اور تم کیا جانو کیا ہے وہ لیلۃ القدر - عزیزہ انجم

فیس بک اور واٹس ایپ بھرے پڑے ہیں کہ آج جاگنے والی رات ہے۔ کیا پڑھیں؟ کتنا پڑھیں؟ یہ درود اتنی مرتبہ، اتنی رکعت فلاں نماز، ہر رکعت میں یہ سورتیں اتنی مرتبہ، سند اور صحت کے حوالے سے خالی پیغامات۔ اسے تو محض "جاگنے والی رات" بنا دیا، ایک مذہبی رات:

"اور تم کیا جانو کیا ہے وہ لیلۃ القدر"

میرے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جب ان کی چہیتی زوجہ نے پوچھا میں شبِ قدر کو پاؤں تو کیا کروں؟ تو نبی مہربانؑ نے فرمایا یہ دعا کیا کرو

اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي

یہ وہ رات ہے جس میں آسمانوں کی دنیا سے اس خاکی دنیا کے انسان کا رابطہ ہوا۔ آسمان کا سب سے برگزیدہ فرشتہ درمیان کےفاصلے مختصر کرتا ہوا زمین تک آیا اور رب کی وحی لایا ۔ وہ دنیا جو غیب کی دنیا ہے جس کے اسرار دکھائی نہیں دیتے، اس غیب کے پردے ہٹے آسمانی دنیا کی خبریں آنے کے سلسلے کا آغاز ہوا۔ انسانی بے چینیوں کے لیے قرار کا سامان پیدا ہوا، "الکتاب" اتاری گئی۔ قرآن مجید لوحِ محفوظ سے سمائے دنیا پر منتقل ہوا ۔ انسان کےلیے بحیثیت فرد اور بحیثیت قوم ابدی ہدایت کا انتظام ہوا اور زندگی کے قافلے کو نشان راہ عطا کیا گیا اور صراط مستقیم دکھائی گئی۔ غارِ حرا کے مکینؑ کو نبوت سے سرفراز کیا گیا، وہ جو اُمّی تھے، ان کے قلب مطہر پر قرآن اتارا گیا۔ علم کی کتاب کا پہلا سبق پہلا کلمہ پڑھایا گیا: اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّـذِىْ خَلَقَ

"اور تم کیا جانو کیا ہے وہ لیلۃ القدر"

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا "جو کھڑا رہا لیلتہ القدر میں ایمان و احتساب کےساتھ اس کے پچھلے گناہ بخش دیے گئے۔ یہ ایمان کیا ہے؟ دل کی زمین پر لگا یقین کا پودا، رب کی باتوں اور رب کے وعدوں پر یقین کا پودا، جو تیز ہوا سے جھکتا نہیں، مڑتا نہیں، گرتا نہیں، اور مضبوط ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ماہِ ذوالحج کی اہمیت اورخصائص - مفتی محمد مبشر بدر

اور احتساب؟ بچپن میں امتحان کےلیے جاتے وقت ابّا دو نصیحتیں کرتے تھے۔ سوال کا پرچہ اچھی طرح پورا پڑھ لینا۔ بعض جوشیلے طالب علم پورا پرچہ کر کے آجاتے ہیں اور صفحے کے دوسری طرف کے سوال دیکھتے ہی نہیں ۔ دوسری نصیحت یہ کہ ممتحن کو پرچہ واپس کرنے سے پہلے ایک مرتبہ کاپی کا اچھی طرح جائزہ لے لینا کہ کوئی غلطی کوئی ادھورا جواب جسے مکمل کیا جاسکے۔ احتساب زندگی کے پرچے کا جائزہ یہ ہے کہ کچھ رہ تو نہیں گیا کچھ غلط تو نہیں کردیا ؟

"اور تم کیا جانو کیا ہے وہ لیلۃ القدر"

تقریباً تیس سال پرانی رمضان کی ایک رات ایک صاحب عمل سینئر ڈاکٹر کےساتھ گزری۔ وہ ہم جیسے نادانوں کی مربی تھیں۔ ان کی ڈیوٹی بےہوشی کے شعبے میں تھی۔ مغرب کی اذان کےساتھ مختصر سی افطار سے روزہ کھولا ہی تھا کہ کال آگئی۔ پورے رات آپریشن تھیٹر میں مریض آتے رہے، بے ہوشی اور ہوش کے مرحلے سے گزرتے سرجری کے لاتعداد مریض۔ فجر ہونے میں کچھ ہی دیر باقی تھی۔ عشاء کے فرض اور وتر کی ادائیگی ایک یا دو سلائس ٹھنڈے قیمہ کےساتھ اور اذان کی آواز کے ساتھ جلدی جلدی حلق سے اترتی چائے۔ خدمت انسان بھی بندگی رب ہے۔ کوئی مریض کوئی بوڑھا کوئی چھوٹا بچہ رات کی عبادت کی تمنا پوری نہیں ہونے دیتا۔ جان رکھیں کہ اللہ سب کچھ دیکھتا ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس رات جبرئیل امین فرشتوں کی بڑی تعداد کےساتھ زمین پر اترتے ہیں۔

عبادت کا شوق اجر کی تمنا برحق، لیکن خیال رہے آپ کی شب بیداری آپ کی نمازیں آپ کا اعتکاف دوسرے فرد پر کام کا اتنا بوجھ نہ بڑھا دے کہ کل آپ کی عبادت میں اس تشنہ کام کا بھی حصہ نکل آئے ۔ سفر ہو یا حضر، کاموں میں شئیر کرنا۔ اپنے حصے کوئی نہ کوئی کام لینا کسی ذمّہ داری کو ادا کرنا بھی سنت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حج عبادت بھی تربیت بھی‎ - پروفیسر زید حارث

"اور تم کیا جانو کیا ہے وہ لیلۃ القدر"

Comments

Avatar

عزیزہ انجم

ڈاکٹر عزیزہ انجم 30 سال سے بطور فیملی فزیشن پریکٹس کر رہی ہیں۔ شاعری کا مجموعہ زیرِ طباعت ہے۔ سماجی اور معاشرتی موضوعات پر طویل عرصے سے لکھ رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.