تو ہمارا پیدائشی دشمن ہے۔کشمیر کی موجودہ uprisingان کی اپنی ہے۔پاکستان کا اس میں کوئی حصہ نہ ہے۔اب تو لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین جیسی تنظیموں پر پابندی لگ چکی ہے۔پاکستان کی طر ف سے کوئی مدد وہاں نہیں کی جاسکتی لیکن بھارت غصہ نکالنے کے لئے گو لہ باری ہماری ہی طرف کرتا ہے۔پاکستانی افواج مشرقی سرحد پر ہر وقت ہائی الرٹ میں رہتی ہیں اور افغان باڈر پر بھی ہروقت کوئی نہ کوئی کارروائی اس پار سے جاری رہتی ہے۔بھارت کے دباؤ کی وجہ سے افغانستان کی دشمنی کامعیار بھی اب کسی بھی طور پر بھارت سے کم نہیں رہا۔

پاکستان کے لکھنے اور بولنے والوں کی صلاحتیں اس طرف بھی استعمال ہونی ضروری ہیں۔ہروقت 'پانامہ پانامہ' بولتے رہنا قومی مفاد میں ہرگز نہ ہے۔اس کیس کا نتیجہ تو6جولائی کے بعد جو بھی آنا ہے آجائے گا۔فیصلہ دانشوروں اور کالم نگاروں نے تو کرنا نہیں۔نہ ہی فیصلہ لکھتے وقت بولتے اور لکھتے ہوئے انسانوں کا مشورہ کام آنا ہے۔بہتر یہی ہے ادھر وقت صرف کرنے کی بجائے قوم کو درپیش حقیقی مسائل کی طرف توجہ دی جائے۔

کہتے ہیں کہ قلم دودھاری تلوار ہوتا ہے، تو ذرا اس کا رخ سرحدوں کی طرف بھی کریں تاکہ ادھر موجود دشمن بھی آپ کے قلم سے اور زبان سے خوف محسوس کرے۔سرحدوں پر درپیش لاینحل مسائل کا کوئی ایسا حل تجویز کریں جس سے پاکستان پر دباؤ میں کمی آئے۔آپ کی دانش اور منطق کا کوئی اثرافغانیوں پر بھی ہو۔حکومت پر بھی دباؤ ڈالیں کہ افغانستان سے زیادہ سے زیادہ تبادلہ خیال کیاجائے۔افغانیوں کے تحفظات دور کئے جائیں۔حکمرانوں کو سعودی عرب کے زیادہ دوروں کی بجائے افغانستان کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔یہاں اگر حقانی نیٹ ورکس کی باقیات موجود ہیں تو انہیں یہاں سے بھگا دیاجائے۔کچھ اپنی سنوائیں اور کچھ جائز بات ان کی بھی مانی جائے۔اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کو اپنا رخ افغانستان کی طرف کرنا ضروری ہے۔پاکستان میں موجود تھنک ٹینکس بھی افغان مسٔلہ پر توجہ دیں۔جب پوری قوم کی توجہ افغان بارڈر پر ہوگی۔ افغانیوں سے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر مذاکرات ہوں گے تو کچھ نہ کچھ اثر تو افغانیوں پر ہوگا۔اور یوں اس سرحد پر ہونے والی آئے دن کی خونریزی رکے گی۔وہ جو افغان حکمران کابل میں حملہ ہونے کے فوراً بعد پاکستان پاکستان کی گردان شروع کردیتے ہیں، اس کا رکنا ضروری ہے۔پاکستان اور افغانستان جس کے درمیان2ہزار کلومیٹر کی سرحد ہے۔ان کے درمیان پڑوسیوں جیسے نارمل تعلقات کا ہونا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔یہ تو کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ چند دنوں کے بعد طورخم اور چمن کے بارڈر بند ہوجاتے ہیں۔تجارتی مال کا بڑا نقصان ہوتا ہے۔مذاکرات ہوتے ہیں اور پھر یہ بند گیٹ کھلتے ہیں۔باربار ان سرحدی گیٹوں کابند ہونا اور کھلنا مذاق سابن کر رہ گیا ہے۔

قوم کو ایران اور ایرانی سرحد کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ایران کے ساتھ تو کوئی سرحدی جھگڑا بھی نہیں ہے۔سرحدی مسائل تو صدرایوب کے زمانے میں ہی مستقل طورپر حل ہوگئے تھے۔ایران سے پاکستان کے تعلقات ایسے ہوں جیسے شاہ رضا شاہ پہلوی کے زمانے میں تھے۔تب پاکستان اور ایران کی دوستی مثالی تھی۔1965ء کی جنگ میں ایران پاکستان کے ساتھ کھڑا تھا۔اور جب پاکستان پر اسلحہ خرید کی پابندیاں لگیں تو یہ ایران ہی تھاجس نے پاکستان کو جرمنی سے طیارے خرید کردیئے تھے۔اب تو پاکستان میں سنی اور شیعہ مسٔلہ بھی دب گیا ہے۔مسٔلہ پیدا کرنے والے بہت سے دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔دونوں مسلک کے لوگ ایک دوسرے کا احترام کررہے ہیں۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی سطح پر دونوں کے تعلقات بڑھیں۔دانشوروں اور کالم نگاروں کو اس پر بھی گفتگو کرنی چاہیے۔وہاں صدرروحانی دوبارہ کامیاب ہو گئے ہیں۔اب ضروری ہے کہ نواز شریف ایران کا رخ کریں۔باقی ڈپلومیٹس کے دورے بھی ضروری ہیں۔ایران کو بھی پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی اشد ضرورت ہے۔اب اینکرز،کالم نگاروں اور دیگر رائے بنانے والوں کو ایران کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے کی طر ف زیادہ توجہ دینی ضروری ہے۔مودی نے ایران کے دورے کرکے اپنے جواثرات ایران پر ڈالے ہیں ان اثرات کو ختم کرانا پاکستان کے لئے ضروری ہے۔ایران کو سی پیک کا حصہ عملاً بنایا جائے۔چاہ بہار اور گوادر کو سسٹرز سٹیز قرار دیا جائے۔ایسی صورت بنے کہ دونوں بندرگاہیں ایک دوسرے کے لئے مددگار ثابت ہوں۔مغربی روٹ توگزرتا ہی افغانستان اور ایران کے ساتھ ساتھ ہے۔اس روٹ کے فوائد وثمرات پاکستان کے ساتھ ساتھ افغانستان اور ایران کو بھی محسوس ہوں۔چین جیسے بڑے ملک سے تجارتی فوائد ایران بھی اٹھانا چاہتا ہے۔

اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ صحافیوں اور اینکرز کو اپنی قلم اور زبان کی جولانیاں ان دونوں سے بہتر تعلقات کے لئے استعمال کرنی چاہئیں۔اگر بھارت جنگ کی کوئی بڑی کارروائی کرتا ہے تو ہمارے ان دونوں پڑوسیوں سے اچھے تعلقات ہوں۔ہمیں ادھر سے کوئی خطرہ نہ ہو۔دونوں ملکوں پر بھارتی اثرات کا بڑھنا پاکستان کے لئے انتہائی خطرناک ہوگا۔اگر مشرق اور مغرب دونوں اطراف دشمن ہی دشمن ہوں تو پاکستان کی حیثیت تو Sandwitchکی بن جائے گی۔

پاکستانی قوم کے دماغوں کو موجودہ حکمرانوں پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ سرحدی صورت حال کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لائیں۔قوم کو پانامہ کے بخار سے نکل کر حقیقی مسائل، جن میں اہم ترین سرحدی مسائل ہیں، کی طرف توجہ دینی چاہیے۔اس کے علاوہ کیا پاکستان میں تعلیمی مسائل تمام کے تمام حل ہوگئے ہیں؟ کیاغربت ختم ہوگئی ہے؟ اور30 فیصد لوگ جو خط غربت سے نیچے تھے اب خوشحال ہوگئے ہیں؟ صحت کے شعبے اور معیشت کے مسائل شدید ہیں ، اس لیے قوم کے دانش وروں کو پانامہ فوبیا سے نکل کر ان حقیقی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */