کلاسرا کا دفاع ہم سب پر واجب ہے؟ - محمد اشفاق

کل شام اپنے استاد، پیشوا، مربی و محسن جناب محمد عامر ہاشم خاکوانی کی تحریر سے معلوم ہوا کہ جناب رؤف کلاسرا کے خلاف کوئی خوفناک سازش تیار ہے اور آنجناب سوشل میڈیا پر کسی گھناؤنی مہم کی زد پر ہیں۔ سوشل میڈیا پر تانک جھانک سے پتہ یہ چلا کہ کسی ہم عصر صحافی سے کلاسرا صاحب کی نوک جھونک ہوئی جس کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے ان پر تنقید یا ان کے دفاع کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

رؤف کلاسرا کا شمار ہمارے معروف صحافیوں میں ہوتا ہے۔ تفتیشی صحافت میں اپنے جھنڈے گاڑنے کے بعد انہوں نے کالم نگاری کا سلسلہ شروع کیا اور اس میں اپنی ایک منفرد شناخت منوا لینے کے بعد ٹی وی ٹاک شوز کی جانب آئے، اب تینوں میدانوں میں کلاسرا صاحب کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔

ہر معروف اور بڑی شخصیت کے جہاں بہت سے پرستار ہوتے ہیں وہیں کئی حاسدین اور پیشہ ورانہ رقابت رکھنے والے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں سیاسی تقسیم بہت گہری ہے، غیرجانبدار صحافی اب ایک نایاب اور معدوم ہوتی مخلوق بن کر رہ گئے ہیں اس لئے ملک میں سیاسی بنیادوں پر بھی معروف صحافیوں کے پرستاروں اور ناقدین کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اس لئے جہاں آپ پر تعریفوں کے ٹوکرے لٹانے والے ہزاروں میں ہوں وہاں چند درجن یا چند سو افراد کی تنقید یا مخالفت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ کلاسرا صاحب مگر اس معاملے میں بہت حساس واقع ہوئے ہیں۔

ڈیڑھ دو برس قبل ایک دوست نے ایک معروف ویب سائیٹ پر کلاسرا صاحب پر ایک مضمون لکھا جس میں کم و بیش یہی باتیں تھیں جو مبشر زیدی صاحب نے اپنے ٹویٹس میں دہرائیں۔ مضمون شائع ہونے پر کلاسرا صاحب نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جس پر ویب سائیٹ کے محترم مدیر نے وہ مضمون فوراً ہٹا دیا اور کلاسرا صاحب سے معذرت بھی کی۔ صاحبِ مضمون میرے ذاتی دوست تھے اس لئے فیس بک پر میں نے بھی ان کی حمایت میں ایک سخت پوسٹ لکھ ڈالی۔ کلاسرا صاحب اور میرے ایک مشترکہ فیس بک دوست نے یہ معاملہ کلاسرا صاحب کے سامنے رکھا جس پر انہوں نے تفصیلاً اپنی صفائی پیش کی جو ان مشترکہ دوست کے توسط سے مجھ تک بھی پہنچ گئی۔ معلوم ہوا کہ کلاسرا صاحب بہرحال اس معاملے میں بے قصور تھے، ان پر یہ الزامات غلط اور بے بنیاد تھے۔ اب بھی انہی پرانے الزامات کو دہرایا جا رہا ہے جو کہ یقیناً زیادتی ہے۔ " آپ جو بات ثابت نہیں کر سکتے وہ بات آپ کو کرنی بھی نہیں چاہیے"، مگر کاش اس سنہری اصول پر کلاسرا خود بھی عمل پیرا ہوتے۔

ایک مشہور لطیفے میں گواہ بڑھیا جب وکیل صفائی اور وکیل استغاثہ دونوں کے بچپن سے جوانی تک کے کرتوت بے نقاب کر ڈالتی ہے تو جج صاحب دونوں وکلاء کو بلا کر کہتے ہیں اگر میرے بارے میں بڑھیا سے کچھ پوچھا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔ ہماری صحافت کی وہ بڑھیا رؤف کلاسرا ہیں۔ ان سے جو بھی بحث کرے، یا ان کی کال اٹینڈ نہ کرے، یا ان پر تنقید کرے، کلاسرا اپنے اگلے پروگرام یا اگلے کالم میں اس کا کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیتے ہیں۔

شاید ہی رؤف کلاسرا کا کوئی ایسا کالم ہو، کوئی ایسا پروگرام ہو جس میں اربوں روپے کا کوئی سکینڈل بے نقاب نہ ہوا ہو، ملک کا شاید ہی صف اول، دوم یا سوم کا کوئی سیاستدان ایسا ہو جس کے رؤف کلاسرا نے لتے نہ لئے ہوں۔ مگر چونکہ ہمارے ملک میں ہر اخلاقی، معاشی اور معاشرتی برائی کی وجہ، منبع اور جڑ سیاستدان ہیں اس لئے ان پر لگائے جانے والے ہر الزام کی صداقت کو یہی کافی ہے کہ الزام لگانے والا رؤف کلاسرا ہے۔ مگر کوئی ناہنجار اگر رؤف کلاسرا پر الزام لگائے تو پھر کلاسرا کا دفاع ہم سب پر واجب ہے۔ عامر بھائی کے حکم پر میں نے تو جناب کے دفاع کیلئے کمر کس لی تھی مگر کلاسرا صاحب کا آج کا کالم پڑھ کر یہ نیک ارادہ ملتوی کرنا پڑا۔

وہ شخص جس کا قلم اور زبان شمشیر بے نیام بن کر سیاستدانوں کی گردنیں کاٹتی رہتی ہے، خود پر ایک دن سوشل میڈیا میں ہونے والی تنقید بھی برداشت نہ کر سکا اور وہ سنہرا وقت یاد کر کے پچھتانے لگا جب اسے برطانیہ کی خنک آب وہوا میں مبلغ چار ہزار پونڈ سٹرلنگ نصف جن کے آپ کو پتہ ہی ہے کتنے ہوتے ہیں، کی جاب آفر ہوئی مگر وطن کی محبت میں کلاسرا صاحب نے یہ آفر ٹھکرا دی (اور ہم ایسے کم ظرف اور قدر ناشناس لوگ ہیں کہ اس ہیرے پر تنقید کر رہے ہیں، یقیناً ہمیں چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے تھا) یہ اور بات کہ وہ آفر بھی ایک پاکستانی میڈیا گروپ کی جانب سے ہی ہوئی تھی اور اب بھی کلاسرا صاحب پاکستانی میڈیا سے اتنا کما رہے ہیں جس پر وہ مبلغ چھپن لاکھ روپے سالانہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ یہ اندھی کمائی روزانہ بلاناغہ سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھال کر ہو رہی ہے۔ اتنا تو تسلیم کیجئے کہ شریف برادران، زرداری، عمران خان اور ان کے ہم نوا بہرحال آپ سے زیادہ حوصلے اور ظرف والے لوگ ہیں جنہیں آپ جیسے سینکڑوں اور ہم جیسے لاکھوں روزانہ سینگوں پر اٹھائے رکھتے ہیں مگر وہ یہ ملک چھوڑنے کا سوچتے بھی نہیں کہ بہرحال ان کی اندھی کمائیاں بھی یہیں سے ہو رہی ہیں۔

جس طرح کی تفتیشی صحافت آپ کرتے ہیں، جیسے کالم آپ لکھتے ہیں اور جس طرح کے ٹاک شو آپ کے ہوتے ہیں، اس وسیع تجربے کے ساتھ ذرا برطانیہ جا کر قسمت آزمائیے، اول تو کوئی چیتھڑا اخبار بھی آپ کو رکھنے کو تیار نہیں ہوگا، اور اگر کسی عاقبت نااندیش نے یہ رسک لے بھی لیا تو اس ادارے اور آپ کی بقایا عمر عدالتوں میں ہرجانے کے دعوے بھگتاتے گزرے گی۔ اس لئے بہتر یہی ہے صبر اور شکر کے ساتھ پاکستان ہی میں رہئے، کہ یہاں صرف سیاسی مافیا ہی نہیں، صحافتی مافیا بھی پایا جاتا ہے، وکلاء اور ڈاکٹرز کا مافیا بھی موجود ہے اور تاجروں اور صنعتکاروں کا بھی، اور آپ سب کے دفاع کی ذمہ داری ہم عوام پہ واجب ہے، ہمارے ہوتے آپ کو فکر کاہے کی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com