تبصرہ کتاب: حُبِ رسولؐ اور فکر اقبال - اشرف لون

علامہ اقبال نہ صرف ایک بڑے شاعر ہیں بلکہ بحیثیت ایک مفکر اور دانشوربھی ان کا ایک اونچا مقا م ہے۔شاعری ہو یا نثر دونوں میں انہوں اپنے زریں خیالات چھوڑے ہیں اور قوم کو قوت عمل اور صحیح دین کی دعوت دی ہے۔مغربی اور مشرقی علوم پر اُ ن کی گہری نظر ہے۔اقبال نے جہاں مغربی افکار کو تنقید کی کسوٹی پر رکھ کر پرکھا اور جہاں انہوں نے بیشتر مغربی چیزوں کی نکتہ چینی کی وہیں انہوں نے مغرب کی باعمل اور جدوجہد سے بھری زندگی کی تعریف بھی کی۔ انہوں نے بارہا اس امر پر زور دیا کہ ہمیں مغرب سے اچھی چیزوں کو ہی لینا چاہیے جس سے ہماری شناخت پر کوئی حرف نہ آئے۔

ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی دھیرے دھیرے ، بالخصوص جموں وکشمیر میں، اپنا منفرد مقام بناتے جارہے ہیں۔ دھیرے دھیرے اس لیے کہ وہ کوئی بھی تحریر لکھنے میں جلد بازی نہیں دکھاتے جیسا کہ آج کل معمول بنا ہوا ہے۔ مضمون چاہے کسی بھی موضوع پر ہو وہ سنجیدگی کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ زیر تبصرہ کتاب سے پہلے ان کی ایک معروف کتاب ’’ نظریہ اجتہاد اور اقبال‘‘ قارئین سے داد و تحسین حاصل کر چکی ہے۔یہاں تک کہ جن کو اقبالیات سے ایک طرح کا بیر ہے انہوں نے اس کتاب کی پذیرائی کی۔

’’حب رسول ؐاور فکر اقبال ‘‘ دراصل بقول مصنف ان کے مضامین کا مجموعہ ہے جو انہوں نے مختلف مواقع پر سپرد قلم کیے ہیں۔ لیکن اس کتاب میں ان مضامین کو ایسے ترتیب دیا گیا ہے کہ اس کتاب نے مقالے کی جیسی صورت اختیار کی ہے۔جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے کتاب میں اقبال کی محبت رسولؐ پر روشنی ڈالی گئی ہے اور موجودہ دور میں فکر اقبال کی معنویت اور فکر ِ اقبال کے تناظر میں دین اسلام کی صحیح تشریح کو واضح کیا گیا ہے۔پہلے باب میں اقبال کے تصور عشق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس تناظر میں اقبال نے عشق کا جو مفہوم مراد لیا ہے یا عشق کے جس تصور کی پذیرائی کی ہے اس کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔دراصل اقبال کا تصور عشق عین اسلام ہے۔انہوں نے ہمیشہ اپنے کلام میں ایسے عشق کی وکالت کی جس سے ایک مسلمان ے اندر حرکت و عمل پیدا ہو۔فرماتے ہیں:

عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تمام

اس زمیں و آسما ں کو بے کراں سمجھا تھا میں

’علامہ اقبال اور حب رسول ‘ؐ والے باب کے تحت اقبال کے شاعرانہ کلام کے حوالے سے اُن کے عشق رسولؐ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اقبال قوم کی بدحالی کی سب سے بڑی وجہ یہ گردانتے ہیں کہ قوم منزل مقصود سے نا آشنا اور حضور ؐ سے بہت دور ہے۔اس قوم کے اندر یقین کا مادہ ختم ہو چکا ہے۔’’ذوق و شوق ‘ میں فرماتے ہیں:

تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پاگئے

عقل غیاب و جستجو، عشق حضور و اضطراب

دراصل اقبال نے اپنے کلام میں اس لادینیت کا پردہ فاش کیا ہے جس نے اُس وقت پورے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا اورموجودہ عہد میں اس نے پھر سے سر اٹھانا شروع کیا ہے۔ایسے میں اقبال کے افکار پرنئے سرے سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر مشتاق احمد کی یہ کوشش واقعی قابل تحسین ہے کہ اس باب میں زیادہ تر اقبال کے فارسی کلام کو حوالہ بنایا ہے جس سے آج کے بیشتر قارئین ناواقف ہیں :

’علامہ اقبال کا تصور رسالت‘ میں مصنف نے واضح کیا ہے کہ علامہ اقبال کس حد تک رسالت کو پوری کائنات کے لیے ایک نعمت سمجھتے تھے۔مصنف کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں:

" علامہ کا دعویٰ ہے کہ رسول محترم ؐ کے ذریعے دنیا تہذیب و تمدن سے آشنا ہوئی اور انسان غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہو کر انسانیت کے شرف اعلیٰ سے آگاہ ہوا۔۔۔ان کے زیر اثر قوموں اور نسلوں کے اخلاق و کردار یکسر بدل گئے "

وہ دانائے سُبُل، ختم الرُسُل، مولائے کُل جس نے

غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا

اقبال کے نزدیک رسولؐ کی محبت ہی ہے جس سے ایک مسلمان صحیح مقام تک پہنچ سکتا ہے اور دنیا اور آخرت میں بلند مقام حاصل کر سکتا ہے:

نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر

وہی قرآن، وہی فرقان، وہی یٰسین، وہی طہٰ

’علامہ اقبال کا تصور ملت و وطنیت ‘ والے باب میں مصنف نے اقبال کی شاعری اور خطبات کے تناظر میں یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اقبال کے یہاں مسلمانوں کے اتحاد اور قوم کی بنیاد دین ہونی چاہیے نہ کہ زبان، نسل، رنگ پر۔اور جو شناخت دین پر قائم ہوگی وہی پائدار ہوگی۔ ڈاکٹر مشتاق احمد کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں:
"انہیں(اقبال کو) اسی لیے اسلام اور قوم پرستی میں کھلا تضاد نظر آتا ہے اور وہ اسے غارت گر دین،اور اس کے پیرہن کو مذہب کا کفن بتاتے ہیں۔وہ اپنا نقطۂ نظر واضح کرتے ہوئے برملا کہتے ہیں کہ ملت اسلامیہ کی طاقت کسی وطن سے نہیں بلکہ توحید اور وحدتِ ملت سے ہے۔"

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

’عصر حاضر میں فکر اقبال کی معنویت‘ اس کتاب کا اہم باب ہے۔اس باب میں مصنف نے جدید عہد میں اقبال کی فکر کی معنویت پر روشنی ڈالی ہے۔ اقبال نے مسلمانوں کو ہمیشہ جدید و سائنسی علوم حاصل کرنے کی تلقین کی لیکن وہ چاہتے تھے کہ مسلمان یہ علوم حاصل کرکے مسلمان ہی رہے اور اُس کا دل حُبِ رسولؐ سے معمور ہو۔اقبال نے جہاں مغرب کی لادینی تہذیب کی نکتہ چینی کی ہے وہیں انہوں نے مغربی انسان کی با عمل اور جدوجہد سے پُر زندگی کی سراہنا بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ اقبال نے مسلمانوں میں اجتہاد پر بھی زور دیا۔اس سلسلے میں مصنف نے اقبال کی تصنیف ’’ تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ‘‘ کے دیباچے کا حوالہ دیا ہے:

"میرا مقصد ہے کہ مسلمانوں کا مذہبی فلسفہ اس انداز میں پیش کیا جائے کہ اسلام کی فلسفیانہ روایات کو بھی ملحوظ نظر رکھا جائے اور انسانی افکار کے جدید انکشافات و اختراعات سے بھی ثبوت مہیا کیے جائیں۔ہمارا فرض ہے کہ فکر انسانی کے ارتقا پر نظر رکھیں اور آزادانہ تنقیدی اسلوب قائم کریں۔"

یہ بھی پڑھیں:   ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی فکری جدجہد! - محمد عنصر عثمان

اس سلسلے میں مصنف کے یہ جملہ دلچسپی سے خالی نہیں اور جس پر بیشتر اسلامی مفکرین و دانشور بھی متفق ہیں کہ " تشکیل جدید کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ دور حاضر کے سائنسی و فلسفی علوم کی روشنی میں یہ اسلام کی شرح نو ہے۔"

’پیام اقبال‘ والے باب میں ڈاکٹر مشتاق احمد نے عالم انسانیت کے نام اقبال کے پیغام کا مختصر خاکہ کھینچا ہے۔ مصنف کا یہ کہنا بجا ہے کہ اقبال اسلام کو ایک عالمگیر امن و محبت کی تحریک جانتے ہیں اور اسے عالم انسانیت کی نجات کو ذریعہ خیال کرتے ہیں۔بقول مصنف "اقبال اخوت اور محبت و امن کے چراغوں کو روشن کرنے کا پیغام دیتے ہیں۔ انسان کو بیکران بنانا ان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہے اور یہی اسلام کا بھی مقصد ہے۔" ان ابواب کے علاوہ اس کتاب میں ’ داستان عشق رسولؐ کا ایک گمشدہ ورق‘، ’ کشمیر سے ایک گمنام خط‘، ’ علامہ اقبال کا تصور معراج نبی ؐ ‘، ’ مسلم معاشرے میں تنزل کے اسباب ‘، ’ فکر اسلامی کی تشکیل جدید، ’ مرید ہندی کے فکر و فن پر پیر رومی کے اثرات‘ جیسے ابواب قابل ذکر ہیں جن میں مصنف نے اقبال کے حب ِ رسول ؐ کو نئے تناظرات میں سامنے لانے کی منفرد کوشش کی ہے۔

ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی نے ’’ حب رسول ؐ اور فکر اقبال ‘‘ میں اقبال کو نہ صرف ایک اسلامی مفکر و دانشور کے بطور سامنے لانے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے بلکہ اقبال کو قوم کے ایک غمخوار کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔ اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے اور اس میں وزن و وقار پیدا کرنے کے لیے مصنف نے اقبال کے اردو شعری کلام کے علاوہ فارسی کلام اور خطبات سے بھی بھرپور استفادہ کیا ہے۔ وہ کوئی بھی بات تحقیق کی روشنی میں کہتے ہیں۔ اپنی بات کو ڈاکٹر مشتاق احمدآسان الفاظ میں کہنے کے ہُنر سے بخوبی واقف ہیں۔اُن کا اسلوب واضح اور سادہ ہے۔ان کی تحریر میں ایک طرح کی سنجیدگی اور منطقیت پائی جاتی ہے۔ دو باتوں کا ذکر کرنا یہاں ضروری سمجھتا ہوں، صفحہ ۵۴ پر صوفیوں کے اس قول کو ’ جب اللہ نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں تو اس نے کائنات پیدا کی‘ سے بیشتر علما متفق نہیں کہ یہ حدیث ہے بلکہ اردو شاعری یا تنقید سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی ہے، حالانکہ مصنف نے حواشی میں ا س کا ذکر کیا ہے لیکن بہتر یہی ہے اس قول کو اب ترک کی جائے تاکہ مستقبل میں غلط فہمی پھیلنے کاندیشہ ختم ہو جائے۔دوسرے یہ کہ مصنف نے کتاب میں خطبات سے کچھ انگریزی اقتباسات انگریزی میں ہی نقل کیے ہیں، اگر یہ اقتباسات صرف اردو ترجمہ میں ہوتے اور ’ پیغام ِاقبال ‘ والا باب اگر اختتام پر ہوتا تو زیادہ بہتر رہتا۔ مجموعی طور پر یہ کتاب اس موضوع پر ایک منفرد کتاب ہے جس میں مصنف نے اقبال کی فکر کو مختلف تناظرات میں قاری کے سامنے لانے کی بہترین اور قابل تحسین کوشش کی ہے۔امید قوی ہے اس کتاب سے فکرِ اقبال کی تفہیم کی نئی راہیں کھلیں گی۔