چالیسواں سال- عائشہ اسحاق

وه مٹی کے گھڑے کو تھامے بیٹھی پانی بھر رہی تھی۔ ہلکی ہلکی بارش اور فضا کو معطر کر دینے والی نمی بہت بھلی معلوم ہوتی تھی۔رات کے وقت ابر کا طوفان گزرنے کے بعد کالے پہاڑ ہیبت کا منظر پیش کر رهے تھے۔

ابھی کچھ دن پہلے ہی ان کی پانی کی لائن میں مسئلہ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اس کا پورا خاندان پانی کے مسئلے سے دوچار تھا۔ وه اس گھرانے کی بہو تھی اس لیے کشمیر کے پہاڑوں کی روایتی رواج کے مطابق سب کی ضرورتوں کو بخوشی پورا کرنا اس کا فرض تھا اور اسی فرض میں وه جتی ہوئی تھی۔ پہاڑی علاقوں میں گھروں کے اوپر ٹین کی ڈھلوانی چھت ڈالی جاتی ہے اور اس کے کناروں پر لگی نالی کی مدد سے بارش کا پانی ذخیره کیا جا سکتا ہے جو ایسی ہی کسی صورتحال میں استعمال ہوتا ہے جس سے "فرزانہ" گزر رہی تھی۔

گاگر اور بالٹیاں بھرنے کے بعد اب وه مٹی کی گھڑے کو بھرنے میں مشغول تھی۔ آندھی کا زور ٹوٹ چکا تھا ۔ ننھے منھے قطرے کبھی اٹکھیلیاں کھاتے تو کبھی کالے بادلوں کی گرج سے سہم کر ہوا کی آغوش میں چھپ جاتے تھے۔

آج وه کتنے سالوں بعد تنہا خاموشی میں بیٹھی تھی، جہاں بھرتے ہوئے گھڑے کی جھنکار، دُور افق پر پڑتی سرخی مائل بجلی اور اس کے علاوه کوئی موجود نہیں تھا۔ نالی میں پانی کم ہو گیا تھا لیکن وه چاہتی تھی کہ پیاس کا یہ آخری پیمانہ بھی تشنہ نہ رہے۔

وه ستره سال کی تھی جب اس گھر میں آئی۔ تب سے لے کر اب تک کتنی بہاریں اس نے دیکھی تھیں ؟ سب چھوٹے بڑے اسے بھابھی کہہ کر بلاتے تھے یہاں تک کے اس کے اپنے بچے بھی۔وه بہت خوش و خرم زندگی گزارتی رہی لیکن ازدواجی زندگی کے ان بائیس سالوں میں کبھی اسے ایسی خاموش تنہائی محسوس نہیں ہوئی جیسی اس نے آج محسوس کی تھی۔ نجانے کیوں آج اس کے ذہن میں یہ سوال بھٹک رہا تھا کہ اتنے سالوں میں اس نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ جبکہ اسے کوئی پریشانی لاحق نہ تھی۔تین بچوں اور خیال رکھنے والے شوہر کے ساتھ وه مطمئن تھی۔انہی سوچوں میں مگن تھی کہ بجلی کا ایک آواره سپاهی قریب کے پیڑ پر لپکا۔اس کے ارد گرد ماحول کچھ یوں روشن ہوا تھا جیسے رات کے اندھیرے میں آسمان سے کوئی فرشتہ اسرار و رموز کھولنے آیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا زندگی جینا مشکل لگ رہا ہے؟ 5 آزمودہ باتیں - میاں جمشید

اسکا دھیان بھٹک کر اپنے بچوں پر گیا جو اس سے کچھ دیر پہلے کھانے کی طلب کر رہے تھے۔وه گھڑا اٹھائے بغیر ہی باورچی خانے کی طرف بڑھی۔مٹی کے چولہے میں لکڑیاں ڈال کر آگ لگائی اور چھوٹی چھوٹی گول روٹیاں ڈالنے لگی۔اس کی سوچوں میں آج طلاطم تھا۔ اب کی بار اس کا دھیان آگ نے کھینچا تھا۔

"یہ آگ بھی کتنی طاقتور ہے؟ کیسے آنکھوں کو خود پر مرکوز کروا دیتی ہے؟ کیسے انسان کو اپنی طرف کھینچنے لگتی ہے؟ کبھی پیٹ کی آگ، کبھی مال کی، کبھی اولاد کی محبت کی۔ لیکن ان سب نظر آنے والی آگوں کی نسبت وه اَن دیکھی آگ سبقت لے جاتی ہے، تبھی تو انسان سر پر پیر رکھ کر اس کی طرف بھاگے جا رہا ہے، اَن دیکھی ہے پھر بھی۔ہاں! اَن دیکھی ہے نا تبھی بھاگ رہا ہے، اگر دیکھ لیتا تو خوف سے اپنی آنکھیں نوچ لیتا۔ نام بھی تو کتنا خوفناک ہے، جہنم کی آگ!"

اس نے دیسی گھی میں ڈوبی روٹیاں اپنے بچوں کی طرف بڑھائیں اور اُن کو دیکھنے لگی۔"کتنی
محنت سے پالا تھا ان کو ، کتنے ناز اٹھائے تھے اپنے دُلاروں کے؟ اپنی ذات کو تو وه بھول ہی گئی تھی اور ہاں شاید ایک اور "ذات" کو بھی۔" اسے سوچ کر جھرجھری آ گئی "کتنی نمازیں پڑھی تھیں اس نے؟ شاید ہر رمضان میں یا ہر جمعہ کو؟" ایک اور جھرجھری۔ سر جھٹکنا کتنا اچھا فرار ہے نا؟ اس پل اُس نے بھی فرار کا یہی راستہ اختیار کیا۔ وه خود کو الجھانا چاہتی تھی تا کہ ان سوچوں سے آزادی مل سکے۔پھر گھڑے کی یاد آئی تو کی اس کی طرف دوڑی، لیکن آدھا گھڑا دیکھ کر افسوس کرتی ره گئی۔ جیسے ساری زندگی ہم ادھ بھرے گھڑے کو دیکھ کر افسوس کرتےپیاسے ره جاتے ہیں۔

سر پر گھڑا رکھ کر وه منڈیر تک آئی ہی تھی کہ آناً فاناً ایک چھناکے کے ساتھ مٹی کا گھڑا اور مٹی کا وجود ڈھیر ہوگیا۔تکلیف کی شدت سے اس نے آنکھیں کھولیں تو اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔اس خاکی وجود کے گرد اس کے اپنوں کا ہجوم تھا اور بچے اس کے شوہر کے ساتھ لپکے سسک رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   زندگی ایک لمحہ فکریہ - بشارت حمید

اسے سمجھنے میں دیر نهیں لگی کہ ایک پل میں کیا ہوا تھا؟ اسے آسمان کی طرف کھینچا جا رہا تھا۔ اس نے بدحواسی میں چیخنا شروع کیا ۔وه جان چکی تھی کہ اس دنیا کا ہر رشتہ اس سے دور ہو رہا ہے، جن لوگوں کو اس کے بغیر رہنے کی عادت نہیں تھی وہ اب اسے مٹی کے نیچے دبانے والے ہیں۔ کچھ گھنٹوں بعد دوسری دنیا کا حساب شروع ہوگا جس کی اُس نے تیاری نہیں کی تھی۔"مجھے تھوڑی مہلت اور دے دو! اتنی جلدی کیوں لے جا رہے ہو؟" خوف سے اس کے الفاظ لڑکھڑا رہے تھے۔اسے انتالیس سال کی مہلت ملی تھی اور وه مزید ایک سال کی خواہش مند تھی۔"چالیس سال کی ہو جاتی تو بچوں کی فکر کم ہو جاتی، کہ وه بڑے ہو گئے ہیں۔ میں، میں توبہ کر لوں گی، مجھے معافی مانگنے کا ایک اور موقع دے دو، سنو ! سنو!!!"

مگر شنوائی نہیں ہوئی۔ وه تڑپنے لگی ۔ اب اس کے ہاتھ افسوس کے سوا کچھ نہ تھا۔آخری سوچ جو اس کے لرزتے وجود نے سوچی، وه یہی تھی کہ "انسان چالیسویں سال کے انتظار میں اپنی ساری زندگی ضائع کر دیتا هے۔ بعض اوقات اسے احساس هو جاتا هے اور بعض اوقات وه اتنی دیر کر دیتا هے کہ عمر کے انتالیس سال چٹکی میں گم ہو جاتے ہیں اور توبہ کے سبھی دروازے کبھی نہ کھلنے کے لیےبند ہو جاتے ہیں۔"

اس کے انتالیس سال بھی چٹکی میں اُڑ چکے تھے۔